Monday , September 26 2022
Home / Archive / چین اور امریکہ کی مخاصمت

چین اور امریکہ کی مخاصمت

Listen to this article

چین اور امریکہ کی مخاصمت

افغانستان، عراق اور شام سے پسپائی پر امریکا نے یہ اعلان کیا تھا کہ اب اُس کی تمام توجہ ایشیا پیسفک پر مرکوز رہے گی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ چین نے تین ایسے منصوبے شروع کیے جو پوری دنیا کو اپنے دائرے میں لارہے تھے لیکن اس کا اصل مرکز پیسفک تھا، وہ اس طرح کہ پیسفک میں رُکاوٹ کی صورت میں متبادل راستہ موجود رہے۔ اصل میں پہلے چین کی زیادہ تر تجارت بحیرہ جنوبی چین کے ذریعے ہوتی تھی جہاں امریکا اُس کا گھات لگائے بیٹھا رہتا ہے۔ اس بنا پر چین نے متبادل راستوں کو تعمیر کرنے کا اہتمام کیا۔ چین کامقصد ہے کہ معاشی طور پر اپنے آپ کو بحیرہ جنوبی چین سے بے نیاز کرلیا جائے اور اسے صرف طاقت کے توازن کے لیے استعمال کیا جائے جو کہ وہ کررہا ہے۔
بیلٹ اینڈ روڈ
چین کا سب سے بڑا منصوبہ بیلٹ ایند روڈ کا تھا جس کا مقصد پرانی شاہراہ ریشم (Silk Route)کو نئے انفراسٹرکچر کے ذریعے تعمیر کرنا ہے تاکہ یورپ تک رسائی آسان ہوسکے۔یہ امریکا اور یورپ کی نیندیں حرام کردینے والی بات تھی کیوں کہ ا س کا مرکز کوئی ایک خطہ یا علاقہ نہ تھا بلکہ پوری دنیا تھی اور پوری دنیا کو اس طرح سے جوڑے جانے کا منصوبہ تھا کہ اس میں شامل تمام ملک ایک دوسرے کی معاشی مجبوری بن جائیں تو پھر کوئی طاقت اسے ختم نہیں کرسکتی۔
سی پیک
سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ کا اہم ترین منصوبہ ہے کیوں کہ یہ چین کو بحیرہ جنوبی چین سے بالکل بے نیاز کردیتا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین سے خلیج تک آنے میں چین کو 13ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا اور وہ بھی بحری جہاز کے ذریعے جب کہ سی پیک کی بدولت یہ راستہ خنجراب تک 3ہزار کلومیٹر ہے اور شنگھائی تک 65سو کلومیٹر ہے وہ بھی سڑک کے ذریعے۔ اس حوالے سے یہ بیلٹ اینڈ روڈ کے سلسلے کی اہم ترین کڑی ہے اور امریکا ہر پل اسے رول بیک کرنے کے لیے پاکستان پر دبائو ڈالتا رہتا ہے۔
موتیوں کی لڑی (String of Pearls)
دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے دونظریات مشہور تھے ان میں ایک زمینی نظریہ Heartland Theory تھا اور دوسرا کنارے کا نظریہ Rimland Theory تھا۔ پہلے نظریے کے مطابق جو وسط ایشیا کے اردگرد کے علاقے پر قابض ہوگا وہ دنیا پر قابض ہوگا اور دوسرے نظریے کے مطابق جو بحرہند اور بحرالکاہل کے کناروں پر قابض ہوگا وہ دنیا پر قابض ہوگا۔ چین نےدونوں نظریات کو اپنایااور یہ اس کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ہے یعنی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو ہرٹ لینڈ اور رم لینڈ نظریے کا مجموعہ کہا جاسکتا ہے۔
البتہ ساحلوں پر اس کی توجہ زیادہ ہے۔اس کے لیے چین نے بحرہند و بحرالکاہل کے ساحلوں پر اپنے قدم جمانے شروع کردیے ہیں۔ اس پر امریکا نے باقاعدہ ایک اصطلاح وضع کی جسے موتیوں کی لڑی (String of Pearls) کہا جاتا ہے اوراس کے مطابق چین بحیرہ جنوبی چین سے لے کر بحرہند اور افریقہ کے ساحلوں تک اہم مقامات پر اپنی سیادت کو قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس میں خاص طور پر انڈیا نشانہ بنتا ہے جو دوسری صورت میں بحر ہندکا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔
امریکا کا ردعمل : جی سیون کے منصوبے
امریکا نے اپنی سیادت کو پیسفک میں قائم کرنے کے لیے جی سیون کے پلیٹ فارم سے ایک منصوبہ پیش کیا جسے دوبارہ نئی دنیا آباد کرنا (Build Back Better World)کہتے ہیں۔اسے مختصراً بی تھری ڈبلیو (B3W) جو پھر BBBWکی مختصر شکل ہے۔ یہ منصوبہ جی سیون کے 2021ء کے46ویں اجلاس میں پیش کیا گیا جب امریکا افغانستان سے اپنی بساط لپیٹ رہا تھا۔ یہ منصوبہ 400کھرب ڈالر کی شراکت داری تھا، لیکن یہ کامیابی سے نہیں چل سکا اور صرف 6ملین ڈالر کا ہی بندوبست کیا جاسکا۔ یہ منصوبہ اتنا گیا گزرا تھا کہ جی سیون کے اگلے ہی اجلاس میں ایک اور منصوبہ پیش کردیاگیا جسے پارٹنرشپ فار گلوبل انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ (PGII) کا نام دیا گیا۔ لیکن یہ بھی کوئی عملی شکل اختیار نہ کرسکا اور جی سیون کے 2022ء کے اجلاس میں پارٹنر شپ فار بلیو پیسفک کو پیش کردیا گیا۔
کواڈ اور ائی پیف: مشرق میں نیٹو کی توسیع
بی تھری ڈبلیو اور پی جی آئی آئی اصل میں چین کی طرح دنیا میں سرایت کرجانے والے منصوبے ہیں۔ ایک اسی طرح کا منصوبہ یورپی یونین کا بھی ہے جسے گلوبل گیٹ وے کانام دیا گیا۔ اس کا مقصد بھی یورپ کے فکرکو ساری دنیا میں توسیع دینا ہے۔ امریکا نے خالصتاً چین کا مقابلہ کرنے کے لیے جو اتحاد قائم کیے وہ کواڈ (Quad) اور آئی پیف ہیں۔ ان میںامریکا کے ساتھ آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا شامل ہیں جو خطے میں ایک فوجی موجود گی بھی رکھتے ہیں۔ ان میں خاص طورپر آسٹریلیا اور انڈیا چین سے ایک خاص قسم کی حریفانہ کشاکش رکھتے ہیں اور ان میں انڈیا کا عملاًچین کے ساتھ ٹکرائو ہوچکا ہے اور اس وقت انڈیا خطے میں چین کے ساتھ امریکاکی پراکسی جنگ لڑ رہاہے۔
جزائر سلیمان: چین کا پیسفک میں نیا گڑھ
بحرالکاہل میں موجود جزائر سلیمان اس سے قبل امریکی بلاک میں شامل تھے اور تائیوان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے لیکن 2019ء میں اُنھوں نے چین کی طرف آنا پسند کیا اور اس کی پالیسیوں پر عمل کرنے لگے۔ چین اور جزائر سلیمان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جسے کامن ڈویلپمنٹ وژن کا نام دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق چین جزائر سلیمان میں ایک نیول بیس اور کئی فوجی اڈے قائم کرنے کا پروگرام رکھتا ہے۔ جزائر سلیمان کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ وہ بحرالکاہل کی تمام بحری ٹریفک کو پریشان کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے بحرالکاہل کے مزید دس جزائر سے معاہدے کیے ہیں اور اُنھیں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیاہے۔ چین ان منصوبوں میں معاشی کے ساتھ فوجی سٹرکچر بھی تعمیر کررہا ہے۔ اس طرح پیسفک بڑی تیزی کے ساتھ ایک نیا محاذ جنگ بنتا چلا جاررہاہے۔
تائیوان: امریکا کی پیسفک میں عسکری وجہ
البتہ پیسفک میں امریکا نے چین کو پریشان کرنے کے لیے تائیوان کا میدان رکھا ہوا ہے اور اس کو بھرپور سفارتی اور عسکری حمایت پہچا رہا ہے۔ تائیوان کے ساتھ جنوبی کوریا اور جاپان بھی امریکا کا دم بھرتے ہیں لیکن جو چین کی ناک کے نیچے ہے وہ محاذ تائیوان کا ہے۔ حالیہ سالوں میں اس مسئلے میں تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے اور تادم تحریر یہاں امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کی آمد پر محاذ گرم ہوچکا ہے اور خطے پر جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔
چینی اور امریکی صدور میں فونک گفتگو
نینسی پلوسی کے دورے سے قبل امریکی اور چینی صدور میں فونک گفتگو ہوئی جو بہت طویل تھی۔ دوگھنٹے 17منٹ کی گفتگو میں امریکا کے دیگر عہدے دار بھی شامل تھے۔ اس میں جہاں دیگر شعبوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی وہیں ایک دوسرے کو براہ راست خبردار بھی کیا گیا۔ چینی صدر نے واضح طور پر امریکا کو پیغام دیا کہ تائیوان میں دخل اندازی کرکے گویا وہ آگ سے کھیل رہا ہے اور’’ جو آگ سے کھیلتا ہے وہ راکھ ہوجاتا ہے‘‘۔ یہ فقرہ پہلے امریکا کو بالواسطہ طور پر کہا جا تا تھا لیکن اس دفعہ اُسے براہ راست سنا دیا گیا۔ دوسری طرف امریکا نے بھی واضح طو رپر کہا کہ وہ کسی صورت بھی تائیوان کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔مزید کشیدگی اُس وقت بڑھی جب تائیوان نے اس گفتگو کے بعد امریکا کا شکریہ ادا کیا کہ اُس نے اس کا مقدمہ چین کے خلاف لڑا ہے۔
امریکی اور چینی رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی جب دونوں ملکوں کے درمیان عالمی مسابقت، انسانی حقوق، عالمی صحت اور اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات کے ساتھ ہی کشیدگی بھی پائی جاتی ہے۔ اس ماحول میں چین اور امریکہ ایک ساتھ کام کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حالیہ پیش رفت: نینسی پیلوسی کا دورہ تائیوان
2 اگست 2022ء کو ایسا سماں تھا جیسے تائیوان میں امریکا کی پوری فوج اُتر آئی ہو۔ امریکی نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے جہاز نے تائیوان میں ایسے لینڈکیا جیسے کوئی ایمرجنسی نافذ ہوکیوں ائیرپورٹ کی بتیاں تک گل کردی گئی تھیں۔ پچھلے پچیس سال میں یہ کسی اعلی امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ ہے اس لیے اس کو اتنی اہمیت دی جارہی ہے۔
یہ شاید امریکا اور چین کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز ہو لیکن یہ دور جنگ وجدل پر مبنی نظر آتا ہے۔ یہ تائیوان کا اس حوالے سے چوتھا بحران قرار دیا جارہا ہے جب چین اور امریکا جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
یہ دورہ پورے ایشیا پیسفک کا تھا اور نینسی پلوسی تائیوان کے علاوہ سنگاپور، ملائشیا، جنوبی کوریا اور جاپان بھی گئیں۔اس کا مطلب ہے کہ ایشیا پیسفک میدان جنگ بن سکتا ہے۔ چین نے بارہا منع بھی کیا تھا کہ اس طرح کی کوئی حرکت نہ کی جائے لیکن امریکا بھی اس سے باز نہیں آیا۔
نینسی پلوسی کے دورے سے قبل شنگھائی میں فوڈن یونیورسٹی کے امریکی علوم کے مرکز کے ڈائریکٹر وہ زنباؤ نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر نینسی پلوسی تائیوان جاتی ہیں تو آبنائے تائیوان میں ایک بڑا بحران آئے گا جو ماضی میں 1995ء اور 1996ء کے بحران سے زیادہ سنگین ہو گا۔‘اُن کے مطابق اس کی بڑی وجہ چین کی فوجی صلاحیتیں ہیں جو 26 سال پہلے سے کہیں زیادہ ہیں(بی بی سی)۔ امریکا کے سیاسیات کے ماہر مائیکل بیکلے نے امریکی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نینسی پیلوسی کے دورے کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ امریکا ابھی زندہ ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کا خیال رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔
البتہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دورے پر نینسی پیلوسی کو نہایت سست کہا ہے اور کہا کہ یہ عورت فساد برپا کرنا چاہتی ہے اور امریکا کی طرف سے یہ حرکت ایک غیر محتاط رویہ ہے جس سے بچنا چاہیے۔
وائٹ ہائو س کے ترجمان نے کہا کہ چین اس دورے پر خواہ مخواہ شور مچا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق امریکا بحرالکاہل میں اپنے مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے اور وہ بحرالکاہل کو کسی ایک طاقت کا باج گزارہونے نہیں دے گا اور اس ضمن میں ہی وہ تائیوان کی سفارتی اور فوجی حمایت جاری رکھے گا کیوں کہ تائیوان آزار رہنے کا حق مانگتا ہے اور امریکا اسے اس حق سے محروم ہونے نہیں دےگا۔
تائیوان: ایشیا کا یوکرین
دوسری طرف چین نے اس طرف فوری ایکشن لیتے ہوئے تائیوان کی ناکا بندی کردی ہے اور اس کے اردگرد اپنی فوجیں متعین کردی ہیں۔چین نے سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے امریکا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے البتہ اُس نے تائیوان کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنالیا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ تائیوان دوسرا یوکرین ثابت ہوسکتا ہے۔ جس طرح روس نے مغرب کے خلاف بالواسطہ جنگ یوکرین پر حملہ کرکے کی اسی طرح چین بھی امریکا کے مفادات کو تائیوان کے ذریعے نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
آبنائے تائیوان میں چین کی جنگی مشقیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اس کارروائی کو جنگی مشقوں کا نام دے دیا ہے اور ان جنگی مشقوں کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کے لیے بھی ایک جگہ متعین کردی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ مشقیں آبنائے تائیوان میں کی جارہی ہیں جسے تائیوان اپنی حدود کی کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ چین نے ان مشقوں کے لیے تائیوان کے گرد چھ زون قائم کیے ہیں اور ان میں سے کچھ تو تائیوان کے 20 کلومیٹر تک کے فاصلے پر ہیں۔5اگست کو تقریباً 10 چینی بحری جہازوں نے مختصر مدت کے لیے آبنائے تائیوان میں میڈیئن لائن عبور کی۔ یہ وہ لکیر ہے جو اس آبنائے تائیوان کو تائیوان اور چینی سرزمین کے درمیان تقسیم کرتی ہے۔
اِس کے علاوہ چین نے تائیوان کے جنوب مغربی اور شمال مشرقی ساحلوں کے قریب کئی ڈونگ فینگ میزائل داغے تھے۔
دوسری طرف تائیوان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے بھی اپنے دفاع کے لیے اپنا میزائل سسٹم آن کردیا ہے اور وہ کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
چین کی دھمکی
چین نے امریکا اور تائیوان کو خبردار کرتے ہوئے ’’ژن ید جن ید آئی‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جو چین مقابلے کے وقت استعمال کرتا ہے۔ یہ اصطلاح ژن جن یدآئی جس کا وزارتِ خارجہ نے استعمال کیا اس کا مطلب ہے ہر قسم کی صورت حال کے لیے چوکس رہنا۔ چوکس رہنے کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ فوج کی لام بندی کی جائے بلکہ فوجی رسد کے تمام وسائل تیار رکھنے کے علاوہ ممکنہ جنگ کے لیے فوجیوں کی صف بندی کرنا اور اسلحہ و بارود اگلے مورچوں تک پہنچا دینا ہے۔
اگر تاریخ کو سامنے رکھیں تو چین نے ماضی میں یہ اصطلاحات دو مرتبہ استعمال کی ہیں۔’چین کے سابق صدر ژون لائی نے 50 کی دہائی میں کوریا میں امریکی جارحیت اور امداد کو روکنے کے لیے امریکا کو خبر دار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے 38 متوازی لائن عبور کی تو چین ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گا۔‘اسی طرح 1964ء میں چین کی حکومت نے خلیج ٹونکن کے واقعے کے بعد امریکی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف ویتنام کی طرف پیش قدمی نہ کرے۔
چین اس سے قبل بھی کئی دفعہ خبردار کرچکا ہے کہ تائیوان کو آزاد کروانے کی کسی قسم کی کوشش چین کو مجبور کردے گی کہ وہ اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس نظریے کے مطابق چین کا تائیوان کی ناکا بندی کرنا اس کے جنگی عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

Check Also

MPT One Paper 25-09-2022

Listen to this article MPT One Paper 25-09-2022 Jahangir’s World Times E-mail: jwturdubazar@gmail.com Ph: 0302 …

Leave a Reply

%d bloggers like this: