Thursday , August 11 2022
Home / Archive / گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی نئی آبادکاری (‌Golan Hights)

گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی نئی آبادکاری (‌Golan Hights)

Listen to this article

گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی نئی آبادکاری

جدید دنیا میں رائج نظام کی روح کو سمجھنے کے لیے اسرائیل کے رویے کا مطالعہ موزوں ترین پیمانہ ہے۔ اسرائیل کے فیصلے اور اقدامات اس چیز کو ثابت کرتے ہیں کہ دنیا کس طرح سے ایک مرکز سے کنٹرول کی جارہی ہے۔ کس طرح سے اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کی قراردادیں اور مذمت ایک زبانی جمع خرچ ہے۔ اسرائیل اپنے عزائم کا اعلان نہیں کرتا بلکہ اس کی اطلاع دیتا ہے۔
یہی معاملہ اسرائیل کی حالیہ پیش رفت کا ہے جس کے ذریعے اسرائیل کے وزیراعظم نفتالی بینٹ نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں پر اپنی آبادی کو دوگنا کرنے جارہا ہے۔ اس کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ملٹی ملین ڈالر کے پروگرام کا اعلان کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تمام منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے اور اب عمل درآمد باقی ہے۔ یہ منصوبہ پانچ سال کے عرصے پر محیط ہے۔ اسرائیل نے گولان کی پہاڑیاں کوئی پانچ دہائیاں قبل شام سے چھینی تھیں اور اس کا حالیہ منصوبہ ان پہاڑیوں پر اپنی حکومت کو مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ البتہ بینٹ نے کہا ہے کہ حالیہ منصوبہ ٹرمپ کے اُس بیان کے پیش نظر کیا گیا ہے جس میں اسرائیل کا ایک بڑے علاقے پر حق تسلیم کیا گیا ہے اور واضح کیا کہ موجودہ امریکی حکومت کا بھی اُس بیان سے واپس پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بلکہ جوبائیڈن کے حلف اُٹھانے کے ساتھ ہی سیکرٹری آف سٹیٹ اینٹونی بلنکن نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ گولان اسرائیل کے لیے بہت اہم اور ضروری ہے کیوں کہ اُسے اس طرف ایران اور شام کے منصوبوں کا خطرہ درپیش ہوسکتا ہے۔ اس طرح سے اس اقدام پر امریکی حمایت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
بینٹ نے پورے زور سے یہ کہا ہے کہ یہ اُن کا وقت ہے۔ لمبے عرصے کے وقفے کے بعد اب وہ گولان ہائٹس کو پھر سے سر کرنے جارہے ہیں۔ ایسا بینٹ نے کیبنٹ کے خاص اجلاس میں کہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق اس آبادکاری کے پہلے مرحلے میں تین لاکھ ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ اس میں ہر طرح کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا جس میں سیاحت اور صنعت کو فروغ دیا جائے گا اور اس منصوبے کو صاف توانائی والا بنایا جائے گا جو کہ ماحولیات کے پیش نظر ہے یعنی کاربن و دیگر گیسوں کے اخراج سے پاک۔ اس سے بے شمار نوکریاں میسر آئیں گی اور کاروبار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ آباد کاروں کو سہولت دینے کے لیے یہاں 7300 گھروں کی تعمیر کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ کل 23 ہزار یہودیوں کو یہاں آباد کرنے کا پروگرام ہے جس سے اُن کی آبادی تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔
اسرائیل نے ان پہاڑیوں پر 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کرلیا تھا نیز1981ء میں مزید 1200 مربع کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ۔ اُس وقت بھی یہاں آبادکاری کرکے ہر قسم کی شہری سہولت کو مہیا کیا گیا تھا نیز سیاحت کو بھی فروغ دیا گیا۔ سب سے پہلے امریکا نے اسرائیل کے اس قبضے کی حمایت کی تھی جب کہ پوری عالمی برادری نے اس کی مذمت کی تھی اور ایک عرصے تک اِنھیں مقبوضہ پہاڑیاں کہا جاتا رہا ہے۔
اِس کے علاوہ اسرائیل نے دو اور علاقوں پر قبضہ کرکے اپنے زیر اثر کیا تھا اور وہاں اپنا قانون نافذ کردیا تھا۔ ان میں سے ایک مغربی کنارہ اور دوسرا مشرقی یروشلم۔ اِن پر بھی 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے قبضہ کیا تھا۔ اس سے قبل غزہ کی پٹی جو فلسطین کا علاقہ تھا اور جزیرہ نما سینائی جو کہ مصر کا علاقہ تھا پر قبضہ کرکے اپنا حصہ قرار دے دیا تھا۔ اسرائیل کی سب سے کم آبادکاری گولان کی پہاڑیوں پر ہی ہے اور اب وہ پوری توجہ سے اسے بڑھانا چاہتا ہے۔
شام میں ایک عشرے سے جاری جنگ نے اسرائیل کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ یہاں مزید آبادیاں قائم کرے۔ اِس سلسلے میں اسرائیل کو اپنے اتحادیوں خاص طور پر امریکا کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اسرائیل کا حوصلہ بڑھایا گیا ہے کہ وہ یہ کام جلد کر گزرے۔
اسرائیل کے لیے یہ سٹریٹجک علاقہ ہے اور وہ اس پر اپنا کنٹرول زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اُس کے مطابق ایسا وہ ایران اور شام کی طرف سے ممکنہ جارحیت سےبچنے کے لیے کررہا ہے۔ نیز اُسے اُس کے اتحادیوں کی طرف سے بھی یہی صلاح ملی ہے کہ گولان پر اپنا کنٹرول مضبوط نہ کرنے کی صورت میں اُسے گھمبیر صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس علاقے میں کوئی پچاس ہزار لوگ بستے ہیں جن میں آدھے یہودی آبادکار ہیں اور بقیہ پہلے سے آباد دروز عرب ہیں جو یہاں کے اصل باشندے ہیں اور وہی سب سے زیادہ اس فیصلے کی مذمت کر رہے ہیں۔ اسرائیل اصل میں یہودیوں کی آبادی کو دوگنا کرکے عربوں کی آبادی کے تناسب کو کم کرنا چاہتا ہے۔
گولان کی پہاڑیوں پر البتہ اسرائیل کو کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اول، ایران اور شام کی طرف سے کوئی نہ کوئی مزاحمت ہوسکتی ہے۔ دوم، ویسٹ بینک کی طرح یہودی گولان کی پہاڑیوں سے کوئی مذہبی نسبت نہیں رکھتے اس لیے یہاں قبضے کا جذبہ اُس طرح سے نہیں ہوسکتا جس طرح سے بقیہ فلسطین پر ہے۔ سوم، ویسٹ بینک اسرائیل کے بقیہ علاقوں سے قریب ہے اور لوگ روزانہ کی بنیاد پر وہاں آجا سکتے ہیں اور اس طرح سے وہاں نوکری کرنا آسان معلوم ہوتا ہے لیکن گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اسرائیلی علاقوں سے اتنی نزدیک نہیں پڑتیں اور روزانہ کی بنیاد پر وہاں کام کرنا آسان نہ ہوگا۔ صرف وہی لوگ وہاں کام کر سکیں گے جو وہاں آباد ہوں گے۔

Check Also

In Conversation with Shahzaib Mushtaq (PSP) 9th in Pakistan

Listen to this article In Conversation with Shahzaib Mushtaq (PSP) 9th in Pakistan 1st in …

Leave a Reply

%d bloggers like this: