Friday , December 3 2021
Home / Archive / کورونا کا چیلنج

کورونا کا چیلنج

کورونا کا چیلنج
صحت پہلے یا معیشت

گزشتہ تقریباً پونے دو سال سے دنیا معاشی، سماجی اور سیاسی بحرا ن کا شکار رہی ہے۔ اِس کثیر جہتی بحران کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر پھیلنے والی وبا کووڈ 19 تھی۔اِس وبا نے دنیا کے تمام ممالک، بشمول پاکستان، کو ایسا وقت دکھایاہے جس کی جدید دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اِس وبا کو روکنے کے لیے لگائے جانے والے لاک ڈاؤن نے مختلف مالک کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کیا ترقی یافتہ اور کیا ترقی پذیر، سبھی اِس وبا کے ہاتھوں معاشی طور پر دباؤ کا شکار ہیں۔ اِس صورت حال سے ترقی پذیر اور غریب ممالک خاص طور پر متاثر ہوئے کیوں کہ اِن ممالک کی آبادیوں کا ایک بڑا حصہ معیشت کے اُن معمولات سےروزی روٹی کا بندوبست کرتا ہے جس کا تعلق روز کمانے اور کھانے سے ہوتاہے۔ مزدور، دکان دار، سیلزمین، ڈسٹری بیوٹرز، ٹرانسپورٹ اور پھیری لگانےوالےنہ جانے کن کن صورتوں میں اقتصادی مشین کے کل پرزے کے طور پر اپنے اپنے حصے کا رزق کماتے ہیں۔ لہٰذا یہاں کے حکمران اِس مخمصے کا شکار رہے کہ لاک ڈاؤن لگا کر لوگوں کی صحت کو ترجیح دی جائے یا کاروباری سرگرمیاں جاری رکھ کر ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جائے۔
انیس ماہ سے کورونا کی مہلک ترین وبائی بیماری پوری دنیا میں تباہی پھیلا رہی ہے پھر کسی کو یہ معلوم نہیں کہ یہ وبا کب تک رہے گی اور تباہی پھیلاتی رہے گی۔ کورونا کا ایک خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ اِس کی لہر ایک خوف ناک صورت میں نمودار ہورہی ہے۔ کسی ملک میں دوسری اور کسی میں تیسری لہر زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے۔
ہرچند کہ ویکسین تیار ہوچکی ہے مگر اِس پر بھی ترقی یافتہ ممالک کی اجارہ داری ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی اپنی کمزوریوں اور خراب حکمرانی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کے عوام زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔ ہرچند کہ بھارت نے پہلے ویکسین تیار کرلی اور بیس لاکھ سے زائد بھارتیوں کو ویکسین لگ بھی چکی مگر ایکسپورٹ کرنے کے عمل نے بھارتی دوائوں کی کمپنیوں کو عالمی اجارہ داری فارما گروپ نے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اِس میں وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کی حکومت کی بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ایسے موقع پر تین ریاستوں کے انتخابی شیڈول میں تبدیلی کے بجائے زیادہ ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الیکشن کرا ڈالے، جس نے جلسے جلوس، مظاہروں میںاپنا اثر دکھادیا۔ کورونا نے اِس موقع کا فائدہ اُٹھا لیا۔
اس سے بڑی حماقت بھارتی رہنمائوں نے یہ کی کہ کسی سرکاری جوتشی مہارش کی باتوں میں آکر وہ مذہبی میلہ جو بارہ سال بعد منعقد ہوتا ہے، اِس کو ایک سال پہلے کرالیا، یہ تجویز بھی اِسی جوتشی نے دی۔ اکیسویں صدی میں دوران نامساعد حالات میں حکومتیں جوتشیوں ……، پیر وں فقیروں سے چلائی جائیں تو پھر اِس دنیا کا اللہ ہی حافظ ہے۔ بھارت میں کورونا نے عوام کے لیے نئے نئے مسائل اور مصائب کھڑے کیے ہیں، اِن سے نمٹنا آسان نہیں۔ کورونا کی مہلک وباسے نمٹنے کے لیے حکومتیں جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مسلسل زور دے رہی ہیں، اِن پر عوام کی اکثریت کوتاہی برت رہی ہے، خصوصاً لاک ڈائون کی زیادہ مزاحمت کی جارہی ہے۔
اس پر ہر ملک کی تاجر برادری اور بزنس کمیونٹی کے تحفظات ہیں۔ اِس حوالے سے حکومتوں کا مؤقف ہے کہ مہلک بیماری سے بچنا اور جان بچانا بنیادی معاملہ ہے اور بزنس کمیونٹی کا استدلال ہے کہ لاک ڈائون گرتی معیشت کو مزید ڈھا دے گا، معیشت ابتر ہوجائے گی اور معاشروں پر اِس کے بھیانک اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومتیں کہتی ہیں اولین مسئلہ جان بچانا اور دوسرا مسئلہ معیشت کو سہارا دینا ہے۔ گویا مسئلہ یہاں آکر مزید گمبھیر ہوجاتا ہے کہ صحت پہلے یا معیشت پہلے…!
ہر دو جانب سے دلائل، مثالیں اور استدلال کے پہاڑ کھڑے کیے جارہے ہیں۔ بیش تر سیاست دانوں، حکمرانوں اور دانش ور صحت پہلے مقدم ہے کہ، جواز میں بات کررہے ہیں جب کہ کاروباری طبقات، سرمایہ کار اور بینکار معیشت کو اولین ترجیح قرار دے رہے ہیں۔ دونوں جانب مکاتب فکر کے پاس ٹھوس دلائل ہیں لہٰذا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون سو فیصد درست ہے۔
1918ء میں یورپ، امریکا اور دیگر ممالک انفلوئنزا کی وبا کی لپیٹ میں آکر پانچ کروڑ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اِس کو اسپنش فلو کا عنوان دیا مگر اِس کا اسپین سے تعلق نہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو لاکھوں زخمی، نیم زخمی سپاہی اپنے اپنے وطن کو لوٹنے لگے۔ ہجوم، نامساعد حالات، بدتر طرزحیات، فوجی معرکے، ایسے میں وبائی امراض کا پھلنا پھولنا ظاہر تھا پھر اِس وقت انفلوئنزا کی ویکسین یا مؤثر دوا دستیاب نہیں تھی، ایسے میں اِس مہلک وبا نے تباہی پھیلا دی تھی جس کے دس برس بعد بھی دنیا کو خوف ناک کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا۔ ہرچند کہ عالمی معیشت بحرانوں سے گزر رہی تھی، فلو کی وبا کے ساتھ ہی معیشت کا حال برا ہوچکا تھا۔ اب پھر سو برس بعد کچھ ایسا ہی منظرنامہ سامنے آرہا ہے تاہم تاحال اِس وقت مرنے والوں کی تعداد اِس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
حال ہی میں یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ چین میں انفلوئنزا کی نئی شکل دریافت ہوئی ہے۔ اِس بارے میں بھی چینی میڈیا زیادہ خبریں نہیں دے رہا، تاہم عالمی ادارئہ صحت کو الرٹ کردیا جائے تو مناسب ہوگا۔ فی الوقت عالمی ادارئہ صحت کورونا کے حوالے سے جو روزانہ کی بنیاد پر ہینڈ آئوٹ جاری کررہا ہے، اِس میں کورونا سے محفوظ رہنے کی جو احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہیں، اب لگ بھگ سب کے علم میں ہیں کہ ماسک پہنو، فاصلہ رکھو، گہری، گہری سانسیں بھرو، ہاتھ باربار دھوئو، ہجوم سے دور رہو، اگر بخار، کھانسی اور گلے میں خراش ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرو۔ کورونا پہلے ناک میں پھر حلق میں پیش رفت کرتا ہے۔
حلق میں اپنا مرکز بنا کر پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوتا یا گردوں پر حملہ کرتا ہے۔ اِس مہلک ترین عمل کے دوران خون میں ببل کلاٹ بننے لگتے ہیں جو پھر شدید امراض قلب کا سبب بنتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ کھانے پینے سے نہیں لگتا، سانس کے ذریعے یہ حملہ کرتا ہے۔ ۔ عالمی ادارئہ صحت زور دے رہا ہے کہ سگریٹ نوشی، شراب نوشی، تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔ اِس کے عادی افراد پر کورونا کا حملہ زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اِس طرح مجموعی طور پر تاحال پندرہ کروڑ بارہ لاکھ آٹھ ہزار مریض ریکارڈ ہوئے، اِن میں تاحال بتیس لاکھ چالیس ہزار سات سو دنیا سے چل بسے ہیں۔
پاکستان میں اب تک کورونا کے مریضوں کی تعداد آٹھ لاکھ نوے ہزار کے قریب ریکارڈ ہوئی ہے، جب کہ اٹھارہ ہزار آٹھ سو کے قریب جان سے ہاتھ دھو گئے۔ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر اُبھر رہی ہے، یہ پچھلی وبا سے زیادہ مہلک ثابت ہورہی ہے مگر مسئلہ وہی ہے کہ عوام کی اکثریت حقائق سے نابلد ہے اور احتیاطی تدابیر کو اپنانے سے بے پروائی برت رہی ہے۔ اِس میں کچھ قصور اُن عناصر کا بھی ہے جو اپنے رجعت پسندانہ خیالات عوام کے کانوں میں گھولتے رہتے ہیں۔ یہ عناصر کورونا کو وبائی مرض نہیں مانتے۔ اِس نئے پاکستان کے ہوش مندماہرین طب کا قیاس ہے کہ بعداز عیدملک میں کورونا کی وبا تیزی سے پھوٹ سکتی ہے۔ بھارتی طبی ماہرین کا بھی یہ کہنا ہے کہ ماہ رمضان کے بعد بھارت میں کورونا مزید خوف ناک شکل میں سامنے آئے گا۔
کورونا وبائی بیماری کی پہلی لہر سامنے آنے کے بعد امریکا، اسپین، اٹلی، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، جرمنی اور بلجیئم میں ایک لاکھ مریض یومیہ کورونا کا شکار ہورہے تھے اور اِن میں سے زائد مریض ہلاک ہورہے تھے۔ امریکا جہاں نیویارک میں سب سے زیادہ اموات ہوئی تھیں جس پر سابق صدر ٹرمپ عالمی ادارئہ صحت کے ڈائریکٹر پر پھٹ پڑے تھے کیوں کہ وہ کچھ دن پہلے چین کا دورہ کرکے آئے تھے اور بتایا تھا کہ یہ وائرس ہے جو ووحان سے چلا ہے، ماہرین اِس کی چھان بین کررہے ہیں۔ اِس سادہ بیان سے عالمی ادارئہ صحت کی جان نہیں چھوٹی تھی۔ سابق صدر ٹرمپ نے ادارے کی امداد بند کردی اور امریکا کو اِس سے الگ کرلیا تھا۔
تاحال یہ ایک معمہ ہے جو ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی کہ، کورونا کیسےپھیلا۔ گزشتہ بیس برسوں میں نمودار ہونے والی وبائی بیماریوں میں سوائن، ایبولا، ڈینگی، زکام اور کورونا وائرس قابل ذکر ہیں۔ کورونا سانس سے پھیلنے والی ہے اِس سے زیادہ مہلک ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں ہزار سال قبل مسیح سے آج تک بے شمار وبائی چھوت چھات کی بیماریوں کی طویل فہرست ہے جس نے بے شمار لوگوں کی جانیں لی ہیں۔ اِن میں خطرناک ترین بیماریاں وائرس مثلاً پلیگ، اسمال پوکس، فلو، انفلوئنزا، چیچک، یلو فیور، ٹائیفائیڈ اور ملیریا تھیں، اِن بیماریوں نے حکومتیں ختم کردیں، معاشروں کو تہس نہس کردیا، تہذیبیں برباد ہوگئیں۔
انسان اِن بیماریوں سے لڑ رہا تھا، اِس کا علاج اِس کے پاس نہ تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ قوموں کی آپس کی جنگوں میں ہلاک ہونے والوں سے کہیں زیادہ افراد مذکورہ بیماریوں اور وائرسز میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ اب جب کہ دنیا نے بہت سی مہلک بیماریوں کا علاج دریافت کرلیا ہے اور بیماری کی روک تھام کے قواعد و ضوابط بھی تیار کرلیے ہیں، پھر بھی اموات کی تعداد نمایاں ہو تو یہ فکرانگیز بات ہے۔ اِس کا مطلب ہے افراد کی کوتاہی اور صورت حال کی نزاکت سے عدم آگہی، ہوسکتا ہے، جو بھی سہی، یہ رجحان اور عام لوگوں کی سوچ کا انداز شدید نقصان دہ ہے۔
اِس اجتماعی بے حسی کا ذمہ دار کون ہے؟ عمومی رویئے بھی عجیب اور ناقابل فہم ہیں کہ ہم قطار میں کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے ہیں، ہر کام کا شارٹ کٹ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کسی قانون یا ضابطے پر عمل کرنے کو شان کے خلاف اور بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں۔ بالکل اِسی طرح سڑک پر ماسک لگا کر نکلنے کو وہ اپنی بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اِس لیے بہادری یہ ہے کہ ماسک کے بغیر آنا جانا رکھیں۔ معذرت کے ساتھ اِن منفی اور کمزور رویوں میں ہر طبقے کے افراد شامل ہیں۔ تعلیم یافتہ، نیم تعلیم یافتہ، اِن پڑھ، بالغ، نوجوان وغیرہ۔ اگر یہ لوگ تاریخ پر نظر ڈالیں تو رونگٹے کھڑے کردینے والے حقائق سامنے آئیں گے۔ روم، یونان، مصر، وسطی ایشیا، ایران اور ہندوستان میں کئی چھوٹی بڑی ریاستیں، شاندار تہذیبیں وبائی امراض کا شکار ہوکر دنیا سے مٹ گئیں۔
اِس وقت یہ مسئلہ تھا کہ عام افراد کو اتنی آگہی نہ تھی، ابلاغ کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک خبر کئی دن یا ہفتوں میں دوسرے شہر پہنچتی تھی، وسائل محدود تھے، دوائیں بہت محدود تھیں، احتیاطی تدابیر کا تصور ناپید تھا، پھر رفتہ رفتہ اتنی جانکاری حاصل ہوگئی کہ بیماری پھیلنے لگے تو اِس علاقے سے دور ہوجائو۔ اب جب کہ دنیا ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ترقی یافتہ ہے، بڑے بڑے سائنسی تحقیقی ادارے قائم ہیں، بڑی بڑی جامعات ہیں، ریسرچ سکالرز اور ماہرین کی فوج موجود ہے، ذرائع ابلاغ کا بہترین برقی نظام ہے، غرض انسان کے پاس آج معلومات کا بڑا عظیم تر ذخیرہ موجود ہے۔ اِس تناظر میں کسی وبائی مرض، کسی قدرتی آفت یا سانحہ سے بچائو کے لیے احتیاطی تدابیر تجویز کی جاتی ہیں تو اُن پر من و عن عمل کرنا ہر ذمہ دار شہری، ہر فرد کا فرض ہے، کیوں کہ ریاست کے نزدیک ہر فرد کی جان کی بڑی اہمیت، پھر خود فرد کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
اس لیے یہ بات قابل فہم ہے کہ کوئی فرد احتیاطی تدابیر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بغیر ماسک کے گھر سے باہر آجائے، ہجوم میں شامل ہوکر کام کرنے لگے، فاصلے کو بھی نظرانداز کرجائے، بار بار ہاتھ دھوئے اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ اِس لیے ایک بڑا مکتبہ فکر کہتا ہے کہ پہلے صحت ضروری ہے باقی اِس کے بعد…!
اب جہاں تک بات ہےمعیشت کی تو اسے انسانی رَگوں میں دوڑتے خون کے مترادف تصوّر کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ معیشت زندگی کے تمام شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ معیشت زندگی کے معیار کو بہتر بنانے، معاشرے میں آسودگی لانے اور زندگی کو رَواں دواں رکھنے میں اِس کا بنیادی کردارہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ معیشت خود زندگی ہے۔ قرونِ اولیٰ کے دور میں اِنسان نے معیشت کو پہلی شکل دی تھی، اِس دور کی معیشت کھیتی باڑی، گاربانی اور اشیا سے اشیا کی اَدل بدل، جسےاب بارٹر سسٹم کہا جاتا ہے، اِسی دور سے معاشرے بننے لگے، ریاستوں کا تصور اُبھرا اور نئی تہذیبیں پنپنے لگیں۔
اُس دور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بھوکا کوئی نہ رہتا تھا، اناج کی ذخیرہ اندوزی، دُودھ میں ملاوٹ، اجارہ داری اور داداگیری کا تصوّر تقریباً معدوم تھا۔ جوں جوں اِنسان نے ترقّی کی، آبادیوں میں اضافہ ہوتا گیا قبائل میں چھینا جھپٹی شروع ہوئی۔ جیسے جیسے معاشروں میں بدلائو آتا گیا۔ لالچ، طمع، اجارہ داری، ہٹ دھرمی زور پکڑتی گئی۔ ہر دور میں ہر سماج میں طاقتور نے کمزوروں کو مزید کمزور کیا۔ اُن پر ظلم کیے، اُنھیں محکوم بنا کر رکھا گیا۔
آج کے دور جدید میں استحصال کی اشکال بدل گئی ہیں۔ ظلم و جبر کے طریقہ کار میں بھی کچھ کچھ تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مگر دُکھ، مصائب، جبر، تنگدستی اپنی جگہ قائم و دائم ہیں۔ آج ہزاروں افراد بھوک سے مر رہے ہیں۔ کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ معروف معاشیات داں فرانسس مور کہتا ہے، بھوک اناج کی قلّت کی وجہ سے نہیں بلکہ جمہوریت کی کمی اور ناانصافی کی وجہ سے ہے۔ کووڈ۔ 19سے قبل کی دُنیا میں کسادبازاری، مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور پسماندگی کا دور دورہ تھا۔ بعداَز کووڈ عالمی معیشت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ دُنیا معاشی بحرانوں سے دوچار ہو جائے گی۔
صنعتی پیداوار میں کمی ہو جائے گی، بے روزگاری بڑھ جائے گی، دُنیا نئی شکل میں سامنے آئے گی۔ گزشتہ تیس برسوں کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غربت میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ 33فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے آ چکی ہے۔ مزید دس کروڑ کے قریب افراد کووڈ کی وجہ سے غربت کی لکیر کے نیچے آ گئے ہیں۔ چالیس کروڑ سے زائد افراد بمشکل ڈیڑھ ڈالر پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کووڈ سے زیادہ تر خواتین اور بچّے متاثر ہوئے ہیں۔ مشرق بعید کے ممالک کی معیشت کے حوالے سے حالیہ جائزوں میں کہا گیا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے چھوٹے کاروباری لوگوں کا بزنس جو ایک سو ڈالر ہفتہ تھا، اب تیس ڈالر ہفتہ رہ گیا ہے۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں، تقریباً ہر دس میں سے چھ خواتین کام سے محروم ہوگئی ہیں۔
لاطینی امریکا میں گھریلو خواتین کی انجمنوں نے گھر گھر چندہ مانگ کر جو رقم جمع کی وہ بے روزگار خواتین میں تقسیم کی مگر یہ مستقل حل نہیں ہے۔ لاطینی امریکی ممالک ایکویڈور میں گھریلو دستکاری تیار کرنے والی خواتین پہلے یومیہ تیس سے پچاس ڈالر کما لیا کرتی تھیں، اب نصف سے بھی کم آمدنی ہوگئی ہے اور پھر ستم یہ کہ دو چار دن بالکل خالی بھی گزر جاتے ہیں۔ بیش تر خواتین ڈے کیئر سینٹر چلاتی ہیں اُن کا بھی بُرا حال ہے۔ بہت سے بچّے یوں بھی سکول نہیں جا رہے ہیں۔ ستّر فیصد سے زائد سکولوں نے آن لائن کلاسوں کا سلسلہ دراز کیا ہوا ہے۔
ایسے میں ڈے کیئر سینٹر، بچوں کو سکول لانے لے جانے والے ٹرانسپورٹرز، زیادہ تر بے روزگار ہو کر رہ گئے ہیں۔ سکولوں، کالجوں سے متعلقہ کاروبار بھی بند پڑے ہیں اور اُن میں کام کرنے والے بے روزگاری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کورونا وائرس نے ہر طرف سے خواتین کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ گھروں میں جو بھی بیمار ہیں اُن کی تیمارداری دیکھ بھال کرنا خواتین کے ذمہ ہوتی ہے۔ اگر وہ ملازمت کرتیں یا کوئی چھوٹا کاروبار کرتی ہیں تو وہ بھی ہاتھ سے جاتا رہا، پھر گھر کی ذمہ داری الگ اِس طرح حقیقت میں ہر دو جانب سے خواتین زیادہ متاثرہوئی ہیں۔
یونیسکو نے کووڈ کے جاری حالات اور عالمی معاشی کساد بازاری کو مدنظر رکھتے ہوئے حالیہ جائزہ میں انکشاف کیا ہے کہ بعد اَز کووڈ خدشہ ہے کہ 12 ملین بچیاں سکولوں سے خارج ہو جائیں گی۔ والدین کی بے روزگاری یا آمدن گھٹ جانے کا اثر بچیوں پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ چوں کہ آج کی معیشت ایک دوسرے سے گتھی ہوئی ہے، اِس لیے ایک دوسرے پر اثر پڑنا لازمی ہے۔ اُن کے علاوہ زیادہ مشکلات اورمصائب کا شکار تارکین وطن، مہاجرین اور دیگر ممالک میں ملازمت کے لیے ماری ماری پھر رہی ہیں اُن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔
دور جدید میں خاص طور پر دُوسری عالمی جنگ کے بعد سیاحت کا شعبہ باقاعدہ ایک صنعت بن کر اُبھرا۔ اِس کے شعبے سے تقریباً بیس سے زائد چھوٹے بڑے کاروبار وابستہ ہیں۔ ورلڈ ٹورسٹ بیورو کے مطابق ہر سال ستّر سے اَسّی کروڑ سیاحوں کی آمد و رفت کا سلسلہ رہتا ہے۔ جس سے دو سے تین ارب ڈالر کا زرمبادلہ گردش میں رہتا ہے۔ خاص طور پر یورپی، امریکی، کینیڈین ممالک کے سیاح بحری جہازوں اور فیریز سے سفر کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کووڈ۔ 19نے سب سے زیادہ متاثرسیاحت کی صنعت کو کیا ہے۔ اِس بڑی صنعت سے وابستہ فل ٹائم یا پارٹ ٹائم ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔
آسٹریلیا کی معروف سکائی لین کمپنی جو سیاحت کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتی ہے اِس کا کہنا ہے کہ اٹھارہ ماہ میں کمپنی کو ساٹھ ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اِسی طرح تمام فضائی کمپنیاں شدید مسائل کا شکار ہیں۔ کووڈ سے قبل فضائی کمپنیوں کی آپس کی مسابقت اور مہنگائی نے اِن سب کو ہلکان کر رکھا تھا۔ اب جگہ جگہ کووڈ کی وجہ سے بندشیں، مسافروں کی آمد و رفت پر پابندیاں ہیں، اِس سے کاروبار تقریباً ٹھپ پڑا ہے۔
اِس حوالے سے سب سے دلچسپ اور افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ دُنیا کا اب جو حال ہے اِس میں سیاحت کی صنعت اور سیاحوں کا سب سے زیادہ دخل رہا۔ یہ اور بات ہے کہ وہ بھی اِس حقیقت سے آگاہ نہ تھے کہ جنوری 2020ء میں، روم، میڈرڈ، پیرس، لندن اور نیویارک جو دُنیا کے پسندیدہ سیاحتی مراکز ہیں، وہاں کورونا کس طرح اُبل پڑے گا۔ اموات کی اتنی بڑی تعداد پہلے اِن شہروں میں ہوئی۔ اِس کی گزشتہ سال عالمی ادارۂ صحت نے چھان بین کی تھی اور رپورٹ تیار کر کے بات گول مول کر دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ اور اِس کے متعلق ادارے اور ملازمین اُوپر سے نیچے تک گردن گردن بدعنوانیوں اور رشوت ستانیوں میں ڈُوب چکے ہیں۔ نیویارک، جنیوا، پیرس اور دیگر ذیلی ادارے سب کرپشن کا شکار ہیں اِس لیے کورونا وائرس کی رپورٹ بھی گول مول ہے۔ اِس حوالے سے بان کی مون اور بطروس غالی کے اَدوار کی کرپشن رپورٹس بھی منظرعام پر آ چکی ہیں مگر سب کچھ جاری و ساری ہے۔ چین اور اِس کے حامی ممالک کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کا مرکزی دفتر نیویارک سے بدل کرکسی اور ملک میں لایا جائے اگر ایسا ہوا تو سفارت کاروں کا خیال ہے کہ رہا سہا ادارہ بھی بے دَم، بے جان اور سو فیصد کٹھ پتلی بن کر رہ جائے گا۔ مگر یہ سچ ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے اپنا حقیقی کردار نہیں نبھایا۔ اِس حوالے سے سابق صدر ٹرمپ کا بیان دُرست تھا۔ چھ ماہ قبل جو رپورٹ ادارے نے شائع کی وہ مزید گمراہ کن ہے۔
گزشتہ سال افریقی ممالک میں کورونا وائرس کی کیا صورت حال رہی ؟اس رپورٹ پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ پورے سال کورونا کے مریضوں اور اِس مہلک وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سب سے کم رہی بلکہ بعض افریقی ممالک میں کورونا کا کوئی مریض ریکارڈ نہیں ہوا۔ اِس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ میں سیاحوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اِس لیے یہ خطہ قدرے محفوظ رہا مگر امریکا اور یورپ بُری طرح نشانہ بنے، البتہ افریقی ممالک میں غذائی قلّت کا مسئلہ دیرینہ چلا آ رہا ہے اور یہ مسئلہ گمبھیر ہو چکا ہے کہ کسی بھی وقت یہ خطہ بڑے انسانی المیہ سے دوچار ہو سکتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دُنیا کو اناج فراہم کرنے والی ملٹی نیشنل کارپوریشنز باوجود اِس کے غلّہ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے محض اشیا کی قیمتوں میں استحکام اور من مانی رکھنے کے لیے یہ حربے استعمال کرتے ہیں۔ ٹیکساس اور آسٹریلیا کے کھلیانوں میں لاکھوں ٹن گندم، دالیں اور دیگر اشیا جلا کر رسد اور طلب میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نیو اجارہ دار سرمایہ دارانہ نظام کا پروگرام ہے جو اب دنیا میں کارٹیل سسٹم کے عنوان سے رائج ہےکہ روزانہ پر اشیا کی قیمت مقرر کی جائیں۔
عوام مہنگائی کا رونا رو رو کر ہلکان ہیں مگر دُنیا کے سو خاندان 67 فیصد دولت کے مالک ہیں۔ آج کی دُنیا میں غربت اور امارت کا یہ فرق انتہائی تکلیف دہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرانا سرمایہ دارانہ نظام آج کے نیو کیپٹل ازم سے بہت مختلف ہے، مگر نعرہ دو سو سال پرانا ہی لگ رہا ہے کہ ’’دُنیا کے مزدور ایک ہو جائو‘‘ جب کہ تیزی سے مزدوروں کی جگہ روبوٹس لے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے محنت اور سرمایہ کی جدت تعریف تبدیل کر دی ہے۔ نیوکیپٹل ازم مزید مسلح جدت طراز سفاک اور آزاد ہے۔
بڑے بڑے مال، مارکیٹس صارفین کو لبھا کر ضرورت سے زائد خواہشات کی خریداری کر لیتے ہیں۔ اِس کو نیو مارکیٹنگ کہا جاتا ہے۔ کھرا سچ یہ ہے کہ اگر دُنیا میں انصاف ہو، مساوات ہو، انسانیت کا دور اور انسان کا احترام ہو تو دُنیا واقعی امن اور خوش حالی کا گہوارہ بن جائے، مگر جب 33 فیصد دولت پر ساڑھے سات ارب انسانوں کو گزارہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہو وہاں کس معیشت کا ذکر ہوتا ہے 67 فیصد معیشت یا تینتیس 33 فیصد معیشت کا۔
لاک ڈائون اور پابندیوں سے معیشت متاثر ہوگی، جس کا حال بہت خراب ہے، حالات نازک ہیں، کاروبار مندا ہے۔ وال سٹریٹ، ٹوکیو، لندن، ممبئی تک آوازیں سُنائی دے رہی ہیں۔ بعداَز کوروناجب بھی وہ وقت آئے گا معیشت، سیاست، معاشرت، سماجیات، صحت عامہ، تعلیم اور تفریحات کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں رُونما ہوں گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کورونا سے نمٹ جائیں تو پھر سکون ہے۔ یہ خام خیالی ہے۔ کورونا پر غور کریں تو اِس کی جڑیں موسمی تغیرات، قدرتی ماحول میں تبدیلی، انسانی معاشرت کے نئے رنگ ڈھنگ، انسانی طمع اور انسانی سفاکی سے جا ملتی ہیں۔ اگر کورونا ختم ہوتا ہے تو نیا کورونا اِس کی جگہ لے لے گا کیوں کہ جڑیں دُور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
قصہ مختصر معیشت تو اجارہ داروں کےہاتھوں یرغمالی بنی ہوئی ہے مگر صحت انسانی کو معیشت کے عنوان سے ڈرایا نہ جائے۔ یہ بات طے ہے کہ انسانی جان کا کوئی بدل نہیں۔ ہم ڈالر بنا سکتے ہیں۔ انسان کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتے۔ بھارت میں کورونا کی اُبلتی وبا اطراف کے ممالک کے لیے شدید خطرناک ہے۔

Check Also

Dealing with informality through taxation

Sorry you have no right to view this Article/Post! Please Login or Register to view …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: