Wednesday , November 30 2022
Home / Archive / جنگ نہیں امن یوکرین تنازعہ کا پرامن حل ضروری ہے

جنگ نہیں امن یوکرین تنازعہ کا پرامن حل ضروری ہے

Listen to this article

جنگ نہیں امن

یوکرین تنازعہ کا پرامن حل ضروری ہے

اِس سے قطع نظر کہ یوکرین پر روس کے حالیہ حملے کے نتائج کیا ہوں گے، اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کیف پر روسی فوج کی یلغار نے دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل پانے والے اُس عالمی نظام کی چولیں ہلا ڈالی ہیں جس میں بڑی طاقتوں نے دنیا کے تمام وسائل پہ قبضہ کرکے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کی بحالی کو جواز بنا کے چھوٹے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے علاوہ مالیاتی امداد اور قرضوں کے جال میں جکڑکر اُنھیں نئے سسٹم کا اسیر بنا لیا۔ اِس حملے نے عالمی منظر پہ چھائے جمود کو توڑ کر جس نئے عہد کی بنیاد رکھی ہے، غالب امکان یہی ہے کہ اُس میں یورپ اور امریکا اپنی بالادستی برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ یوں روس نے یوکرین میں فوجیں داخل کرکے دہائیوں بعد یورپی ممالک کو ایسے بڑے فوجی تنازع کی طرف دھکیل دیا ہے جو عالمی سیاست کا تناظربدل سکتا ہے۔

یوکرین پر روس کی فوج کشی کے بعد صورت حال کی سنگینی اور مغربی ملکوں کی یوکرین کے لیے عسکری امداد کی شکل میں جنگی سرگرمی میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اُس سے یہ خدشہ ہر لمحے قوی تر ہوتا جارہا ہے کہ مغربی اقوام ایک بار پھر گزشتہ صدی کے پہلے نصف میں ہونے والی دو عالمی جنگوں جیسے حالات کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ روس کی جانب سے 24 فروری کو شروع ہونے والی کارروائی میں بڑے پیمانے پر فضائی اور میزائل حملوں اور شمال، مشرق اور جنوب سے یوکرین میں فوجیں داخل کیے جانے کے بعد سے پوری دنیا کے امن اور معیشت پر نہایت تیزی سے شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ صدر پیوٹن نے نیٹو ممالک کو متنبہ کیا کہ یوکرین جنگ میں مداخلت کی گئی تو روس کوئی بھی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ روسی سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ نیٹو کے اہم رکن ممالک کی جانب سے ہمارے ملک کے خلاف جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور اِس لیے میں نے وزیر دفاع اور آرمی چیف کو حکم دیا ہے کہ وہ نیوکلیئر فورس کو تیار رکھیں۔ اِس کے جواب میں فرانسیسی وزیر خارجہ جین یویس لی ڈرین نے کہا کہ پیوٹن کا بیان جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کے مترادف ہے اور یہ ہتھیار نیٹو کے پاس بھی ہیں۔

دوسری جانب صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ہلاکت خیز ہتھیار شامل ہونگے۔ یورپی ممالک بھی روسی حملے کے بعد یوکرین کو بھاری عسکری امداد مہیا کررہے ہیں۔

حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ تنازع دو ملکوں نہیں، دو نظاموں کی بقا کی جنگ ہے ،سرمایہ دارانہ نظام کو اِس وقت مختلف نوعیت کے خطرات لاحق ہیں اِنھی خطرات سے بچانے کے لیے نیٹو کی صورت میں محافظ سرگرم ہیں، یوکرین میں یہی جنگ لڑی جارہی ہے۔روس بالکل تنہا نہیں ہے اور نہ کسی ملک میں اِس پر حملہ کرنے کی طاقت موجود ہے۔ روس کے حلیف ممالک ظاہری طورپر ابھی تک خاموش ہیں اور مذاکرات کے ذریعے اِس تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی بات کررہے ہیں،لیکن اگر عالمی طاقتیں یوکرین کی حمایت میں میدان جنگ میں اتریں گی تو کیا روس کے دوست اِسے تنہا چھوڑ دیں گے؟ یہ کیسے ممکن ہے!یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں یوکرین کی حمایت میں روس کے خلاف میدان میں اترنے سے بچ رہی ہیں۔ خاص طورپر امریکا اور اِس کے اتحادی ممالک۔ روس اور اِس کے اتحادیوں نے شام، یمن، عراق اورافغانستان جیسے ملکوں میں امریکی اتحادی افواج کو دھول چٹائی ہے،لہٰذا ’نیٹوافواج‘ کبھی روس کی طرف نظریں اٹھاکر نہیں دیکھ سکتیں،یہ دنیا جانتی ہے۔

اِس سارے تنازع میں اقوام متحدہ بے بس نظر آرہی ہے، نہ صرف روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے بلکہ چین جیسے بڑے اتحاد ی کی رفاقت بھی میسر ہے، اسی لیے یو این او اُس کے خلاف قرارداد پاس کرنے یا کارروائی سے قاصر ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس لاکھ اپیل کریں یا کسی فیصلہ کن اقدام کا عندیہ دیں، روس کو باز نہیں رکھا جا سکتا، البتہ مغربی ممالک اور امریکا کی معاشی پابندیاں اُس کی معیشت کو کسی حد تک نقصان پہنچا سکتی ہیں مگر ایسے کسی اقدام سے یورپ میں توانائی کا بحران بھی یقینی ہے، نیٹو ممالک کی اشتعال انگیزی اور روسی جارحیت سے کسی نظام کا تحفظ تو نہیں ہو سکتا مگر وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے دنیا میں بھوک و افلاس بڑھ جائے گی۔

واقعات کا یہ نقشہ واضح کررہا ہے کہ یوکرین تنازع کے نتیجے میں رونما ہونے والی کشیدگی کے دائرے کو پھیلنے سے جلد ازجلد روکا نہ گیا تو حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ناقابل تردید ہے کہ دنیا کی ضرورت جنگ نہیںامن ہے کیوں کہ بڑی عسکری طاقتوں کے پاس موجود تباہ کن ہتھیاروں کے وسیع ذخائر کا برائے نام حصہ بھی پورے کرۂ ارض کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی انسانی برادری کو اِس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یوکرین تنازع کے پرامن حل کو یقینی بنانا چاہیے۔

Check Also

Trade Volume between TÜRKİYE and PAKISTAN. 28-11-2022

Listen to this article Trade Volume between TÜRKİYE and PAKISTAN.  Jahangir’s World Times E-mail: worldtimes07@gmail.com …

Leave a Reply

%d bloggers like this: