Sunday , October 2 2022
Home / Archive / مشرف دور کی معاشی اصلاحات کا جائزہ

مشرف دور کی معاشی اصلاحات کا جائزہ

Listen to this article

مشرف دور کی معاشی اصلاحات کا جائزہ

پاکستان کی چار میں سے دو فوجی حکومتیں اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کی وجہ سے جانی جاتی ہیں: ایوب خان اور پرویزمشرف کی فوجی حکومت۔ دونوں ادوار میں پاکستان نے معیشت کے حوالے سے خاطر خواہ ترقی کی لیکن دونوں ادوار کا مسئلہ یہ رہا کہ اس معیشت کی سمت درست نہ کی جاسکی اور اس کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ معاشرتی اصلاح کا عمل نہ ہونے کے برابر تھا جس کی وجہ سے معاشی ترقی کے ثمرات نہ سمیٹے جاسکے اور دونوں ادوار کا خاتمہ ایک زبردست سیاسی اور معاشی بحران پر ہوا۔
ہمارے پیش نظر پرویز مشرف کو دورحکومت ہے اور ہم اُس دور کی معاشی ترقی کا جائزہ لیں گے کہ وہ کیسی تھی اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔

پرویز مشرف کے دور پر ایک نظر
پرویز مشرف کے دور میں پاکستان میں بہت سی ایسی چیزیں سامنے آئیں جو اس سے قبل پاکستان کے معاشرے میں تصور بھی نہیں کی جاسکتی تھیں۔ اس میں سب سے زیادہ اہم میڈیا کا فروغ اور آزادی تھا۔ میڈیا کو ہر حوالے سے آزاد کرنے کا سامان کیا گیا۔ اسی طرح میرٹ بھی عام ہوتا نظر آیا۔ ان تمام چیزوں کا ہم تفصیل کے ساتھ جائزہ لیں گے اور پھر یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ بہت سے انقلابی اقدامات کے باوجود پرویز مشرف کو نہ تو نیک لفظوں سے یاد کیا جاتا ہے اور نہ ہی بعد میں پاکستان کے حالات میں کوئی بہتری لائی جاسکی۔ پرویز مشرف 12اکتوبر1999ء کو نواز شریف کی بھاری مینڈیٹ والی حکومت کو ختم کرکے برسراقتدارآئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مارشل لا بہت پُرامن تھا اور اس میں کسی قسم کی قید وبند اور قتل و غارت گری کا شائبہ بھی نہیں ملتا لیکن اس کے باوجود عوام کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت سامنے نہ آسکی جس سے ن لیگ کی حکومت کے بھاری مینڈیٹ کی قلعی کھل گئی اور پرویز مشرف پوری طرح سے اقتدار پر براجمان ہوگئے۔ نہ صرف یہ ن لیگ میں سے ایک گروہ فوراً ہی پرویز مشرف کی حمایت پر آمادہ ہوگیا اور اسے پاکستان مسلم لیگ قائداعظم (ق) کا نام دیا گیا جس کی سربراہی نواز شریف کے انتہائی قریبی چودھری برادران کررہے تھے۔ پرویز مشرف نے پہلے ظفراللہ خان جمالی کو وزیراعظم بنایا لیکن جب اُن کی فوجی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی نہ ہوسکی تو شوکت عزیز کو وزیراعظم بنایا گیا جو آخر تک اس عہدے پر براجمان رہے۔ شوکت عزیز اس لیے اہم تھے کہ وہ ایک ماہر معیشت تھے اور اس بنا پر اُن کا چنائو گیا کہ وہ ملک کی درست معاشی سمت میں رہنمائی کریں گے۔ شوکت عزیز پورے وثوق سے کہتے تھے کہ وہ ملک کی معاشی حالت کو بدل دیں گے ۔ اس ساری صورت حال کا جائزہ ذیل میں دیا جارہا ہے:

مشرف دور کے انقلابی اقدامات
جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ مشرف دور میں بہت سی انقلابی تبدیلیاں آئیں جو اس سے پہلے پاکستان میں نہ تھیں۔ ان کا فرداً فرداً جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح اُنھوں نے پاکستان کے معاشرے پر اپنا اثر ڈالا۔اس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں معیشت کو پیش نظر رکھا گیا۔ یعنی مشرف حکومت کا اصل ہدف معیشت تھا اور اسی لیے ایک ماہر معیشت کو وزیراعظم بنایا گیا تھا۔

میڈیا کی آزادی
مشرف دور سے قبل عام طور پر پی ٹی وی کی نشریات ہر جگہ چلتی تھیں جس میں صرف حکومت کا بیانیہ پیش کیا جاتا تھا۔ کچھ نجی چینل شروع ہوئے تھے لیکن وہ صرف کیبل یا ڈش پر دیکھے جاسکتے تھے جن تک ایک چھوٹے سے طبقے کی رسائی تھی۔ مشرف دور میں اس کی بڑھوتری کا پروگرام بنایا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے نجی چینلز کی بھرمار ہوگئی۔ اسی طرح کیبل نیٹ ورک کو عام کیا گیا اور پاکستان کا ایک بڑا طبقہ انٹینا سے کیبل پر منتقل ہوگیا۔ اس سے لوگوں میں میڈیا کے ذریعے آنے والی خبروں سے ایک آگاہی پیدا ہوئی اور ان کا نقطۂ نظر بدلنے لگا۔ نجی چینلز پر پوری طرح کھل کر نہ سہی لیکن نرم طریقے سے حکومت پر بھی تنقید ہوتی تھی جو ایک صحت مندانہ رُجحان تھا۔ بعض دفعہ وزیراعظم اور صدر کو بھی آن لائن لے کر ان سے سوالات کیے جاتے تھے اور وہ ان کے مثبت جوابات دیتے نظر آتے تھے۔ اس طرح سے میڈیا سے ماحول میں ایک واضح تبدیلی نظر آئی اور اس کا سارا کریڈٹ بلاشبہ پرویز مشرف کو ہی جاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ تھی کہ اب میڈیا پر عام لوگوں کے مسائل بھی سامنے لائے جاتے تھے ۔ سیاست دان، وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر اُنھیں تو ہر پروگرام میں بلایا جاتا تھا اور سیاسی ماحول کی گرما گرمی جاری رہتی تھی۔ اس طرح سے سیاست دانوں کا وہ مزاج اب نہ رہا تھا جس میں وہ سرے سے کسی کو جواب دہ ہی نہ تھے۔ اسی طرح معاشی مسائل اور ان کے اعدادو شمار کو بھی منظر عام پر لایا جانا شروع کیا گیا جس سے عوام کو اندازہ ہوا تھا کہ حکومت کس سمت میں جارہی ہے۔
معیشت کے حوالے سے ا س کا پہلو یہ تھا کہ نجی ٹی وی کے بڑے پیمانے پر عام ہونے لوگوں کو بڑی تعداد میں نوکریاں ملیں اور بہت سے لوگوں نے ٹی وی کے ذریعے اپنی پہچان بھی بنائی۔ صرف کیبل نیٹ ورک کو ہی لیں تو یہ پاکستان کی ایک انڈسٹری کے طور پر سامنے آیا۔

تعلیم
تعلیم کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ایچ ای سی ( ہائر ایجوکیشن کمیشن) کا قیام تھا جس کا مقصد بیرون ملک کی طرز پرتعلیم میں تبدیلی لے کر آناتھا۔ ایچ ای سی کو خالصتاً میرٹ پر قائم کیا گیا اور شفاف طریقے سے چلایا گیا۔ ایچ ای سی نے طالب علموں کو بڑے پیمانے پر دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لیے وظائف کا اجرا کیا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی تفریق کو روا نہ رکھا گیا؛ مثلاً امیر غریب یا مرد عورت کی تفریق ختم کی گئی۔
بنیادی سطح کی تعلیم کے حوالے ایک نفسیاتی حربے کے طور پر ٹیچر کے نام کو ایجوکیٹر سے بدل دیا گیا تاکہ معاشرے میں ٹیچر کو جو تصور ہے وہ ختم ہو اور معاشرہ یہ سمجھے کہ اب تعلیم پہلے کی طرح نہیں ہوگی بلکہ اس میں کچھ تبدیلی آئے گی۔

تعلیم کے حوالے سے ایک تو اساتذہ کی بھرتی کو زیادہ کیا گیا خاص طور پر سکولوں میں ایجوکیٹرز کی بھرتی۔ اس کے علاوہ نجی اور سرکاری سیکٹر میں نئی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آیا۔ خاص طور پر نجی شعبے میں سینکڑوں یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور ظاہر ایک بڑی تعدادمیں لوگوں کا روزگار ملا۔

معیشت
خالص معیشت کی بات کریں تو جس قدر معیشت کی ترقی پرویز مشرف کے دور میں نظرآتی ہے کسی اور دور میں اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔
امریکی امداد
سب سے پہلے وہ امریکی امداد تھی جو دہشت گردی میں جنگ کے خلاف اُس کا ساتھ دینے کی بدولت پاکستان کے حصے میں آئی۔ یہ ایک طرح سے ڈالروں کی بارش تھی جس کے باعث مشرف کے تمام دور حکومت میں روپے کی قدر مستحکم رہی اور ڈالر 60روپے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اس کے باعث پورے عرصے میں چیزوں کی قیمتوں میں ایک زبردست قسم کا استحکام دیکھنے میں آیا جو اپنے اندر ایک مثال تھی۔
رئیل اسٹیٹ
ملکی حوالے سے بات کریں تو مشرف دور میں جس چیز نے سب سے زیادہ ترقی کی وہ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار تھا۔ یہ وہ چیز تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی کایا پلٹ دی اور بڑی تعداد میں لوگ صفر سے کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ ایک متوسط آدمی کئی کئی پلاٹوں کا مالک نظر آنے لگا۔ ہائوسنگ سکیم کا جو سلسلہ شروع ہوا تو پھر رکنے میں ہی نہ آیا اور ہر ہائوسنگ سکیم کا یہ حال ہوتا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اُس کے سارے پلاٹ بک جاتے تھے۔ یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔

بینکنگ نظام کی بڑھوتری
رئیل اسٹیٹ اور دیگر معاشی اہداف کو سپورٹ کرنے کے بینکنگ سیکٹر کو بھی وسعت دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بینکنگ کا جدید سسٹم پاکستان میں متعارف کرایا گیا۔ نیشنل بینک اور حبیب بینک کی پرانی اور بوسیدہ عمارتیں چمک دار پلازوں میں بدل گئیں اور وہاں ٹرینڈ اور اعلیٰ لباس کا حامل عملہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگا۔ کایا پلٹنے والا کام یہ ہوا کہ ان بینکوں نے لوگوں کو لیز پر چیزیں دینے کا سلسلہ شروع کیا جس میں مکان، گاڑیاں اور بہت کچھ شامل تھا۔ اس سے خاص طور پر سڑکوں پر گاڑیوں کا ایک سیلاب آگیا اور ہردوسرے شخص نے لیز پر گاڑی لینے کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔ اسی طرح گھر بھی خریدے جانے لگے۔ مزید پیش رفت یہ ہوئی کہ لوگوں کے ذہنوں سے سود کے تصور کو ختم کرنے کے لیے اسلامی بینکوں کا قیام بھی عمل آگیا اور وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔ بے شمار بینک کھلنے سے بھی ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو نوکریاں میسر آئیں۔

معیشت کے حوالے سے مضر رُجحانات
بظاہر تو پاکستان میں دولت کےکے انبار لگے لیکن اس کے پیچھے بہت کچھ غلط بھی تھا۔ مثال کے طور پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سالانہ 1.5ارب ڈالرز ملے لیکن جنگ میں پاکستان کا سالانہ نقصان 8ارب ڈالر تھا جو بعد میں پتا چلا ۔ رئیل اسٹیٹ سے زرعی زمینوں کو دھڑادھڑ ہائوسنگ سکیموں میں تبدیل کیا گیا جس سے زراعت کا شعبہ متاثر ہوا۔ بینکوں کے لیز پر گاڑیاں دینے کا جو سلسلہ شروع کیا اس سے ٹریفک اور آلودگی کا مسئلہ پیدا ہوا نیز معاشرے میں سہولیات کو قرض پر لینے کی عادت پڑ گئی جس سے معیشت پھیلنے کے باوجود سکڑ گئی۔

معاشرتی تبدیلی
پرویز مشرف کا پروگرام ایک جامع پروگرام تھا۔ ایسا نہ تھاکہ اس میں صرف معیشت کو پیش نظر رکھا گیا بلکہ معاشرے کے مزاج کو بدلنے کے لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی جس کی تفصیل اس طرح سے ہے:

جدیدیت کا پھیلائو (روشن خیالی Enlightened Moderation)
پرویز مشرف نے روشن خیالی کا نعرہ لگایا اور معاشرے کو خاص طور پر مذہب کی شدت سے نکالنے کا بیڑہ اُٹھایا۔ اس حوالے سے میڈیا کی آزادی ایک اہم حربے کے طور پر استعمال کی گئی اور اس کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی کی کوشش کی گئی۔ مختلف قسم کے ٹاک شوز شروع کیے گئے جن میں مذہبی سکالرز اور علما کو بھی مدعو کیا جاتا تھا۔ اس سے ایک ایسی فضا پیدا کی گئی کے لوگوں کے قائل ہونے کا سامان فراہم ہوگیا۔

پروٹوکول میں کمی
پروٹوکول میں کمی بھی پرویز مشرف کے درو سے شروع ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شعبے پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوئے وہاں دفاتر کی تعمیر کو ملاحظہ کیا جائے تو اس میں کیبن سسٹم متعارف کرایا گیا جہاں بہت سے لوگ بیٹھ کر ایک دوستانہ ماحول میں کام کرتے نظر آتے ہیں اور چھوٹے بڑے کے فرق کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ گو مکمل طور پر پروٹوکول کاخاتمہ تو نہ ہوسکا لیکن اس سمت میں ایک سفر ضرور شروع ہوگیا۔

میرٹ
میرٹ پر ملازمت جو کبھی لوگوں کا خواب ہواکرتا تھا اور سفارش کے بغیر نوکری ملنا ایک مذاق معلوم ہوتا تھا پرو یز مشرف کے دور میں حقیقت بن کر سامنے آگیا ۔ ایک تو نوکریاں ایک بڑی تعداد میں فراہم کی گئیں دوسرا ان میں میرٹ کو سامنے رکھا گیا۔ اسی طرح نئے قائم ہونے والے اداروں میں رشوت ستانی کا خاتمہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں موٹر وے پولیس اور بڑے شہروں میں ٹریفک وارڈن کا قیام بہترین مثالیں ہیں جن کے متعلق رشوت کی شکایت نہیں ملتی۔

رفاہ عامہ
رفاہ عامہ کے بہت سے کام شروع کیے گئے جن میں صحت کے حوالے سے یہ پیش رفت کی گئی کہ ایمرجنسی کے نظام کو فعال کیا گیا۔ اس کےلیے 1122متعارف کرائی گئی اور اس کے ساتھ ہسپتال کو منسلگ کیا گیا کہ ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں دوا مفت دی جائے گی اور کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ یعنی گھر سے لے کر ہسپتال تک کے سفر کو مریض کے لیے آسان بنایا گیا۔

معاشرے نے کیا قبول کیا؟
یہ اور اس طرح کے دیگر اقدامات بلاشبہ ایسے تھے جو معاشرے کو بدلنےکا سبب بن سکتے تھے لیکن اصل چیز یہ ہے کہ معاشرے نے ان اقدامات سے کیا قبول کیا۔ کیا معاشرے نے اسے اچھا اور مثبت سمجھا اور اسے ایک انقلاب سمجھا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ واقعی پاکستان کو تبدیل کردینے والی بات تھی لیکن معاشرے نے ان چیزوں کو ایسے قبول نہیں کیا۔ اور اسی وجہ سے معیشت میں ترقی کا کوئی فائدہ نہ ہوسکا اور وہ الٹا معاشرے کے لے سوہان رُوح بن گئی۔ ذیل میں ہم ا س چیز کا جائزہ پیش کرتے ہیں کہ معاشرے نے اس تبدیلی کو کیوں قبول نہیں کیا۔

مال و دولت کی بہتات کی طرف توجہ
ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے معاشرے کے رویے تبدیل کیے جائیں۔ اگر یورپ کو سامنے رکھیں تو پہلے وہاں معاشرے کےرویے تبدیل کیے گئے اور پھر معیار زندگی۔ لیکن مشرف دور میں رویوں سے زیادہ دولت کی بڑھوتری ہوئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کے جہلا دولت کی طرف لپک پڑے اور بے دریغ انواع واقسام کی ٹیکنالوجی کے مالک بن گئے۔ خاص طور پر لوگ بڑ ی بڑی گاڑیوں کے ایسے مالک بن گئے جیسے وہ بھیڑ بکریاں ہوں۔ اس چیز نے معاشرے کو کئی طبقات میں تقسیم کردیا اور معاشرےمیں ایک زبردست قسم کی طبقاتی کش مکش بھی پید اہوگئی جس میں ہر کوئی دوسرے کو نیچا دکھانے پر تل گیا اور وہ بھی دولت کے بل پر۔ اس طرح معیشت کی ترقی کا انتہائی منفی اثر معاشرے پر پڑا جس کی وجہ سے یہ ترقی اُلٹا وبال جان بن گئی اور معاشرہ مزید جہالت کا شکار ہوگیا کیوں کہ اب ہر کسی کے نزدیک اہم یہ تھا کہ کس کے پاس کتنا پیسا ہے اور کس عہدے کی کتنی تنخواہ ہے۔

میڈیا کا رڈ: بےحیائی کا تاثر
میڈیا عام ہوا تو لوگوں نے اسے بھی پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔ سمجھ دار لوگوں سے اسے بے حیائی پر مبنی قرار دے دیا کیوں کہ اب ڈراموں اور اشتہاروں میں ایسے مناظر عام دیکھنے کو ملنے لگے جن کا پہلے تصور بھی نہ تھا۔ اس طرح سے میڈیا میں اگر کوئی مثبت چیز تھی بھی تومعاشرے نے اس طرف چنداں توجہ نہ کی۔ علاوہ ازیں عورتوں کے حوالے سے مشرف دور میں جو کچھ قانون سازی کی گئی اور عورتوں کو ملازمتوں کے حوالے سے جو مواقع ملے اُنھیں مذہبی طبقات نے منفی طور پر لیا اور مشرف کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔

اسلامی بینکوں کا کردار: سود سے متعلق شبہات
سود کے حوالے سے مذہبی طبقات کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہ ہوسکا اور مذہبی طبقات کی غالب رائے اسلامی بینکوں کو غیر شرعی ہی سمجھتی رہی۔ ان کے زیر اثر عوام بھی ان بینکوں کو فراڈ سمجھتے رہے۔ نیز اسلامی بینکوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا وہ دیگر بینکوں سے بھی زیادہ عجیب و غریب تھا او راس میں لوگوں کا استحصال اور زیادہ ہوگیا جس نے اسلامی بینکوں کے غلط ہونے پر گویا مہر تصدیق ثبت کردی۔ اس طرح بینکنگ کے نظام میں اصلاحات معاشرے کو نہ بدل سکیں۔
دہشت گردی کی جنگ: مشرف کے خلاف مذہبی جذبات
پرویز مشرف نے کھل کر دہشت گردی کے خلاف امریکا کا ساتھ دیا۔ اس پر افغانستان او رفاٹا کے علاقوںمیں پاکستان کے خلاف نفرت کی فضا پیدا ہوئی اور اُنھوں نے پاکستان کو امریکا کی طرح کا دشمن خیال کرکے یہاں خودکش حملے شروع کردیے جن میں بڑی تعداد میں عام لوگ مارے گئے۔ پاکستان کا ایک طبقہ اس کی وجہ مشرف کا دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہونے کو قرار دیتا تھا۔ نیز مشرف نے لال مسجد کے حوالے سے جو فوجی آپریشن کی پالیسی پر عمل کیا اس سے مذہبی طبقات مشرف سے حد درجہ نفرت کرنے اور نفرت پھیلانے لگے اور ا س کا معاشرے پر خاطر خواہ اثر ہوا۔ نتیجتاً معاشرے نے کسی ایسی تبدیلی کوتسلیم کرنے سے انکار کردیا جو مشرف کی پالیسیوں کو دوام بخشنے میں معاون ہوتیں۔

مشرف کی سیاسی تنہائی: چودھری برادران سے دُوری
مشرف نے اپنے سیاسی جواز کے لیے چودھری برادران کی خدمات لی تھیں لیکن چودھری برادران روایتی سوچ کے حامل تھے اور مذہب مخالف نہ تھے۔ مشرف اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے اور وہ اپنے لیے ایک ایسے سیاسی اتحادی کی تلاش میں تھے جو اُن کے جدید ماڈل کو قبول کرسکے۔ اُنھیں یہ چیز صرف پیپلز پارٹی میں نظر آئی اور اس بنا پر مشرف نے ق لیگ حکومت کی آئینی مدت پوری ہوجانے کے بعد محترمہ بے نظیر کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں آکر انتخاب میں حصہ لیں۔ اس سے چودھری برادران اُن سے بدظن ہوگئے، نیز مشرف کی پالیسیوں کی وجہ سے اب چودھریوں کا عوام میں جانا بھی مشکل ہورہا تھا۔ یہ سلسلہ بخوبی گزر گیا لیکن انتخابی مہم میں بے نظیر کی موت نے تمام کھیل بگاڑدیا۔ اب مشرف پر بے نظیر کے قتل کاالزام آرہا تھا ا س لیے اُنھیں پیپلز پارٹی کی حمایت تو حاصل ہونہیں سکتی تھی اور اُن کی خواہشات کے عین مطابق ق لیگ بھی خاطر خواہ نشستیں حاصل نہ کرسکی تھی کہ حکومت بنا سکتی۔ اس بناپر اب مشرف تنہائی کا شکار ہوگئے تھے اور اب اُن کے دن گنے جاچکے تھے۔ یعنی نہ وہ معاشرے کو اپنے لیے ہموارکرسکے اور نہ ہی اپنے سیاسی اتحادیوں کو اپنے ساتھ رکھ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگلی حکومت جو پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مل کر بنائی اس میں مشرف کی کوئی جگہ نہ تھی اور جلد ہی مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا گیا۔

Check Also

Sociology. 30-09-2022

Listen to this article Sociology. 30-09-2022 Jahangir’s World Times E-mail: jwturdubazar@gmail.com Ph: 0302 555 68 …

Leave a Reply

%d bloggers like this: