Saturday , October 23 2021
Home / Archive / ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ

ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ

ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ

فنانشل ایکش ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے 20 جون سے 25 جون تک منعقدہ اپنے پلانیری اجلاس میں پاکستان کو مزید وقت کے لیے گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِسے ابھی مانیٹرنگ کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 سفارشات کی تکمیل کرلی ہے لیکن اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے ملک کے قانونی نظام میں بہتری لانے پر پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے۔ اکتوبر 2020ء میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشان دہی کی تھی جس میں مزید کام درکار تھا اور اِس کے لیے پاکستان کو فروری 2021ء تک کا اضافی وقت فراہم کیا گیا تھا جس کے بعد فروری 2021ء کے اجلاس میں ادارے نے تین سفارشات پر کام کرنے کو کہا تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اب تک 27 سفارشات میں سے 26 مکمل کر لی ہیں اور ستائیسویں پر ’بھرپور‘ کام جاری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا ’نامناسب ہو گا۔‘
اِس وقت ایف اے ٹی ایف کی تین سفارشات رہتی ہیں۔ جن میں دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی، سزا دلوانے اور اُنھیں ہونے والی مالی معاونت کی روک تھام شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اِن سفارشات پر پیش رفت کے بارے میں جوابات جمع ہوتے رہے ہیں اور اب جو اعتراضات آئیں گے اُن پر کام کیا جائے گا۔
پاکستان کا گرے لسٹ میں جانا 2018ء کا واقعہ ہے۔ اُس وقت سے لے کر اب تک پاکستان بڑی مثبت سوچ اور مدبرانہ انداز سے اِس لسٹ سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے۔ کورونا میں دنیا کی ڈوبتی معیشت کے باوجود گزشتہ برس پاکستان کی ترسیلات زر میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اِس کی ایک وجہ پاکستان کی جانب سے اُٹھائے گئے ایسے اقدامات تھے جن سے اوورسیز پاکستانیوں نے قانونی طور پر رقوم ملک میں بھیجیں اور ہنڈی حوالہ کی حوصلہ شکنی ہوئی جوکہ ایک متوازی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ذیل میں ہم بات کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان سے کیا چاہتا ہے اور پاکستان ابھی تک کیا کر پایا ہے۔
اکتوبر 2020ء میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشان دہی کی تھی جن میں مزید کام درکار تھا اور اِس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا تھا۔ اِس اجلاس میں پاکستانی حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کے تناظر میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو شدت پسندوں کی مالی امداد کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جن تین شعبوں کی نشان دہی کی گئی ہے اُن میں پہلا یہ ہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اِس کا عملی مظاہرہ کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشان دہی کر کے نہ صرف اِس کی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ اِن جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور اُن کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
دوسرا نکتہ یہ قرار پایا کہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے، اُس کے نتیجے میں اُنھیں سزائیں ہوں جس سے اِن جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔
اِس ضمن میں تیسری ڈیمانڈ یہ کی گئی کہ اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشت گردوں اور اُن کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ اُنھیں فنڈز جمع کرنے سے روکا جا سکے اور اُن کے اثاثوں کی نشان دہی کر کے منجمد کیا جائے اور اُن تک رسائی روکی جائے۔
اب جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کون سے اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان نے بہت سے مشتبہ دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفتاریاں کی ہیں اور اُنھیں سزائیں سنائی گئی ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات پوری کرنے اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے قانون سازی بھی کر چکا ہے۔
چوں کہ گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں اور عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا۔ اِس لیے پاکستان نے رقوم کی ترسیل کے غیر قانونی راستوں کو روک لگائی جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں بھجوائی جانے والی رقوم جولائی 2020ء میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اضافے کی بنیادی وجہ غیر قانونی ذرائع یعنی اور ہنڈی اور حوالہ کے بجائے بینکوں کا بڑھتا استعمال ہے۔ جولائی 2020ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں 2.7 ارب ڈالر سے زائد رقوم بھیجی گئیں۔ یہ رقوم جولائی 2019ء کے مقابلے میں 36.5 فیصد اور جون 2020ء کے مقابلے میں 12.2 فیصد بڑھیں۔ ہنڈی کا سلسلہ روک کر رکھنا پاکستان کے حق میں ہے۔ رقوم کی ترسیل بنکوں کے ذریعے ہوں تو وہ ریاست کی رگوں میں خون کا اثر رکھتی ہیں۔ اِس نظام میں پیچیدگیوں کو کم کرنا ہوگا۔ ہنڈی کی طرف لوگوں کا مائل ہونے کی بڑی وجہ اِس کا طریقہ کار سادہ ہونا ہے۔ ہنڈی میں ایک فون کال کے ذریعے رقم آپ کے گھر کی دہلیز تک پہنچا دی جاتی ہے۔ مقتدر حلقوں کو اِس بات پر بھی توجہ دینا ہوگی کہ بینکوں کے ذریعے لوگوں کے لیے رقوم کے لین دین میں آسانی لائی جائے ورنہ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ عام صارفین کے لیے بینکوں تک رسائی ہی مشکل بنا دی گئی ہے۔
پاکستان کا ردعمل
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایف اے ٹی ایف کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 27 میں سے 26 نکات کے نفاذ کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں باقی رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس بات کا تعین کیا جائے کہ ایف اے ٹی ایف فورم تکنیکی ہے یا سیاسی۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس معاملے کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیوں کہ کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان پر فیٹف کی تلوار لٹکتی رہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی تجویز کردہ سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کے باوجود پاکستان کو نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھنے کی وجہ نہیں بنتی۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو اقدامات اُٹھائے وہ ملک کے مفاد کو دیکھتے ہوئے لیے گئے اور پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کی تنقید کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ اگر یہ ٹیکنیکل فورم ہے تو پاکستان کو گرے لسٹ میں نہیں ہونا چاہیے اور اگر یہ سیاسی فورم ہے تو پھر واضح کیا جائے۔
پاکستان نے کون سے نکتے پر کام کرنا ہے؟
ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ باقی ماندہ ایک آئٹم پر جلد از جلد عمل در آمد کیا جائے۔ اِس آئٹم کی وضاحت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ فیٹف چاہتا ہے کہ پاکستان ثابت کرے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کیسز میں تحقیقات اور سزاؤں کا نشانہ اب اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد گروہوں کے ’سینئر لیڈر‘ اور ’کمانڈر‘ بن رہے ہیں۔ اِس سے قبل پاکستان نے اقوام متحدہ کے نامزد کردہ ایسے افراد کے خلاف قانون سازی بھی کر رکھی ہے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت ایسے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ حافظ سعید اِس وقت جیل میں مختلف مقدمات میں سزا بھگت رہے ہیں جن میں دہشت گردی سمیت دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات شامل ہیں۔
پاکستان نے حال ہی میں اِس حوالے سے اسمبلی میں درجن کے قریب قوانین بھی منظور کیے ہیں اور متعدد اقدامات بھی کیے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ پاکستان نے ٹیرر فنانسنگ کے خلاف کافی اقدامات کیے ہیں جس کے لیے وہ پاکستانی حکام کے شکر گزار ہیں۔
’تاہم منی لانڈرنگ اب بھی ہو رہی ہے اور پاکستان کو اِس کی تحقیقات کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔‘
منی لانڈرنگ کے نئے ایکشن پلان کے کیا نکات ہیں؟
انسداد دہشت گردی کے ایکشن پلان کے ایک نکتے کے علاوہ پاکستان کو فیٹف کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ کے باہمی جائزے میں بھی چالیس سفارشات پر عمل کرنا تھا جس میں زیادہ تر کا تعلق منی لانڈرنگ سے تھا۔
اِس حوالے سے پاکستان کو فیٹف کی طرف سے اب چھ نکاتی نیا ایکشن پلان دیا گیا ہے۔
اس پلان کے مطابق پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی خامیوں کو دور کرنا ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ منی لاندڑنگ کے قوانین میں ترمیم کرکے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
2۔ ثابت کیا جائے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد افراد کے خلاف بین الاقوامی تعاون لیا جا رہا ہے۔
3۔ ثابت کیا جائے کہ ملک میں غیر مالیاتی کاروبار اور پروفیشنل افراد جیسے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، جواہرات کے ڈیلرز، وکلا، اکاونٹنٹس اور دوسرے پیشہ ور افراد کے حوالے سے لاحق خطرات کا جائزہ لینے کے لیےاِن افراد کی نگرانی اور اُن کے خلاف ایکشن کا طریق کار موجود ہے۔
4۔ بے نامی جائدادوں وغیرہ کے خاتمے کے لیے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا نظام وضع کیا جائے۔
5۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات، اُن کے اثاثے ضبط کرنے اور سزائیں دینے کے عمل میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔
6۔ غیر مالیاتی کاروبار اور پروفیشنل افراد کی نگرانی کرتے ہوئے یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی مواد کے پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے قواعد پر عمل کر رہے ہوں اور جو ایسا نہ کریں اُن کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں۔
نئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھنے پر پاکستان کے وفاقی وزیر حماد اظہر نے عالمی تنظیم کے نئے ایکشن پلان پر ایک سال میں عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر جلد عمل درآمد مکمل کر لے گا۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو سات نکاتی نیا ایکشن پلان دیا ہے۔ نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال کے اندر عمل درآمد کا ہدف ہے۔ ‘‘اُنھوں نے بتایا کہ عالمی تنظیم کے پہلے ایکشن پلان کا ہدف دہشت گردوں کی مالی اعانت کو روکنا تھا جب کہ نئے دیے گئے ایکشن پلان میں توجہ منی لانڈرنگ کے تدارک پر ہے۔
حماد اظہر نے کہا کہ ایف اےٹی ایف کے صدر نے پاکستان کے کردار کو مثالی قرار دیا ہے اور نگرانی کی فہرست میں برقرار رہنے سے پاکستان کو کسی پابندی کا سامنا نہیں کرنا ہے۔ بقول اُن کے ’اگرچہ پاکستان گرے لسٹ سے نہیں نکل سکا تاہم عالمی سطح پر ملک کی کارکردگی کو تسلیم کیا گیا ہے۔‘
ماہرین کی آرا
ڈاکٹر اعجاز بٹ (ماہر امور خارجہ)
دنیا ایک نئی سرد جنگ کی طرف جا رہی ہے جس میں امریکا، چین کے کردار کو محدود کرنے کے لیے ہر ممکن کام کرے گااور اب یہی امریکا کی پالیسی ہے۔ بدقسمتی سے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سمیت دیگر عالمی ادارے وہ ہتھیار ہیں جنھیں امریکا، پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معیشت اِن مشکل حالات کا مقابلہ کر سکے گی؟ سب سے اہم کام معیشت کو مستحکم کرنا ہے جس پر ہمیں تن دہی سے کام کرنا ہوگا۔
ہر طرف پاکستان کے گرے لسٹ میں رہنے پر باتیں ہورہی ہیں مگر اِس میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم بلیک لسٹ نہیں ہوئے۔ ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ بھارت نے ہمیں بلیک لسٹ کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اِس نے ایک کالعدم تنظیم کے نام پر شور مچایا، صرف احمد آباد سے 3 لاکھ ٹویٹ ہوئے۔
یہ رویہ پاکستان کے تمام کیے گئے اقدامات پر پانی پھیرنے کے مترادف تھا۔ بھارت نے ہمارے خلاف لابنگ کی مگر چین، سعودی عرب جیسے دوست ممالک کی وجہ سے اُسے ناکامی ہوئی لہٰذا ہمیں مستقبل میں ایسا کوئی موقع نہیں دینا چاہیے جس کا فائدہ بھارت اُٹھائے۔ ہم گزشتہ تین برسوں سے گرے لسٹ میں ہیں جس کی وجہ سے کوئی یہاں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہے۔ اِن تین برسوں میں ہمیں 38 بلین ڈالر کا نقصان ہوا اور ہرگزرتے دن کے ساتھ اِس میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔ اسی طرح GSP+ سٹیٹس کے لیے ہم یورپی یونین کے محتاج ہیں، اِس پر ہماری معیشت کا انحصار ہے، امریکا کے ساتھ بھی ہماری معیشت جڑی ہے لہٰذا اگر معاملات خراب رہے تو معیشت کو بہت نقصان ہوگا۔ میرے نزدیک جہاں ضرورت ہے وہاں معاملات بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ معیشت کو سنبھالا مل سکے۔ معیشت مضبوط ہوگی تو ہم ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔
ہمیں اپنے جوڈیشل سسٹم میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ مسائل میں ہمیں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول عدلیہ کو مل بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ افغانستان میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ طالبان تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، وہ جلد افغانستان پر کنٹرول کر لیں گے، اِس سے پاکستان میں انتہا پسندی بڑھ سکتی ہے۔ اپنی سلامتی کو دیکھتے ہوئے ہمیں بروقت اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔
امریکا کو اڈے نہ دینے کے حوالے سے وزیراعظم کا مؤقف درست ہے۔ اُسے ہوائی اڈے افغانستان نہیں بلکہ چین سے ٹکر لینے کے لیے چاہییں، ہمیں دانش مندی کے ساتھ فیصلے لینا ہوں گے اور امریکا کے عزائم کو بھانپنا ہوگا۔ ہمیں چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور سی پیک منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہیے۔ ہمیں چین کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ ابھی تک ہم نے اچھے کارڈ کھیلے ہیں، آگے بھی وقتی مفاد نہیں بلکہ دیرپا معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا، اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اِس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ میرے نزدیک اِس وقت گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک مؤقف اپنا کر آگے بڑھیں۔
بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی (دفاعی تجزیہ نگار)
ایف اے ٹی ایف کے نکات پر صحیح معنوں میں جائزہ لیا جائے تو امریکا، اسرائیل اور بھارت اِس کی گرفت میں آتے ہیں۔
داعش، طالبان، خراسان اور ابوبکر بغدادی کی فنانسنگ امریکا نے کی اور اب تک وہ مختلف گروہوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا آیا ہے اور کر رہا ہے مگر اِس پر ایف اے ٹی ایف مکمل خاموش ہے بلکہ بھارت کے حوالے سے بھی جانب داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے حالاں کہ وہاں یورینیم سرعام فروخت ہورہا ہے۔
ایف اے ٹی ایف ایک سیاسی ٹول ہے جو ممالک کو بلیک میل کرنے اور چھوٹے ممالک کو تباہ کرنے کے لیے ہے۔ اِس کی گرے لسٹ میں موجود ممالک میں سے پاکستان کے علاوہ کوئی بھی ملک دنیا میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ پاکستان سے امریکا کے مفادات وابستہ ہیں اور وہ پاکستان کو دبانا چاہتا ہے، اِسی طرح سوڈان، یوگنڈا ا ور گرے لسٹ میں موجود دیگر چھوٹے ممالک سے یورپ ہیرے، جواہرات نکالتا ہے اور اپنے مفادات کے لیے وہاں گینگ وار کو سپورٹ کرتا ہے۔ اِس گینگ وار کے نتیجے میں وہ الزامات لگا کر ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پابندیاں لگواتا ہے اور مفاد حاصل کرتا ہے۔
پاکستان نے سوات آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑی، وہاں سے جو اسلحہ برآمد ہوا اِس پر ’میڈ اِن بنارس، انڈیا‘ لکھا ہوتا تھا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر سے ٹیرر فنانسنگ نہیں ہوئی بلکہ باہر سے پاکستان میں ہوتی ہے۔ دنیا سب جانتی ہے مگر چوں کہ پاکستان اسلامی ملک اور ایٹمی طاقت ہے اور پھر موجودہ معروضی حالات میں اِس کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے لہٰذا گرے لسٹ سے نکلنے کے جلد امکانات نظر نہیں آرہے۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف پاکستان نے سخت مؤقف اپنایا، اِسی لیے فرانس اور اِس کے اتحادی ممالک بھی پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکا کی جنگ میں بہت نقصان اُٹھایا، ہم نے اپنے وسائل سے جنگ لڑی اور امریکا اپنے وعدے سے مکر گیا، ابھی تک امریکا نے ہماری 3 اقساط واپس نہیں کیں۔
ماضی کو دیکھتے ہوئے اب پاکستان امریکا کی لائن پر نہیں چل رہا جس کی وجہ سے امریکا کو تکلیف ہورہی ہے اور وہ مختلف رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے، اِس کے لیے ایف اے ٹی ایف کا فورم بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان افغان امن عمل کا فریق ہے، اور اِس معاہدے میں یہ شامل ہے کہ اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے مخالف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا لہٰذا اگر پاکستان، امریکا کو ہوائی اڈے دیتا ہے تو وہ افغان امن عمل کی خلاف ورزی ہوگی اور اِس کا یقینا ہمیں نقصان ہوگا۔
افغان حکومت نہیں چاہتی کہ افغانستان میں امن ہو کیوں کہ اگر ایسا ہوگیا تو اُن کی ٹھاٹھ باٹھ اور عیش ختم ہوجائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکا کو ہوائی اڈے نہ دینے کے حوالے سے مضبوط مؤقف اپنایا ہے، اپوزیشن کو بھی اِس مؤقف پر آنا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ ہم ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں۔ سی پیک سے دنیا کو تکلیف ہے۔ پاکستان اِس گیم چینجر منصوبے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اِس پر بہترین کام ہورہا ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت 90 فیصد روڈ انفراسٹرکچر مکمل ہوچکا ہے اور اب ہم اِس کے فیز ٹو میں داخل ہوچکے ہیں جو خوش آئند ہے۔ ہمیں اِس وقت ایف اے ٹی ایف یا دیگر حوالے سے زیادہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنے اندرونی مسائل سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے جس میں توانائی کا بحران و دیگر معاملات ہیں۔ میرے نزدیک ہمیں خود کو اندرونی طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر امجد مگسی (سیاسی تجزیہ نگار)
ایف اے ٹی ایف اور امریکا، افغان معاملات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان نے کافی کام کیا، جسے امریکا سمیت خود ایف اے ٹی ایف کے اراکین نے سراہا۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کیا مگر پھر بھی گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا جو افسوس ناک ہے۔
اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات صرف 27 نکات کے نہیں بلکہ کچھ اور ہیں۔ اقوام متحدہ و دیگر عالمی ادارے جانب داری کی وجہ سے پہلے ہی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں، اب ایف اے ٹی ایف کے صدر نے بھی اپنے ادارے کی ساکھ مجروح کی اور اِسے سیاست کے لیے استعمال ہونے دیا۔
امریکا نے اپنے مفادات کے لیے ہمیں جنگ میں جھونکا جس میں ہمارا مالی اورجانی نقصان ہوا۔ اب امریکا ہوائی اڈے مانگ رہا ہے اور ہمیں دوبارہ سے مصیبت میں ڈالنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں حالات خراب ہیں لہٰذا امریکا کو ہوائی اڈے نہ دینے کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک مؤقف اپنا کر قوم کی اُمنگوں کی درست ترجمانی کی ہے، اُن کا یہ مؤقف قابل تحسین ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا جھکاؤ واضح ہے، وزیراعظم عمران خان امریکا کو اڈے نہ دینے کا اعلان کرتے ہیں اور اگلے ہی روز پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کا یہ فیصلہ آجاتا ہے جس سے اِس کی جانب داری اور جھکاؤ واضح ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں ہی دشمن نے لاہور میں بدامنی کی چال چلی مگر الحمدللہ وہ ناکام رہا۔ بدلتے حالات میں افغانستان ہمارے لیے آزمائش بنتا جا رہا ہے، وہاں بھارت بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور ہمارے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ امریکا اور بھارت مل کر ہمیں چین سے دور کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ حالات کو اپنے مفاد میں کر سکیںلہٰذا ہمیں دانش مندی سے کام کرنا ہوگا اور ہماری قیادت کو دوررس فیصلے کرنا ہوں گے۔ یہ خوش آئند ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حالیہ بجٹ میں سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لیے خصوصی بجٹ مختص کیا گیا۔ ماضی میں امریکا کی جنگ میں ہم نے بہت نقصان اُٹھایا ہے، ہمیں کسی دوسرے کے گھر کی آگ کو اپنے گھر میں نہیں لگانا چاہیے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ دشمن ہماری تاک میں ہے اور ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ امریکا کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر مؤقف کو مزید مضبوط کرنا چاہیے اور اِس حوالے سے پالیسی بھی بنانی چاہیے تاکہ مشکلات سے بچا جاسکے۔

Check Also

The Booker Prize 2021

Sorry you have no rights to view this Article/Post! Please Login or Register to view …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: