Tuesday , October 4 2022
Home / Archive / کیا سیاسی استحکام پاکستان کو سنوار سکتا ہے؟

کیا سیاسی استحکام پاکستان کو سنوار سکتا ہے؟

Listen to this article

کیا سیاسی استحکام پاکستان کو سنوار سکتا ہے؟

پاکستان کی معاشی صورت حال ریڈ زون میں جاچکی ہے اور اس کا سیاسی عدم استحکام سے تقریباً براہ راست تعلق ہے۔ ہر طرف سے یہی تبصرہ کیا جاتا ہے کہ جب تک سیاسی صورت حال بہتر نہ ہوگی اُس وقت تک معیشت کی بحالی ایک خواب ہے۔ ڈالر میں نشیب و فراز بھی عام طور پر سیاسی صورت حال کے ساتھ ہی مشاہدہ کیا جارہا ہے گو حقیقت میں ایسا نہیں بھی ہوتا۔ مثال کے طور پرتادم تحریر ڈالر کی قیمت میں جویک دم کمی دیکھنے میں آئی ہے وہ اس کی طلب کم ہونے کے باعث ہے لیکن اسے امریکا سے تعلقات کے ضمن میں ہی دیکھا جارہا ہے۔ اس ساری صورت حال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی معیشت کی نوعیت : داخلی اور خارجی پہلو
پاکستان کی معیشت داخلی عنصر کی حامل ہے یعنی اس کا زیادہ زور اندرونی معاملات پر ہے اور اس میں یہ بہت مضبوط ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان کے لوگوں کی معاشی حالت سے لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں آبادی اس حوالے سے ایک بہت بڑا عنصر ہے۔ یعنی آبادی کے بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے غربت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ا یک بڑا طبقہ مفلوک الحال نظر آتا ہے لیکن دوسری طرف ایک بڑا طبقہ خوش حال بھی نظر آتا ہے۔ پھر جو مفلوک الحال طبقہ ہے یہ کہنے کو تو مفلوک الحال ہے لیکن اس کے معاملات حد سے زیادہ خراب نہیں ہیں۔ ظاہر ہے ایک بہت بڑی آبادی میں سے ہرکسی کو تمام قسم کی سہولیات نہیں مل سکتیں لیکن اگر کچی آبادیوں کی حالت دیکھی جائے تو وہاں کے لوگوں نے ایک اپنا ہی جہان آباد کیا ہوا ہے۔ ایک توپاکستان کی کچی آبادیاں دنیا میں Slum کے تصور سے مختلف ہیں۔ مثلاً انٹرنیٹ پر کراچی کے کورنگی ٹائون کو Slum قرار دیا گیاہے۔ جاننا چاہیے کہ اس Slum کا رقبہ 57 مربع کلومیٹر ہے۔ اس Slum میں اگر تنگ گلیاں ہیں توکھلی گلیاں بھی ہیں۔ اس Slum میں ایسے گھر بھی ہیں جنھیں بالکل بھی غریب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لحاظ سے کورنگی ٹائون کو کسی طرح بھی Slum قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اِس حوالے سے جس کسی نے بھی نیٹ پر اسے Slum قرار دیا ہے وہ پاکستان کی معیشت سے بے بہرہ ہے۔ اس کے مقابلے میں بمبئی کے Slum کو چھوٹا سلم قراردیا ہوا ہے حالاں کہ وہاں اتنی ہی آبادی 6 کلومیٹر کے اندر بستی ہے۔

یہ پاکستان کی ایک کچی آبادی کی صورت حال ہے۔ اس سے بہتر علاقوں کی صورت حال میں یہاں کے صارف معاشرے کی نوعیت کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے کہ مہنگائی ہونے سے کسی بھی چیز کی طلب میں فرق نہیں پڑتا۔ پٹرول مہنگا ہونے سے سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد اسی طرح رواں دواں رہتی ہے۔ یہ ساری چیزیں پاکستان کی معیشت کی نوعیت کا واضح کرتی ہیں لیکن یہ نوعیت باقاعدہ مطالعہ کی گرفت سے باہر ہیں۔ باقاعدہ مطالعہ کے اعدادوشمار پاکستان کی مختلف صورت حال کو پیش کرتے ہیں جو اُس کے خارجی پہلو سے متعلق ہے۔ یہ بات یہاں واضح کردیں کہ پاکستان کی خارجی معیشت کمزور ہے کیوں کہ پاکستان کا باہر کی دنیا سے تعلق محدود ہے۔ محدود سے مراد یہ ہے کہ دنیا کے بڑے معاشی اتحادوں کا حصہ نہیں۔ اس کی وجہ سے اس کی مصنوعات ساری دنیا تک رسائی نہیں رکھتیں۔ خاص طور پر انڈیا کےمقابلے میں پاکستان کی خارجی معیشت بہت کمزور ہے لیکن داخلی معیشت انڈیا کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے۔ انڈیا کےعام آدمی کا معیارزندگی پاکستان کے عام آدمی کے معیار زندگی سے بہت پست ہے۔ انڈیا میں ایک بڑی آبادی کو بیت الخلا میسر نہیں جب کہ پاکستان کی کچی آبادیوں میں بھی یہ صورت حال نظر نہیں آئے گی۔

پاکستانی معاشرے کی قوت خرید
پیرس کے پاکستانی نژاد ڈیزائنز محمود بھٹی پاکستانی معیشت کے بارے میں اس چیز کا اظہار کرتےہیں کہ پاکستانی معاشرے کی قوت خرید یورپ سے زیادہ ہے۔اُن کے مطابق پاکستان میں ایک متوسط طبقے کا فرد اگر گھر بنانے کا ارادہ کرلے تو وہ پانچ چھ سال میں اپنا گھر بنا لیتا ہے اور یہ بغیر کوئی قرضہ لیے ایسا کرتا ہےکیوں کہ ایک متوسط شخص کو کو ئی قرضہ دینے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا کیوں کہ اُس کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ وہ قرضہ لے سکے۔ جب کہ یورپ میں اگر کوئی شخص اپنا گھر بنانا چاہے تو وہ قرضہ لیے بغیر اس کا سوچ بھی نہیں سکتا اور بیس سال تک اُس کا قرضہ پورا نہیں ہوتا۔

اسی طرح پاکستان میں زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور بڑے شہر میں ایک چھوٹا سا گھر ہونے کا مطلب ہے کہ وہ شخص کروڑ روپے سے زیادہ کا مالک ہے لیکن یورپ میں یہ صورت حال نہیں ہے۔ یورپ کی زیادہ تر آبادی کرایے کے گھروں میں رہتی ہے۔

اِسی طرح خاندان کی دیکھ بھال کی صورت حال ہے۔ پاکستان میں عام طور پر ایک شخص پورے کنبے کا بوجھ اُٹھا رہا ہوتا ہے اور اپنے بچوں کو جوان ہونے کے بعد بھی پالتا ہے لیکن یورپ میں یہ تصور نہیں ہے۔ یورپ میں عام طور پر ایک شخص اپنے لیے ہی کماتا ہے۔ پاکستان میں شادی بیاہ بھی ایک بہت بڑا خرچہ ہے۔ یہاں اولاد کی شادی کرنا ایک فرض سمجھاجا تا ہے اور خاص طور پر لڑکیوں کی شادی کرنے میں بہت زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ یورپ میں کسی باپ کو اپنے بچے بیاہنے کی فکر نہیں۔ صرف یہی ایک چیز دوخطوں کی معیشت کی نوعیت کا ایک دوسرے سے مختلف کردیتی ہے۔

پاکستان میں گھروں کااپنا ہونا، بچوں کی پرورش اور شادی بیاہ کے مسائل اس کی معیشت پر مختلف قسم کے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مثلاً اپنا گھر ہونے سے یہ اطمینان تو رہتا ہے کہ ایک مستقل ٹھکانہ موجود ہے لیکن اس سے ایک بہت بڑی پراپرٹی مردہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے ایک گھر جو سالہا سال سے ایک خاندان کے زیر استعمال ہے وہ کوئی ریونیو پیدا نہیں کرتا۔ یورپ کی فکر کہ ایسی رقم کو کاروبار میں لگانے کا کہتی ہے تاکہ یہ پراپرٹی ریونیو پیدا کرسکے۔ اسی طرح شادی بیاہ کے سلسلے میں خرچ ہونے والی ایک بہت بڑی رقم بھی ریونیو سے منہا ہوجاتی ہے اور اس سے عام آدمی کی ذمہ داریوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس سے معاشرہ ایک پریشان کن صورت حال کو ظاہر کرتا ہے اور یہی چیز یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک کمزور معیشت ہے۔ جب کہ ساری صورت حال کا جائزہ لینے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کے عناصر بہت مضبوط صورت حال کو پیش کرتے ہیں۔

2008کا عظیم معاشی بحران Great Depression
اِس کے لیے ایک اور مثال 2008ء کا عالمی بحران ہے جسے گریٹ ڈپریشن کہتے ہیں۔ پاکستان میں پرویز مشرف کی حکومت ختم ہوکر پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تھی اور مشرف حکومت میں جو غلط معاشی پالیسیاں بنائی گئی تھیں اُن کے اثرات کا سامنا اگلی حکومت کو تھا۔ نتیجتاً اُس وقت مہنگائی کی شرح 19فیصد تک چلی گئی تھی اور ڈالر 60سے 100کی سرحد عبور کرگیا تھا۔ معاشی تجزیہ کار پورے وثوق سے یہ بات کرتے تھے کہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں جس طرح کہ موجودہ صورت حال ہے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ساری دنیا معاشی بحران کی لپیٹ میں تھی اور بڑے ممالک اس سے شدید متاثر ہوئے تھے تو پھر پاکستان کی کیاحیثیت تھی کہ وہ متاثر نہ ہوتا۔ اس بحران میں امریکا اور برطانیہ کے کئی بینک دیوالیہ ہوئے لیکن پاکستان کا ایک بھی بینک دیوالیہ نہ ہوا۔ اسی طرح اس بحران میں دبئی کی سٹاک ایکسچینج بیٹھ گئی تھی لیکن کراچی کی چلتی رہی۔ اس سے ایک ہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ محمود بھٹی کا پاکستان کی معیشت کے بارے میں تجزیہ درست فکر پر مبنی ہے کہ پاکستان معیشت کے دوزاویے رکھتا ہے اور اپنے اندرونی زاویے کی بدولت وہ بڑے بحران کا بھی مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ لیکن بہر حال اس چیز کی بھی ایک حد ہے اور حد سے تجاوز اس چیز کو بھی کمزور کردے گا۔

معاشرے کا معاشی ابتری میں کردار: تجارتی خسارہ
سوال یہ ہے کہ معاشرہ اور خاص طور پر عام طبقہ کس کس جگہ پر معاشی بدحالی کا ذمہ دار ہے۔ عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ معاشرہ معاشی ابتری کا ذمہ دار نہیں اور تمام ترذمہ داری حکومت پر ڈالی جاتی ہے۔ لیکن ایک پہلو میں معاشرے کا معاشی ابتری میںکردار بہت زیادہ ہے۔ اول تو پاکستانی معاشرہ ایک زبردست قسم کا صارف معاشرہ ہے اور کسی صورت یہاں چیزوں کی طلب میں کمی نہیں آتی۔ جب یہ چیزیں باہر کی دنیا سے آئیں گی تو ظاہر ہے تو اس کا اثر تجارتی خسارہ پر پڑے گا اور تجارتی خسارہ ڈالر کے ریٹ میں بنیادی عامل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ چینی اشیا کی مانگ ہے۔ چین کی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پاکستان کی مارکیٹیں بھری ہوئی ہیں اور پاکستانی اندھا دھند ان چیزوں کو خرید رہے ہیں۔ ان میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو صرف کھیل تماشے تک محدود ہیں لیکن ان کی مانگ میں کمی نہیں آتی۔ کھلونوں کی مارکیٹ پاکستان کی بڑی مارکیٹوں اور کاروبار کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ظاہر ہے کھلونوں کے بدلے میں ملکی معیشت کا دیوالیہ نکالنا کسی بھی طرح دانش مندی میں نہیں آتا۔ اس طرح سے پاکستانی معاشرہ حکومت کے برابر معاشی ابتری کا ذمہ دار قراردیا جاسکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے کی سیاسی نہج: گروہی سیاست اور برادری
مزیدبراں پاکستان کے معاشرے کی سیاسی نہج بھی اس ابتری میں برابر کی شریک ہے۔صارفیت کے اس عمل میں معاشرے کا تعلق بزنس کمیونٹی سے بن جاتا ہے۔ بزنس کمیونٹی کے مفادات حکومتی ایوانوں سے وابستہ ہوتے ہیں کیوں کہ جمہوریت اسی بزنس کمیونٹی کی سپورٹ سے چلتی ہے۔ پاکستان میں جمہوری عمل گروہوں اور برادریوں کا قیدی ہے۔ پھر منتخب ہونے والے سیاست دان ان گروہوں اور برادریوں کا خوب فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ایک طرف وہ اپنی پراڈکٹ کی تشہیر کرتے ہیں اور دوسری طرف انھی لوگوں سے ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں مالی امداد کے نام پر ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس مالی امداد میں یہی درآمد ہونے والی چیزوں کی فراہمی ایک بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔ یعنی معاشرہ کاروبار کے ذریعے سیاست سے جڑا ہوا ہے اور اس میں برادری اور گروہ کے مفادات پیش نظر رہتے ہیں۔ نتیجتاً ملکی اور قومی مفادات بُری طرح سے نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ یعنی اگر معاشرے کو یہ سبق دیا جائے کہ وہ درآمد شدہ چیزوں کا استعمال کم کر دے تو اس کا سیدھا اثر کاروباری طبقے پر پڑے گا۔ یہ کاروباری طبقہ برادری اور گروہ کے ذریعے اس فکر کو عام ہونے نہیں دے گا۔ یہاں کیوں کہ یورپ کی طرح فرد اکیلا نہیں ہے اور وہ گروہ یا برادری سے الگ نہیں ہوسکتا اس لیے اس عمل کا کامیاب ہونا بہت مشکل ہے۔ اس طرح سے ہم پاکستانی معیشت کے حوالے سے فی الحال مایوسی کا شکار ہی ہوسکتے ہیں۔ اس میں اُمید صرف ایک ہی ہے کہ جب تک اندرونی معیشت میں جان رہے گی ملک چلتا رہےگا لیکن جیسا کہ پہلے کہا جاچکا کہ اس کی بھی ایک حد ہے جس کے بعد اس پر بھی تکیہ نہیں کیا جاسکے گا۔

پاکستان کی سیاست کی نوعیت:  سرمایہ دارانہ
پاکستانی سیاست میں انتخابی مہم ایک بہت مہنگی مہم ہوتی ہے۔اس میں صرف اشتہار بازی نہیں ہوتی بلکہ اُن گروہوں اور برادریوں کو رام کرنا ہوتا ہے جن کے ساتھ سارامعاشرہ جڑا ہوا ہے۔ اس کے لیے منعقد کیے جانے والے جلسوں میں کھانا فراہم کرنے تک کا سلسلہ انتخابی سیاست میں شامل ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف گروہوں سے عہد وپیمان کیے جاتے ہیں کہ حکومت ملنے کے بعد اُنھیں فلاں فلاں مراعات، مالی فائدے اور کاروباری سہولیتیں دی جائیں گی۔ ظاہر ہے ان میں سے طاقت ور گروہوں اور برادریوں سے کیے گئے عہد و پیمان پورے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔ اس بنا پر پاکستان کےکسی الیکشن کو شفاف کہنا درست نہ ہوگا کیوں کہ یہ چیزیں بذات خود زبردست قسم کی دھاندلی میں آتی ہیں۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سیاست اصل میں کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ ہے اور کاروباری طبقہ صارف معاشرے سے کامیاب ہوتا ہے۔جہاں تک جاگیرداروں کا تعلق ہے تو وہ بھی ان سرمایہ داروں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں کیوں کہ صنعت کے بغیر اُن کی پیداوار کسی کام کی نہ ہوگی اور اسی طرح مارکیٹ جس میں اُن کی اجناس بکتی ہیں وہ بھی سرمایہ داروں کے کنٹرول میں ہے۔ اس طرح سے پاکستانی سیاست کی نوعیت جمہوری ہو کر بھی جمہوری نہیں رہتی اور گروہوں کے مفادات سے وابستہ ہوجاتی ہے اور اس کا تمام کاروبار اسی پر چلتا ہے۔ اس صورت حال میں سیاست کے استحکام کی کتنی گنجائش رہ جاتی ہے اسے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ یعنی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے پاکستان کی سیاسی نوعیت براہ راست معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے اوراس کے استحکام سے بھی معیشت کوکوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اس کی نوعیت تبدیل نہ ہو۔

سیاست کا معاشی ابتری میں کردار: مالی خسارہ
سیاست کی بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی۔ یہ تو اس کا ایک پہلو تھا کہ سیاست دان کس طرح سے معاشرے کی غیر متزلزل حمایت حاصل کرتے ہیں اور معاشرہ اُنھیں ووٹ دے کر منتخب کرتا ہے۔ جب وہ اپنی پوزیشن کو مضبوط بنالیتے ہیں تو اُن کی اپنی بدعنوانی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ اس بدعنوانی میں پھر معاشرے کو اسی طرح ملوث کرلیا جاتا ہے۔ معاشرے کو کبھی بھی پیداواری نہیں بننے دیا جاتا بلکہ اُسے زیادہ سے زیادہ صارف ہی بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کی مثالیس رئیل اسٹیٹ کا بزنس اور بینکوں سے لیز پر چیزیںفراہم کرنا ہے۔ اس سے لوگوں کا معیار زندگی تو بڑھ گیا لیکن باہر سے بے دریغ  درآمدات کی وجہ سے تجارتی خسارہ بھی آسمان سے باتیں کرنے لگا۔ گاڑیوں کی لیز کے ساتھ سڑکیں بچھنے کا جال شرو ع ہوگیا لیکن جو قرض لے کر سڑکیں بنائی گئیں وہ واپس نہ ہوسکا اور اس طرح سے ملک پر قرض میں اضافہ ہوگیا۔

اس کے ساتھ حکومتی افسران کی سہولیات کو بہت زیادہ کرنے سے مالی خسارے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا جس سے گردشی قرضے تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ یعنی جس طرح معاشرہ صارف بن گیا اسی طرح حکومت بھی ایک صارف بن کر بجٹ کا بڑا حصہ سہولیات کے نام پر کھا جاتی ہے اور اس کے لیے اُس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہوتا ہے۔

عوام کو سرکاری نوکریوں کے نام پر بھی ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ سرکاری نوکری کا تصور پاکستان اور انڈیا میں کام کیے بغیر تنخواہ لینے کا ہے جب کہ کام کرنے کے لیے رشوت طلب کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے سرکاری ادارے ابتری کا شکار ہوکر اپنی وقعت کھو بیٹھتے ہیں اور اُن کی جگہ پُر کرنے کے لیے نجی ادارے سامنے آتے ہیں اور کاروباری حلقوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے جس کی وجہ سیاست میں بیٹھے کاروباری لوگ مضبوط ہوتے ہیںاور وہ سارا عمل جاری و ساری رہتا ہے جس کی اُوپر نشاندہی کی جاچکی ہے۔

Check Also

Aaj Ke Khabrain 03-10-2022

Listen to this article Aaj Ke Khabrain 03-10-2022 Jahangir’s World Times E-mail: worldtimes07@gmail.com Ph: 0302 …

Leave a Reply

%d bloggers like this: