Monday , December 6 2021
Home / Archive / کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کرہ ارض کو لاحق خطرات

کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کرہ ارض کو لاحق خطرات

کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کرہ ارض کو لاحق خطرات


گزشتہ برس نومبر میں عالمی موسمیاتی ادارےWorld Meteorological Organization نے انکشاف کیا کہ 2020ء میں اِس توقع کے باوجود کہ کورونا کے باعث ٹرانسپورٹ اور دیگر صنعتی سرگرمیوں کی بندش سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی، اِس گرین ہاؤس گیس کی مقدار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ WMOکے مطابق کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن، سرحدوں کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور دیگر پابندیوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت دوسری ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کچھ کمی ہوئی لیکن اس کا بہت زیادہ اثر نہیں ہوا۔ اس سال وبا کے عروج کے مہینوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے روزانہ اخراج میں اوسطاً سترہ فیصد کمی دیکھی گئی۔ لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ وبا کے باوجود صنعتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سلسلہ جاری رہا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 1958 سے لے کر اب تک یعنی 62 برسوں کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ WMO کے سربراہ کے سربراہ پیٹیری تالاس کا کہنا ہے کہ، ’’اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر سبز مکانی گیسوں کے فضا میں مسلسل بہت زیادہ اخراج کو بہت تیزی سے کم نہ کیا گیا، تو پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے میں طے کردہ اہداف سے بہت زیادہ ہونے کے باعث یہ صورت حال رواں صدی کے اواخر تک زمین کے درجہ حرارت میں بہت خطرناک اضافے کا سبب بنے گی۔‘‘
گلوبل وارمنگ کے عمل میں چند مخصوص گیسوں کا اخراج کرہ ٔ ارض کا عمومی درجہ ٔ حرارت بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ اِن گیسوں کو سائنسی اصطلاح میں گرین ہاؤس گیسز کہتے ہیں۔ اِن میں میتھین، نائٹرس آکسائیڈ، کلو رو فلورو کاربن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ زمین پر موجود ہرانسان، جانور اور سمندر ی حیات ماحول دشمن گیس، کاربن ڈائی آکسا ئیڈ خارج کرتی ہے۔
تاہم اِن کی مقدار دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈکی نسبت بہت کم ہے۔ اِن ذرائع میں تیل وگیس سے چلنے والے بجلی گھر، کاریں، سیمنٹ پلانٹ اور دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2018 ءمیں انسانی استعمال سے 37 کروڑ ٹن اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہماری فضا میں داخل ہوئی۔ اِس میں پاکستان کا حصہ تقریباً ڈھائی لاکھ ٹن ہے۔
اقوامی متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی بڑھتی ہوئی رفتار پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ چند سال قبل چھ کروڑ افراد اِس سے براہ راست متاثر ہوئے۔ ماحولیا تی تبدیلی کے بارے میں بیش تر پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شائد صر ف اہل مغرب کا مسئلہ ہے اور ہم اِس سے مکمل طور پر محفوظ ہیں، تاہم ایسا سمجھنا قطعی غلط ہے۔ ہمارے ملک میں بھی ماحولیاتی تبدیلی اِسی طر ح باعث نقصان ہے، جس طر ح مغربی ممالک میں ہے۔ پاکستا ن میں بتدریج کم ہوتی ہوئی برف باری، دریائوں میں پانی کی کمی اور سرد یوں کا گھٹتا ہوادورانیہ چند ایسی علامات ہیں جو شاید ہمارے لیے تعجب کا باعث نہ ہو ں، مگر سائنس دانوں کے لیے پریشان کن ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ماحول دشمن گیس کہا جا تا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فضامیں کار بن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی ریاست ہوائی میں واقع ایک تجربہ گاہ کےماہرین کے مطابق پہلے ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 400 حصے فی دس لاکھ مالیکول سے تجاوز کر چکی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ فضا کے ہر دس لاکھ مالیکیولوں میں سے 400 کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ہیں۔ مائونالوا نامی آتش فشاں میںواقع اسٹیشن 1958 ء سے اب تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ریکارڈ رکھ رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اُس وقت ماحول آج کے مقابلے میں خاصا گرم تھا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انسانوں کی پیدا کردہ سب سے اہم گرین ہائوس گیس ہے جو حالیہ عشروں میں زمین کے درجہ ٔ حرارت میں اضافے کا باعث رہی ہے۔ انسان، کوئلہ، گیس اور تیل جلاکر یہ گیس پیدا کرتے ہیں جو فضامیں جمع ہو جاتی ہے۔ جنگلات اور پودے اِس گیس کو فضا سے جذب کرلیتے ہیں۔ ہوائی میں واقع تجربہ گاہ کے سر براہ جیمز بٹلر کے مطابق اِس ماحول دشمن گیس کی مقدار ہر گھنٹے، روزانہ اور ہر ہفتے بدلتی رہتی ہے۔
2015 ء میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار سے متعلق عالمی موسمیاتی ادارے (World Meteorological Organization) کی جانب سے ایک رپورٹ تیار کی گئی تھی، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2015 ء پہلا سال ہے، جس میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی شرح 400 حصے فی ملین کی اوسط تک پہنچ گئی تھی۔ اِس ماحول دشمن گیس کی بڑھتی ہوئی شرح نے دنیا کو ایل نینو فیکٹر کی پریشان کن صورت حال سے دوچار کردیا تھا۔ ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سےایل نینو فیکٹر جنگلات اور سمندر وں میں کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت کم کردیتا ہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے کے سیکریٹری جنرل پیٹری ٹالاس (petteri taalas) کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے جنگلات اور سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے صلاحیت بہتر ہوتی جاتی ہے، اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں کمی آناشروع ہوگئی ہے۔ لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کیے بغیر ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکتے اور اِس کے لیے ہمیں عالمی درجہ ٔ حرارت کو انڈسٹریل دور سے پہلے کے در جہ ٔ حرارت، یعنی موجودہ در جہ ٔ حرارت سے دو ڈگری سینٹی گریڈ کم پر لانا ہو گا۔ ماہرین کے مطابق ستمبر کے مہینے میں کاربن کے اخراج کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ سائنس دانوں نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ فضا میں کاربن کی شرح چار سو پارٹس فی ملین سے نیچے لانے کے لیے کئی سالوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔
حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ زمین کی فضا میں مضر گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح انسانی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماحولیاتی سائنس دانوں کے مطابق زمینی فضا کو آلودہ کرنے میں انسانوں کا اہم کردار ہے۔ امریکا میں قائم سکپس انسٹی ٹیوٹ برائے اوشنو گرافی کے مطابق زمین کی بالائی سطح میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 415 فی ملین مالیکیول پائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کرہ ٔ ارض پر اِس کی بلند ترین سطح موسم خزاں، سرما اور بہار میں ہوتی ہے۔
سکپس انسٹی ٹیوٹ برائے اوشنو گرافی کے ڈائر یکٹر رالف کیلنگ کا کہنا ہے کہ کرہ ٔ ارض کے بالائی ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے شامل ہونے کا موجودہ رجحان کئی برسوں تک بر قرار رہنے کے قوی اشارے موجود ہیں اور اِس ر جحان کی وجہ سے زمین کو موسمیاتی ایل نیٹو ایفیکٹ کا سامنا کرناہوگا اور اِس کے باعث کئی علاقوں کو انتہائی زیادہ درجہ ٔ حرارت، غیر معمولی بارشوں اور خشکی کا سامنا کرنے بھی پڑے گا۔ رالف کیلنگ کے بہ قول گزشتہ برس کے مقابلے میں2019ء میں زمینی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے شامل ہونے کی شر ح تین حصے فی دس لاکھ رہی۔
اگر اِس ماحول دشمن گیس کے فضامیں شامل ہونے کی شر ح بڑھتی رہی تو اگلی صدی کے اوائل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح ایک ہزارحصے فی دس لاکھ مالیکیول تک پہنچ جائے گی۔ اِس گیس کے اخراج نےکرہ ٔ ارض کے بالائی ماحول کو آلودہ کردیا ہے۔ یادرہے کہ انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب سے قبل زمینی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی شر ح تین سو حصےفی دس لاکھ تھی۔ سائنسی تحقیق نے اِس حقیقت سے پردہ اُٹھا یا ہے کہ تین ملین سال سے زائد عر صے پہلے بھی زمین کی بالائی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہورہا تھا، لیکن اُس وقت موجودہ درجہ ٔ حرارت کے مقابلے میں زمین کا درجہ حرارت تین سے چار ڈگری زیادہ پایا گیا تھا۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدارہماری غذائوں کی تاثیر کو بھی متاثر کررہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند غذائیں، جیسے پھل اور سبزیاں، اپنی غذائیت کھو رہی ہیں اور اِن کا صحت پر ممکنہ اثر جنک فوڈ جیسا ہوسکتا ہے۔ چوں کہ پودوں کو افزائش کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے، تا ہم نئی تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ کاربن کی زیادہ مقدار پودوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق کاربن کی زیادتی کی وجہ سے غذائی پودے اپنی غذائیت کھو رہے ہیں۔
ان پودوں میں موجود اہم معدنیات جیسے پوٹا شیئم، کیلیئم، آئرن، زنک اور پروٹین کم ہوتے جارہے ہیں جب کہ کاربو ہائیڈریٹ کی مقدار زیادہ ہورہی ہے۔ ماہرین کے مطابق صنعتی انقلاب سے قبل فضا میں 10 لاکھ کے مقابلے میں 180 ذرات کاربن کے ہوتے تھے لیکن اب کاربن کے ذرّات کی تعداد 400 سے زائد ہوگئی ہے اور اگر صورت حال یہی رہی تو 2050 ء تک یہ تعداد 550ہو جائے گی۔
ایک اندازے کے مطابق اِن اثرات سے 80 کروڑ افراد متا ثر ہوسکتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بچے کھچے جنگلات کو بھی کاٹ کر زراعت کی جائے گی، یوں کاربن کے اخراج میں اضافہ ہو گا، کیوں کہ اسے جذب کرنے کے لیے درختوں میں کمی ہوتی جائے گی۔
Box
کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں چین کا حصہ
چین اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک اور دوسری سب سے بڑی معیشت بھی ہے۔ اس کے علاوہ چین سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے، جس کی وجہ اس کی توانائی کی ضروریات ہیں۔ چین نے کئی بیرونی ممالک میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت جو سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اُس کے تحت بہت سے ایسے بجلی گھر بھی قائم کیے گئے ہیں، جو بجلی کی پیداوار کے لیے روایتی معدنی ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ یہ بجلی گھر بھی سالانہ 314 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے فضا میں اخراج کی وجہ بنتے ہیں۔ یہ شرح چین سے باہر پوری دنیا میں توانائی کے پیداواری شعبے کے باعث فضا میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا تقریباً 3.5 فیصد بنتی ہے۔
Box
کاربن ڈائی آکسائیڈ کیا ہے؟
کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو کاربن کے ایک اور آکسیجن کے دو ایٹموں سے مل کر تشکیل پاتا ہے؛ اِس کو علم کیمیا میں علامتی طور پر CO2 لکھ کر ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے جو ہوا سے ڈیڑھ گنا بھاری ہے۔ یہ گیس جلنے اور سانس لینے کے عمل میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر آدمی روزانہ لگ بھگ ایک کلو گرام کاربن ڈائی آکسائڈ سانس کے ذریعے خارج کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی آبادی سالانہ تین ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں چھوڑتی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس گرین ہاؤس ایفیکٹ پیدا کرتی ہے جو گلوبل وارمنگ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ فاسل فیولز مثلاً کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے ہر سال 25 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ ہوا میں موجود آبی بخارات بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی طرح سورج کی روشنی جذب کر کے کرہ ہوائی کو گرم کرتے ہیں اور کرہ ہوائی میں آبی بخارات کی مقدار کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

Check Also

Dealing with informality through taxation

Sorry you have no right to view this Article/Post! Please Login or Register to view …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: