Monday , December 6 2021
Home / Archive / چین امریکا سرد جنگ میں خلیجی ممالک کا امتحان

چین امریکا سرد جنگ میں خلیجی ممالک کا امتحان

چین امریکا سرد جنگ میں خلیجی ممالک کا امتحان

امریکا اور چین کے درمیان جاری سردجنگ کے تناظر میں دنیا بھر کے ممالک اپنی اپنی سٹریٹجی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ جنوبی ایشیائی بالعموم اور خلیجی ممالک بالخصوص بھی اِن دو عالمی طاقتوں کے حوالے سے خطے میں اپنے مختلف مقاصد اور ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اپنی حکمت عملی طے کررہے ہیں۔ اُنھیں بخوبی اندازہ ہے کہ اِس صورت حال میں ذرا سی غلطی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔ اِن دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان سردجنگ میں خلیجی تعاون کونسل کا کردار دیگر ممالک سے زیادہ اہم ہے۔ امریکا نے اِس خطے میں ایک مخصوص پلان کے تحت عراق کویت جنگ کا جال جس کامیابی کے ساتھ پھیلایا، آج اُسی کے نتیجے میں وہ اِن ممالک کی سکیورٹی کے معاملات میں براہ راست شامل ہو چکا ہے۔ خلیج کی اِس حماقت کی بنا پر اِن ممالک کو امریکی افواج کی موجودگی کے لیے کثیر سرمایہ صرف کرنا پڑ رہا ہے۔ اِس پر مستزاد سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں سمیت قطر کی ناکا بندی کرکے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی۔ اِن ممالک کو پورا یقین تھا کہ قطر چند ہفتوں میں پرانی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے گا لیکن قطر نے بہترین سیاسی حکمت عملی سے اِس تمام پروگرام کو سبوتاژ کرکے نہ صرف خود کو منوایا بلکہ اِن تمام ممالک کو دوبارہ قطر کے ساتھ تعلقات اُستوار کرنے پر مجبور کردیا۔ اِن حالات کے دوران بھی امریکا نے نہ صرف قطرکے اربوں ڈالرکے سرمایہ سے تیارکردہ بحری اڈے پراپنی افواج کوتعینات کررکھاہے بلکہ اپنی موجودگی سے قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور سعودی عرب میں اپنے مضبوط پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ اِس طرح اِن ممالک میں امریکا اپنا گہرا اثر و رسوخ قائم کر چکا ہے۔
امریکی پالیسی کی ناکامی کی بازگشت کے باوجود سابقہ صدر ٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ پالیسیوں سے بائیڈن انتظامیہ نے بھی اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں نہ صرف مزید کامیابی حاصل کی ہے بلکہ سعودی عرب اور اسرائیل تعلقات کے معاملے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے گو کہ اِسے تاحال ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ امریکا نے خطے میں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے اپنی تزویراتی حکمت عملی سے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین کے مابین جاری سرد جنگ کو امن اور اعتمادکی فضا میں کامیابی سے تبدیل کر لیا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکا اور چین دونوں ہی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے وسائل پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ وبا کی صورت حال سے پہلے چین نے اپنی ضرورت کا 28 فیصد تیل خلیجی ممالک سے حاصل کیا۔ مئی 2020ء میں سعودی عرب نے اپنے تیل کا تین تہائی حصہ صرف چین کو برآمد کیا۔ اِسی طرح عراق نے بھی تیل کا ایک بڑا حصہ چین کو برآمد کیا تھا۔ اپنی معاشی ضرورت کے تناظر میں خلیجی ممالک کے لیے چین کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں۔ خاص طور پر موجودہ معاشی صورت حال اور عدم استحکام میں اِن تعلقات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔
اِس وقت امریکا اور چین کے درمیان تنازع کی ایک اہم وجہ 5 جی نیٹ ورک ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے 53 اتحادی ممالک کے ساتھ ’’کلین نیٹ ورک انیشی ایٹو‘‘ کا آغار کیا تھا جس کا مقصد چین کو ٹیکنالوجی کے میدان میں تنہا کرنا اور اِس کی بڑھتی ہوئی تکنیکی ترقی اور اثر و رسوخ کو روکنا تھا۔ اِس حوالے سے امریکا نے اسرائیل پر بھی زور دیا تھا کہ وہ چین کے تکنیکی وسائل کے استعمال سے اجتناب کرے۔ امریکا اپنے اتحادیوں کو چین کے خلاف تکنیکی جنگ کے لیے تیار کرنے کے بعد اب خلیجی ممالک پر اِس حوالے سے دبائو بڑھانے کی تیاری کررہا ہے۔ کویت میں موجود چینی سفارت کار اور اُن کے امریکی ہم منصب کے درمیان ٹوئٹر پیغام کے تبادلے کو امریکا اور چین کے درمیان جاری سرد جنگ کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
امریکا میں دفاعی و سیاسی تجزیہ نگاروں نے بائیڈن حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اُن کو اب اپنی خارجہ پالیسی چین کے تناظر میں ترتیب دینا ہوگی جب کہ امریکا کو خلیجی ممالک میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور دنیا بھر میں اپنی افواج کی موجودگی کے حوالے سے ازسرنو منصوبہ بندی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ امریکا کو اپنی نئی تزویراتی منصوبہ بندی کے تحت انڈوپیسیفک خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اپنی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیوں کا آغاز کردینا چاہیے۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ بائیڈن کی قیادت میں چین کے حوالے سے امریکا کی سابقہ پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی جس کا اندازہ جوبائیڈن کے ایک حالیہ جارحانہ بیان سے لگانا مشکل نہیں جس میں اُنھوں نے چین کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکا‘‘ اکیلے چین کو عالمی معاشی کیک کھانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ امریکا دیگر ممالک کے ساتھ شراکت اور تعاون کو چین کے تناظر میں ترتیب دے گا اور خلیجی ممالک میں اپنی غیرمعمولی توجہ اور موجودگی کو برقرار رکھے گا۔ تاہم امریکا دنیا بھر میں اپنی عسکری صف بندی کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں کر سکتا ہے۔‘‘
امریکا یہ جان چکا ہے کہ سی پیک پاکستان کے بہترین مفاد کا منصوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کے لیے بھی گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ عظیم منصوبہ دشمن قوتوں کے سینے پر سانپ بن کر بھی لوٹ رہا ہے اور وہ سی پیک معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں، بالخصوص امریکا ہر حال میں اِس پراجیکٹ کو ناکام کرنے کے لیے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو استعمال کر رہاہے۔ اب یہ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے مگر اِس کے خلاف سازشوں کے جال متواتر بنے جارہے ہیں۔ گزشتہ 6 سال کے دوران سی پیک کے حوالے سے سست ہونے والی رفتار میں ایک مرتبہ پھر نمایاں پیش رفت شروع ہو چکی ہے۔ 34 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اِن کے نتیجہ میں لوکل ٹرانسپورٹیشن، انفراسٹرکچر اور پاور سپلائی میں زبردست بہتری آئی ہے۔ اِس کے علاوہ کورونا کے باوجود 75 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں اور پاکستان کی جی ڈی پی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی پیک نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اِس سے عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہونے کے روشن امکانات ہیں۔ اِن حالات میں یہ افواہ بھی گردش کرتی رہی کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر افغانستان سے اپنی فضائی فورس کے لیے پاکستان سے شمسی ائیر بیس کے علاوہ دیگر ہوائی اڈے مانگے ہیں تاہم اِن معاملات کی کوئی ٹھوس تصدیق یا تردید تاحال نہیں ہو سکی۔
اُدھر ہر طرف سے ناکامی کے بعد اب امریکا نے چین کو بحیرہ جنوبی چین میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور ساتھ ہی اِس کے اردگرد موجود تمام ممالک انڈونیشیا، برونائی، چاپان، فلپائن، تائیوان، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور ویتنام کو چین کے خلاف اُکسانے میں کامیاب ہوگیا ہے بلکہ آسٹریلیا تو یہاں اپنے ڈیسٹرائٹر اور ایئر کرافٹ کیریئر لے کر گشت کر رہا ہے۔ بھارت پر بھی اِس مطالبے کے بعد کڑا وقت آن پہنچا ہے کہ وہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا (Strait of Malacca) کو چین کے بحری جہازوں کے لیے بند کر دے۔ یاد رہے کہ چین کی زیادہ تر تجارت آبنائے ملاکا کے ذریعے ہوتی ہے اور اِس کا 80 فیصد تیل اِسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس اپنی تجارت کے لیے صرف گوادر بچتا ہے جو کہ پاکستان کے لیے بہت ہی خوش آئندبات ہے۔ دوسری طرف بھارت جانتا ہے کہ اگر اُس نے آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کی تو جواب میں چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کرکے سلی گڑی کوریڈور جو کہ بھارت کی سات ریاستوں آسام، ناگا لینڈ، اروناچل پردیش، میگھالیا، میزورام، منی پور اور تری پورہ کو باقی بھارت سے ملاتا ہے، قبضہ کرکے اِن سب کو بھارت سے علیحدہ کر دے گا۔ بھارت یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اور اِسی لیے کافی حد تک خاموش ہے۔ اب بھارت نے اگر تبت کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور دلائی لامہ کو پوری دنیا میں لے کر جانے کا پروگرام بنایا تو مغرب ایک مرتبہ پھر امریکا کے کہنے پر اقوام متحدہ میں اِس کارڈ کی پشت پناہی کرے گا۔ اِس کے نتیجے میں چین بھی ہمیشہ کی طرح پاکستان سے مل کر کشمیر کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور اِس مقصد کے لیے وہ تمام وسائل بروئے کار لائے گا جو کبھی مغرب اور امریکا نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے استعمال کیے تھے۔ یوں ہزاروں میل دور بیٹھے مغرب اور امریکا کے لیے بھارت کو اِس مشکل سے نکالنا ناممکن ہو جائے گا کیوں کہ چین اور پاکستان کئی اطراف سے بھارت کا گھیرا تنگ کردیں گے۔ روس بھی، جو کہ بھارت کی امریکا دوستی کے جواب میں اُدھار کھائے بیٹھا ہے، اپنا حساب برابر کردے گا کیوں کہ امریکا کے کہنے پر مودی نے روس سے اسلحہ خریداری کے معاہدے پر دستخط کے باوجود فرانس سے رافیل طیارے خریدے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس ستمبر سے سی پیک کے خلاف بھارتی اور امریکی سازش کے توڑ کے لیے چین ماؤنٹ ایورسٹ پر فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کے ساتھ لداخ میں پانچ ہزار سے زائد فوجی تعینات کر چکا ہے۔ گلوان ندی (لداخ) سمیت تین مختلف مقامات پر چینی فوج 4-5 کلومیٹر تک LAC سے آگے مورچہ بند ہوچکی ہے۔ صرف گلوان ندی کے مقام پر چین نے 100 سے زائد ٹینٹ لگا دیے ہیں جہاں بھارتی میڈیا کے مطابق چینی فوج زیر زمین بنکرز بنا چکی ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ برس کچھ بھارتی فوجیوں کو گرفتار کرکے چین بڑا واضح پیغام دے چکا ہے۔ لداخ اور سکم کی سرحد پر چینی فوج کی نقل و حرکت سے بھارت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔ چینی افواج ڈربوک شیوک کی اہم شاہراہ سے صرف 250 کلومیٹر دور ہیں۔ بھارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹ کے مطابق سرحد پر چینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ بھارت نے پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیا ہے کہ چین لداخ کے 38 ہزار مربع میل رقبے پر قبضہ کر چکا ہے۔ اِس کا اعتراف خود بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھارتی پارلیمان میں کرچکا ہے۔ یاد رہے کہ لداخ کا کل رقبہ 59146 مربع میل ہے۔
دوسری طرف چین نے ایران کے ساتھ 400 بلین ڈالر کا تجارتی سمجھوتا کر کے اِس کو مکمل طور پر بھارت کی گود سے نکال لیا ہے اور اب ایران بھی چین کی خوشنودی کے لیے کھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر کے بجائے اپنی کرنسیوں میں کرنے کی پیش کش کی ہے جو کہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا۔ کورونا کی وجہ سے امریکی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے۔ اِس وقت امریکا کا بھی عرب ممالک اور پاکستان پر بھرپور دبائو ہے۔ اگرسعودی عرب دباؤ پر گھٹنے ٹیک کر امریکی بلاک میں رہتا ہے تو چین فوری طور پر سعودی عرب کے بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کر دے گا۔ یاد رہے کہ چین صرف سعودی عرب سے سالانہ 40 ارب ڈالر کا تیل خریدتا ہے جب کہ ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی پیش کش کر چکا ہے۔
عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے۔ بالخصوص پچھلے دنوں بائیڈن نے سعودی ولی عہد کا فون سننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے۔ یقیناً ولی عہد سعودی عرب پر امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی اِس خبرنے بھی کوئی اچھا اثر نہیں چھوڑا اور تاریخ بھی اِس بات کی گواہ ہے کہ امریکا اپنے مفادات کے لیے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے اور چین ہرحال میں اپنے دوستوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اب فیصلہ محمد بن سلمان کی صوابدید پر ہے کہ وہ خطے میں اپنے اقتدار اور ملکی سلامتی کے لیے اپنی ترجیحات کیسے طے کرتے ہیں جب کہ پاکستان اور چین پہلے ہی سعودی عرب اور ایران میں تعلقات کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
بائیڈن اپنی انتخابی سرگرمیوں کے دوران بھی زور دیتے رہے ہیں کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا ضروری ہے۔ خلیجی قیادت امریکا کے دیگر ممالک کے ساتھ ممکنہ اتحاد اور شراکت کے حوالے سے اضطراب کا شکار ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اقتصادی اور معاشی مفادات کے پیش نظر چین کے خلاف امریکا کی صف بندی میں شمولیت سے اجتناب کریں گے۔ خلیجی ممالک کو اِس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ اپنی دوررس تزویراتی منصوبہ بندی، خطے میں استحکام اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ ساتھ فرانس، روس، یونان اور برطانیہ کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات اُستوار کرنا بھی ضروری ہے۔ اِس کڑے وقت میں عربوں کو پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو بھی آزمانے کا موقع ملا ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر جان چکے ہیں کہ پاکستان کی دوستی ہر آزمائش میں پورا اُتری ہے۔

Check Also

Dealing with informality through taxation

Sorry you have no right to view this Article/Post! Please Login or Register to view …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: