Tuesday , November 29 2022
Home / Archive / Presidential system صدارتی نظام

Presidential system صدارتی نظام

Listen to this article

Presidential system صدارتی نظام

پرانی بحث نئے عزائم

سیاسی نظام میں اصل چیز اختیارات کا نفاذ ہے جسے مختلف طریقے اختیارکرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ جدید نظام میں لوگوں کو حکومت میں شامل کرنے کے لیے مختلف ماڈل اپنائے گئے ۔ ان میں سے دومقبول ماڈل پارلیمانی اور صدارتی نظام ہیں۔ دونوں نظاموں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ کس طرح سے قائم ہونے والی حکومت اپنے اختیارات کا استعمال کرکے عوام کے لیے ایک بہتر نظام پیش کرسکے جس سے کہ عوام مطمئن ہوسکیں۔ جاننا چاہیے کہ کسی بھی نظام کے مستحکم ہونے کے لیے اس میں روایات کا قائم ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جب تک روایات جڑ نہ پکڑ سکیں نظام بدلتے رہیں گے اس جستجومیں کہ آنے والا نظام شاید گزشتہ سے بہتر ہوگا۔ یہی معاملہ وطن عزیز کا ہے کہ یہاں مختلف وجوہات کی بنا پر روایات مستحکم نہ ہوسکیں جس کی وجہ سے یہاں حکومت کے ماڈل بدلتے رہے۔

برطانیہ کا پارلیمانی نظام دنیا کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتاہے۔ گووہاں آئینی حکمران بادشاہ یا ملکہ ہے۔ البتہ ملکی معاملات اور اختیارات وزیراعظم اور پارلیمان کے پاس ہوتےہیں، جن کا انتخاب عوام اپنےمنتخب کے ذریعے کرتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کےخاتمے پر برطانیہ کی اکثر نوآبادیات نے اس سے آزادی حاصل کی تو اُن میں بھی اِسی طرز کا پارلیمانی نظام قائم ہونا ایک فطری بات تھی۔ پاکستان اور بھارت بھی انہی ملکوں میں شمار ہوتے ہیں۔دوسری طرف امریکاکا ماڈل ہےجو دنیا میں صدارتی نظام کی ایک بڑی مثال ہے۔وہاں صدارتی نظام تقریباً ڈھائی سو برس سے چل رہا ہے۔صدارتی نظام میں ایک دوسری جہت یک پارٹی نظام کی ہے جیسا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں چین میں رائج ہے۔ وہاں صرف کمیونسٹ پارٹی آف چائنا ہی کو کام کرنے کی اجازت ہے۔ جب کہ باقی انتخابی عمل بھی دیگر ممالک کے صدارتی نظاموں سے مختلف ہے۔روس اور شمالی کوریا میں بھی چین کی طرح یک پارٹی نظام ہے۔ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد ولایت فقیہ کے مذہبی نظریے کے تحت ریاستی نظام تشکیل دیا گیا، جس میں صدر اور پارلیمنٹ تو موجود ہیں، لیکن اختیارات کا منبع رہبر اعلیٰ کی ذات ہے۔
یورپ میں کہیں پارلیمانی ماڈل ہے تو کہیں صدارتی۔ کچھ ممالک میں فرانس کی طرح صدارتی طریقہ منتخب کیا گیا ہے، تو بہت سے ممالک نے برطانوی طرز پر اپنا نظام استوار کیا ہے۔ جرمنی کا چانسلر صدر جیسا ہی ہوتا ہے لیکن تھوڑے فرق کے ساتھ۔ یورپ کے نظام میں ایک چیز دستوری بادشاہت بھی ہے جس میں آئینی سربراہ بادشاہ ہوتا ہے۔ گو انتظامی معاملات پارلیمنٹ ہی طے کرتی ہے لیکن بادشاہت کی علامت جمہوری دور میں ایک عجیب بات ہے جس پر شاید کبھی کوئی سوال نہیں اُٹھایا گیا۔

ترکی کی بات کریں تو چند سال پہلے طیب اردوان کی قیادت میں پارلیمانی جمہوری نظام سے صدارتی نظام کی جانب سفر کرنے کا تجربہ کیاگیا ہےجو کم از کم طیب اردوان کی حکومت کے لیے کامیاب ٹھہرا ہے۔فوجی حکومتیں عام طور پر صدارتی نظام کو ہی اپناتی ہیں کیوں کہ اس میں وزیراعظم کی گنجائش نہیں بنتی۔
پارلیمانی اور صدارتی نظام میں عوام کی حد سربراہ مملکت منتخب کرنے تک ہوتی ہے۔ فرق بلاواسطہ اور بالواسطہ کا ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں عوام کے منتخب نمائندے وزیراعظم کو منتخب کرتے ہیں جب کہ وزیراعظم کے کابینہ بنانے میں عوام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ لازمی نہیں کہ کوئی منتخب نمائندہ ہی کابینہ میں شامل ہو۔ دوسری طرف صدر کو بلاواسطہ یا براہ راست منتخب کیا جاتا ہے۔ البتہ معزولی کے معاملے میں دونوں نظام مشترک طریقہ کار رکھتے ہیں۔ انتخاب تو عوام کے ووٹوں سے ہوتا ہے لیکن معزولی دونوں طریقوں میں پارلیمنٹ کرتی ہے۔ اسی طرح اختیارات کے استعمال میں بعض دفعہ عوام کے منتخب نمائندوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا ۔

اس طرح اصل مسئلہ اختیارات کے نفاذ کا ہے کہ وہ کس طرح سے پوری روح کے ساتھ نافذ کیے جاسکتے ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھیں تو ایسےممالک جہاں کسی قسم کی روایات جڑ نہیں پکڑسکیں وہاں ایک کے بعد دوسرا نظام اختیار کرنا اختیارات کے نفاذ کے پیش نظر ہی ہوتا ہے۔ یہی معاملہ موجودہ حکومت کے ساتھ چل رہا ہے۔

موجودہ حکومت کو بے شمار بحرانوں کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑامسئلہ معیشت کا ہے۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے حکومت کے پاس ایک سیدھا سا عذر یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے کی لوٹ کھسوٹ کے بعد معیشت کو ایک مختصر مدت میں ایک سطح پر لانا ممکن نہیں۔ اسی طرح حکومت دوسری چیزوں کو بھی اس چیز کے ساتھ جوڑتی ہے۔ ایک لمبے عرصے میں اداروں میں سفارش اور اقربا پروری کی بنا پر تعیناتیوں سے ادارے نہ بحال ہونے والی سطح پر آچکے ہیں اور اُنھیں درست سمت میں لے جانا آسان نہیں۔ اس کےلیے اختیارات کو کسی اور طرز پر استعمال کرنا ہوگا۔ یہ رائے عام ہے کہ حکومت کے زیادہ تر محکموں پر پرانے لوگ ہی براجمان ہیں اور عمران خان اپنے چند عمائدین کے ساتھ حکومت چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے لیے وزیراعظم کے اختیارات ناکافی ہیں یایوں کہنا چاہیے کہ پارلیمانی طرز حکومت کارگر نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ صدارتی نظام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایک اشارہ ترکی کی طرف بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہاں طیب اردوان نے کیوں کہ اپنی پوزیشن کو صدارتی نظام سے مضبوط کیا اس لیے یہ اُمید لگائی گئی کہ شاید پاکستان میں بھی یہ حربہ کارگر ہوجائے۔

صدارتی نظام کی بات کون کررہا ہے؟
اگرچہ شاہ محمود قریشی اِسے ایک لاحاصل بحث قرار دے چکے ہیں، لیکن سوشل میڈیا کا جائزہ لیں، تو اس کے پیچھے تحریک انصاف کے کارکنان ہی سرگرم نظر آتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک لبیک سمیت بعض مذہبی جماعتیں بھی اِس ضمن میں سرگرم ہیں، البتہ وہ اس کے ساتھ اسلامی کا سابقہ لگاتی ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ جو جماعتیں اپنے منشور کو کسی حکم نامے کے ذریعے نافذ کرنا چاہتی ہیں وہ صدارتی نظام کی بات کریں گی۔

دونوں اطراف کے دلائل
صدارتی نظام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی بااختیار صدر آیا، ترقی کا سفر شروع ہوگیا۔ وہ اِس سلسلے میں ایوب خان اور پرویز مشرف کی معاشی اصلاحات کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق براہ راست عوامی ووٹس سے منتخب ہونے والا حکم ران زیادہ بہتر طور پر کام کرسکتا ہے کہ اُسے ارکان اسمبلی یا سیاسی جماعتوں کی بلیک میلنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ روایتی طور پر باربار منتخب ہونے والے جاگیر داروں، سرمایہ داروں یا موروثی سیاست دانوں پر انحصار نہیں کرتا اور باصلاحیت لوگوں کو اپنی کابینہ میں لاتا ہے ۔دوسری طرف پارلیمانی نظام چند مخصوص خاندانوں اور بااثر افراد کے ہاتھوں کھیل بنا رہتا ہے، جس کے سبب ملک کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ صدارتی نظام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ نظام پاکستان جیسے ملک میں مناسب نہیں، جہاں طبقات کی بہتات ہے۔براہِ راست انتخاب میں بڑے صوبےیا بڑے گروہ کا پلہ بھاری رہے گا اور ہمیشہ وہیں سے صدر منتخب ہوگا، جس سے کمزور طبقات احساس محرومی کاشکار ہوں گےاور اس کا تلخ تجربہ ماضی میںہوچکا ہے۔نیز ایک ایسے ملک میں جہاں پارلیمان کے ہوتے ہوئے وزیراعظم عوامی مفاد کو پس پشت ڈال دیتا ہو اور منتخب نمایندے اُسے روک نہیں پاتے، ایسے ماحول میں اگر کسی فردِ واحد کو تمام اختیارات منتقل کردیے جائیں، تو اُسے کیسے راہ راست پر رکھا جاسکتا ہے؟جہاں تک معاملہ ہے چند خاندانوں کی حکمرانی کا ، تو صدارتی نظام میں بھی یہی لوگ آگے آئیں گے۔لہٰذا، نظام کوئی بھی ہو، لیکن اگر ووٹرز وہی، اُمیدوار بھی وہی اور ادارے بھی وہی ہوں، پھر محض نظام کے بدلنے سے مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے؟

آئینی ماہرین کی رائے ؟
قانونی طور پر بات کریں تو صدارتی نظام والوں کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں دو تہائی حمایت یا عوامی ریفرنڈم کے ذریعے نظام میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے، تاہم آئینی اور قانونی ماہرین اُن کی رائے سےاتفاق نہیں کرتے۔ اُن ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خد و خال طے کر چکی ہے اور وفاقی پارلیمانی نظام حکومت اس ڈھانچے کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ محمود خان اچکزئی مقدمے میں قرار دے چکی ہے کہ وفاقی پارلیمانی نظام، آزاد عدلیہ اور اسلامی دفعات پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔بہتری کی بہت گنجائش ہے۔
جہاں یہ بات کی جارہی ہے کہ صدارتی نظام کچھ طاقتوں کا ایجنڈا ہے اور وہ اپنے مقاصد کے لیے اس کی تگ و دو کرر ہے ہیں وہاں یہ چیز بھی حقیقت ہے کہ لوگ واقعتاً موجودہ پارلیمانی نظام سے مایوس ہوچکے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا سبب وہ خرابیاں ہیں جن کے باعث عوام اس نظام کے حقیقی ثمرات سے تاحال محروم ہیں۔اس لیے صرف بہتری کی اُمید پر اس نظام کو قائم رکھنا بھی کوئی حل نظر نہیں آتا۔اس کی کئی جہتیں ہیں۔ جہاں ایک منصوبے کے تحت سیاست دانوں کو بدنام کیا گیا وہاں سیاست دانوں نے بھی کبھی یہ کوشش نہ کی کہ ایک غالب طبقہ اس کا مداوا کرنے کے لیے اپنے آپ کو درست کرسکے۔ آپس کی چپقلش کبھی ختم نہ ہوسکی اور بیرونی ریشہ دوانیاں اسی چپقلش پر اپنے خدوخال بنتی رہیں۔

اُستاد، قانونی اور پالیسی اصلاحات کے ماہر اور مصنف اسامہ صدیق سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ہمیشہ کچھ سال بعد تاریخ اپنے آپ کو دہرانے لگتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں تو اس کو کافی مضحکہ خیز سمجھتا ہوں اور آپ اس کے متعلق پہلے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اب کب کہا جائے گا۔

’الیکشن سے کچھ دیر پہلے، خاص طور پر اگر کارکردگی اچھی نہ ہو تو، جو عموماً نہیں ہوتی، اس قسم کی گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ آپ دیکھیے گا کہ ابھی خلافت پر گفتگو شروع نہیں ہوئی، نہیں تو وہ بھی شروع ہوتی ہے یا اور کوئی نظام جس کے متعلق آپ سوچ سکیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایسی گفتگو یوں ہی نہیں شروع ہوتی بلکہ ’خاص قوتوں کی شہہ پر اس کا آغاز ہوتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کا دھیان بٹانا ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھی جو ہم کچھ کر نہیں پائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمانی نظام خراب ہے۔ کیوں کہ جن کو لایا گیا ہوتا ہے اُن کے متعلق تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خراب ہیں یا کرپٹ ہیں اس لیے ملبہ نظام پر ڈال دیتے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ موجودہ دور میں دو طرح کے مسائل ہیں۔

ایک تو یہ ہے کہ عمران خان خود ہی وقتاً فوقتاً یا اُن کی جماعت کے لوگ یہ اشارہ دیتے رہتے ہیں کہ ہم کیا کریں، ہم کس طرح پالیسی چلائیں، ہمیں تو اپنے اتحادیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا نظام ہو جہاں حکومت کے سربراہ کے پاس اختیار ہو تو وہاں کام مؤثر ہو گا۔‘

پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ عمران خان اکثر چینی نظام کی تعریف کرتے ہیں جو کہ انتہائی مرکزیت پر مبنی سیاسی ماڈل ہے۔ ’دوسرا یہ ہے کہ ہمارے ہاں روایتی طور پر آمرانہ نظام رہے ہیں اور اب بھی وہ چیزیں موجود ہیں۔ اس وقت جو اقتصادی پالیسیوں میں مسائل نظر آ رہے ہیں اُن کے متعلق بھی خیال ہے کہ اگر ان پالیسیوں کو چلانا ہے تو مضبوط حکومت کی ضرورت ہے اور پارلیمانی نظام میں مضبوط حکومت ہو نہیں سکتی۔ اس وجہ سے یہ ساری باتیں ہو رہی ہیں۔

For Magazine Subscription Please visit our Facebook Page or WhatsApp on 0302 5556802

For Institute’s Information, please join our Facebook Page or you can contact us on 0302 5556805/06/07

For Books Order please Visit our Facebook Page or WhatsApp us on 0302 5556809

You can follow us on Twitter too

 

Check Also

Trade Volume between TÜRKİYE and PAKISTAN. 28-11-2022

Listen to this article Trade Volume between TÜRKİYE and PAKISTAN.  Jahangir’s World Times E-mail: worldtimes07@gmail.com …

Leave a Reply

%d bloggers like this: