Monday , December 6 2021
Home / Archive / ویتنام اور افغان جنگ میں پنہاں سبق

ویتنام اور افغان جنگ میں پنہاں سبق

ویتنام اور افغان جنگ میں پنہاں سبق

زاہدہ حنا

انسانی تاریخ میں 20 ویں صدی کئی حوالوں سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اِس صدی کے دوران پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سمیت کئی چھوٹی بڑی جنگیں ہوئیں۔ ایک انتہائی محتاط اندازے کے مطابق اِن جنگوں میں کم ازکم 10کروڑ 80 لاکھ لوگ مارے گئے۔ ماضی میں کسی ایک صدی میں اتنے زیادہ لوگ جنگوں میں کبھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔
اِس صدی نے نو آبادیاتی نظام کے عروج اور زوال کو بھی رونما ہوتے دیکھا۔ جدید نوآبادیاتی (Neo-colonial) نظام کا آغاز 1880ء کی دہائی میں ہوا جب کہ 1914ء کے بعد اِس کا زوال شروع ہوگیا تھا۔ یہ عمل 1975ء میں جاکر مکمل ہوا۔ یورپی ممالک، امریکا، روس اور جاپان جدید سامراجی ملکوں میں سب سے نمایاں تھے۔
نو آبادیاتی (Colonial) سامراجی (Imperial) طاقتوں نے اپنے غلام ملکوں کا بد ترین استحصال کیا بلکہ استعماری ملکوں کی معاشی خوش حالی بھی اپنی غلام قوموں کی مرہون منت تھی۔ یہ صدی قومی آزادی کی شان دار جنگوں اور تحریکوں کے حوالے سے بھی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی۔
قومی آزادی کی اِن جنگوں کو اُس وقت کے سوویت یونین کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ سوویت صدر خرو شیف نے 1961ء میں باضابطہ طور پر قومی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا، اِس حمایت کی وجہ سے پوری دنیا میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں پر انقلابی سوشلسٹ کا رنگ غالب آ گیا۔
چین سمیت دنیا کے بہت سے ملک قومی آزادی کی مسلح جدوجہد کی کامیابی کے نتیجے میں نمودار ہوئے۔ اِن جنگوں میں ویتنام کی جنگ آزادی سب سے اہم قرار دی جا سکتی ہے کیوں کہ اِسے پوری دنیا کے حریت پسند عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی تھی۔
امریکا اور یورپ کے تمام ملکوں میں ویتنام پر امریکی قبضے کے خلاف فقید المثال مظاہرے کیے گئے۔ پاکستان بھی اُن ترقی پذیر ملکوں میں شامل تھا، جہاں ویتنام کی آزادی کی حمایت اور امریکا کی مخالفت میں زبردست جلوس نکالے جاتے تھے۔ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن نے طلبا اور عوام کو امریکا کے خلاف مظاہروں کے لیے متحرک کیا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان میں امریکا کے حامی ایوب خان کی فوجی آمریت قائم تھی۔
سوویت یونین اور چین کی بھر پور مالی اور فوجی حمایت اور عالمی رائے عامہ کی زبردست سیاسی حمایت کے باعث امریکا کو ویتنام جنگ میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا نے جنوبی ویتنام میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کر رکھی تھی، جسے شمالی ویتنام کے جنگ جو گوریلوں کی مزاحمت کا سامنا تھا۔ امریکا اِس جنگ میں اِس قدر زیادہ ملوث ہوگیا تھا کہ اُس نے اِس جنگ کو ’’ امریکی جنگ‘‘ کہنا شروع کر دیا تھا۔ اِس جنگ میں تقریباً 20 لاکھ ویتنامی شہری، 11 لاکھ شمالی ویتنامی فوجیوں کے علاوہ جنوبی ویتنام کے ڈھائی لاکھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
امریکا کو اِس جنگ میں اپنے 58000 ہزار فوجیوں کی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ یہ جان کر بہت سے قارئین کو حیرت ہوگی کہ امریکا نے اِس جنگ کے دوران شمالی ویتنام پر جتنے بم گرائے تھے، اُتنے بم دوسری جنگ عظیم میں جرمنی، اٹلی اور جاپان نے مل کر بھی نہیںبرسائے تھے۔ اِس چھوٹے سے ملک پر 61 لاکھ ٹن بارودی مواد کی برسات کی گئی جب کہ دوسری جنگ عظیم میں کل 21 لاکھ ٹن وزن کے بم گرائے گئے تھے۔
اِس کے باوجود ویتنام جنگ میں امریکا کو نا قابل برداشت جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔ لہٰذا اِس نے ویتنام سے اپنے فوجیوں کو 1973ء سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا۔ اگر آج کے حساب سے تخمینہ لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ امریکا نے ویتنام جنگ میں ایک ہزار ارب (ایک ٹریلین) ڈالر سے بھی زیادہ رقم خرچ کی تھی۔ آج بھی امریکا ویتنام جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور اُن کے خاندانوں کو ہر سال 22 ارب ڈالر سے زیادہ رقم ادا کرتا ہے۔ 1970ء کے بعد سے اب تک امریکا 270 ارب ڈالر اِس مد میں خرچ کرچکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ویتنام جنگ کا تاوان امریکا آج تک ادا کر رہا ہے۔ بھاری اخراجات کے باعث امریکا 1964ء میں خطرناک افراط زرکا شکار ہوگیا۔ معاشی کساد بازاری اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی۔
ویتنام جنگ نے امریکی زراعت کو بھی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ 1970ء کی دہائی میں امریکا کی 25 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر تھا۔ 22 لاکھ سے زیادہ امریکیوں کو ویتنام میں فوجی خدمات سر انجام دینا پڑی تھیں۔ حکومت کو زرعی پیداوار جاری رکھنے کے لیے بھاری مشینری فراہم کرنا پڑی اور زرعی فصلوں کو محدودکرنا پڑا۔ اِس جنگ کے دوران امریکی حکومت نے اپنے شہریوں سے بہت جھوٹ بولے تھے، جس سے عوام اور حکومت کے درمیان بے اعتمادی کی خلیج بہت وسیع ہوگئی، جو اب بھی کسی نہ کسی شکل میںموجود ہے۔
امریکی فوجی انخلا کے دوسال بعد سائی گان (Saigon) میں اِس کی حامی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور شمالی ویتنام کی افواج نے پورے جنوبی ویتنام کو فتح کر لیا۔ اُس وقت کے سوویت یونین نے شمالی کوریا کی مدد کرتے ہوئے بھی اربوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ ویتنام کی جنگ نے امریکا کو عالمی سطح پر ناقابل تلافی سیاسی نقصان پہنچایا۔ ترقی پذیر ملکوں کی بہت سی حکومتیں امریکا کی حامی ضرور تھیں، لیکن اِن ممالک کے عوام میں شدید امریکا مخالف جذبات پائے جاتے تھے۔
اِس جنگ کو ختم ہوئے اب تقریباً 50 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے زیادہ تر ملکوں کے لوگ امریکا کے بارے میں اب بھی منفی رائے رکھتے ہیں۔ ویتنام جنگ میں کامیابی نے سابقہ سوویت یونین اور چین کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ضرورکیا لیکن اِن دونوں ملکوں کی معاشی طور پر بہت نقصان اُٹھانا پڑا، جس کے سیاسی اور نظریاتی اثرات آگے چل کر نمودار ہوئے۔
ویتنام میں امریکا اور سابق سوویت یونین ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے۔ یہ جنگ بالآخر ختم ہوگئی لیکن مذکورہ ملکوں کے درمیان جاری سرد جنگ مزید شدت اختیارکرگئی۔ امریکا کو ویتنام میں جو بدترین ہزیمت اُٹھانا پڑی تھی، وہ اُسے آسانی سے بھلانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ سوویت یونین سے حساب چکانے کے لیے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔
یہ امریکا کی خوش قسمتی اور سابق سوویت یونین کی بدبختی تھی کہ اُس نے بلاضرورت افغانستان میں پہلے سے موجود ایک غیر جانب دار حکومت کومعزول کرکے اپنی حامی حکومت قائم کی اور جب وہ حکومت کمزور ہونے لگی تو اُسے بچانے کے لیے اُس نے افغانستان میں فوجی مداخلت کر دی۔ سوویت یونین نے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر قبضہ کیا اور امریکا جس موقع کا منتظر تھا، وہ اُسے مل گیا۔
اُس نے سوشلسٹ افغان حکومت کے خلاف برسرپیکار مجاہدین کی بھرپور مدد شروع کردی۔ امریکا نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑی جانے والی اِس جنگ کوکفر اور اسلام کی جنگ میں تبدیل کر دیا۔ اِس عمل میں اُسے مسلم عرب ممالک کے علاوہ پاکستان میں موجود جنرل ضیا الحق کی حکومت کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مذہبی جذبات کو اِس قدر اُبھارا گیا کہ افغانستان بہت سے دہشت گرد اور متشدد اور جنگ جو گروہوں کا مرکز بن گیا۔
سوویت یونین کو اب اِس طرح کی صورت کا سامنا تھا، جو ماضی میں امریکا کو ویتنام میں درپیش تھی۔ ویتنام میں امریکی فوجی کمیونسٹ گوریلوں سے نبرد آزما تھے، افغانستان میں سوویت افواج انتہا پسند مسلم مجاہدین سے جنگ کے جال میں پھنس چکی تھیں۔ سوویت یونین اِس جنگ کا دباؤ زیادہ عرصے تک برداشت نہ کرسکا۔ اُس کی معیشت جواب دینے لگی اور اُسے فوجی مداخلت کے 9 سال بعد افغانستان سے واپس جانا پڑا۔ تاہم، اِس جنگ سے جو معاشی تباہی برپا ہوئی، سوویت یونین اُس کا دباؤ برداشت نہ کرسکا اور دنیا کی دوسری عظیم طاقت شکست وریخت کا شکار ہوکر 15 آزاد ریاستوں میں تقسیم ہوگئی۔
سوویت یونین سے ویتنام جنگ کا بدلہ افغانستان میں لینے کے بعد امریکا مجاہدین کو اُن کے حال پر چھوڑ کر افغانستان سے رخصت ہوگیا۔ اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد اُس نے پاکستان سے بھی آنکھیں پھیر لیں، لیکن اُسے اندازہ نہیں تھا کہ اُس نے سوویت دشمنی میں جن انتہا پسند قوتوں کو بے پناہ طاقت ور کر دیا تھا، وہ سب کے قابو سے اب آزاد ہوچکے تھے۔ کچھ عرصے کی خانہ جنگی کے بعد افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوگیا۔
بے رحم سیاست کے رنگ دیکھیے کہ مشکل وقت پڑنے پر سوویت یونین نے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ سے اُسی طرح آنکھیں پھیر لیں جیسے آج امریکا نے افغانستان میں صدر اشرف غنی کو تنہا چھوڑ دیا۔ یہ موازنہ اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ تھی کہ سوویت شکست اور امریکا کی عدم دلچسپی کے بعد ہونے والی خانہ جنگی کے بعد جو طالبان برسر اقتدار آئے، وہ امریکا کے حامی نہیں بلکہ مخالف تھے۔
سوویت افواج کے خلاف جنگ میں مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا نقصان امریکا کو 9/11 کی شکل میں اُٹھانا پڑا۔ اب بازی پلٹ چکی تھی، سوویت یونین کا وجود ختم ہوچکا تھا تاہم، امریکا افغانستان میں اپنی کامیابی کا جشن تا دیر نہیں منا سکا۔ 9/11 کے بعد امریکا کو دوبارہ افغانستان میں آنا پڑا۔ اِس بار اِسے اقوام متحدہ کا مینڈیٹ حاصل تھا۔ نیٹو کے اتحادی بھی اِس کے ساتھ تھے اور پاکستان جیسے نان نیٹو اتحادی کی مدد بھی اِسے حاصل تھی۔ اِس نے اپنی غیر معمولی فوجی طاقت کی بنیاد پر افغانستان میں اپنی حامی حکومت تو قائم کر لی لیکن اِس حکومت کو طالبان کی مزاحمت کا بدستور سامنا رہا۔
سوویت یونین 1974ء میں جس عذاب میں مبتلا ہوا تھا، اب امریکا کوبھی اُسی طرح کے ایک دوسرے عذاب کا سامنا تھا۔ نائن الیون کے ایک مہینے بعد امریکا اکتوبر 2002ء میں افغانستان میں داخل ہوا۔ 2010ء تک افغانستان میں ایک لاکھ پچاس ہزار غیر ملکی فوجی موجود تھے جن میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ تقریباً 18 سال کی فوجی موجودگی نے امریکا کے لیے بے پناہ مسائل کھڑے کر دیے۔
امریکا نے اپنی حامی حکومت کی بے پناہ فوجی اور مالی مدد کی لیکن اتنے طویل عرصے کے بعد اب اِس کے لیے افغانستان میں موجود رہنا عملاً ممکن نہیں تھا۔ امریکی رائے دہندگان بار بار یہ سوال پوچھ رہے تھے کہ اُن کے ٹیکسوں سے حاصل کی گئی رقم افغانستان کی بظاہر ایک بے مقصد جنگ میں کیوں جلائی جا رہی ہے اور امریکی فوجی وہاں کس مقصد کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں؟ ویتنام کی طرح امریکا نے افغانستان میں بھی جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
محتاط اندازہ ہے کہ امریکا کو افغان جنگ میں 2 ٹریلین ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں۔ یہ رقم اُس نے قرض لے کر حاصل کی تھی جس پر اُسے سود اور ادائیگی کی مد میں 2030ء تک مزید اربوں ڈالر ادا کرنا ہوں گے اور 2050ء تک یہ رقم 6.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اِن بھیانک اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا میں دہائیوں سے جاری انتہائی کم شرح نمو، میں ویتنام اور افغانستان کی جنگوں پر ہونے والے اخراجات نے بنیادی کردار ادا کیا۔
امریکا، افغانستان سے رخصتی کا عمل مکمل کرنے والا ہے۔ اِسے اطمینان ہے کہ اب کوئی سوویت یونین اِس کے پیدا کردہ خلاکو پورا کرنے کے لیے موجود نہیں ہے، اب جو بھی اُفتاد پڑے گی وہ اِس خطے کے ملکوں کو براہ راست بھگتنا ہوگی۔ جان بچی لاکھوں پائے کے مصداق وہ خوشی خوشی افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے لیکن پاکستان سمیت اِس خطے کا ہر ملک وہاں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔ اِس حوالے سے پاکستان کی مشکلات دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں کیوں کہ اگر وہاں خانہ جنگی میںشدت پیدا ہوتی ہے اور اِس کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو پاکستان پر اِس کے براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔
20 ویں صدی نوآبادیاتی اور سامراجی بالا دستی کے خلاف بے مثال تحریکوں، دو عالمی جنگوں اور سرد جنگ کے بھیانک تجربات سے عبارت تھی۔ گزری صدی میںپیدا ہونے والے زیادہ تر تنازعات کی شدت میں اب کافی کمی آچکی ہے۔ ٹیکنالوجی پر مبنی پیداواری عمل نے دنیا کے تمام ملکوں کو ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ کر دیا ہے، اب کوئی ملک جنگی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ 20 ویں صدی کے زیادہ تر تنازعات کو پس پشت ڈال کر وہ ملک بھی آپس میں دو طرفہ معاشی روابط بڑھا رہے ہیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے شدید دشمن ہوا کرتے تھے۔
دنیا میں صرف افغانستان اب وہ واحد مسئلہ باقی رہ گیا ہے جہاں 21 ویں صدی میں بھی بہت سے ملک ایک دوسرے کے خلاف کسی نہ کسی شکل میں صف آراء نظر آتے ہیں۔ اِس حوالے سے فرق صرف یہ پیدا ہوا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد وہاں دوسرے ملکوں کی فوجیں براہ راست ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں لڑیں گی بلکہ اِس بدنصیب ملک میں موجود متحارب مسلح گروہ مختلف ملکوں کی پراکسی جنگ لڑیں گے۔
معروضی تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا کہ بدلتی ہوئی صورت حال میں پاکستان کو دیگر ممالک سے کہیں زیادہ مسائل کا سامنا ہوگا۔ ماضی کی چند غلطیاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو سنگین نوعیت کے مسائل کو درپیش ہوں گے۔ پہلی غلطی یہ تھی کہ افغان جنگ میں پہلے ضیا الحق اور بعد ازاں، جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ ادوار میں پاکستان کوامریکا کا حلیف بناکر اُسے افغانستان میں براہ راست ملوث کردیا گیا۔
اِن فوجی حکمرانوں نے امریکی حمایت اور امداد کے لیے پہلے افغان مجاہدین کی حمایت کرکے ملک میں مذہبی، مسلکی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کو پروان چڑھایا جس کے نتیجے میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر پور ے ملک میں عام ہوگیا۔ نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف امریکا سے غیرمشروط تعاون کرکے اُن عناصر کے خلاف کارروائی میں امریکا کے حلیف بن گئے جنھیں ماضی میں اُنھوں نے خود پیدا کیا تھا۔ اِس عاقبت نااندیش پالیسی کے باعث اب افغانستان میں پاکستان کا کوئی دوست نہیں ہے۔
طالبان کی حمایت کرنا ممکن نہیں، ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں امریکا اور دوست ممالک سمیت تمام عالمی برادری کی مخالفت اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ افغان حکومت سے ہمارے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے لہٰذا اِن کی حمایت کرنے کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔
افغانستان میں پاکستان ہمیشہ امریکا کا حلیف رہا ہے، اب امریکا یہاں سے واپس جارہا ہے اور ہم تذبذب کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ کیا وقت نہیں آگیا کہ کسی بڑے بحران کا شکار ہونے اور ملک کو دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں سے بچانے کے لیے اُن بنیادی حقائق پر توجہ دینے کی روش اختیار کریں جنھیں ماضی میں ہم نظر انداز کرتے رہے ہیں؟
21 صدی کے تقاضوں کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ یہ کام اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم اُن تجربات سے سبق حاصل نہ کر لیں جن سے نہ صرف ہم بلکہ پوری دنیا گزر چکی ہے۔ گزشتہ صدی میں دو عالمی جنگیں لڑی گئیں جس کا نقصان پوری دنیا کو اُٹھانا پڑا۔ کروڑوں لوگوں کو زندگیوں سے محروم اور معیشتوں کو تباہ کرنے کے بعد یہ سبق سیکھا گیا کہ جنگ، فاتح اور مفتوح دونوں کے لیے ہمیشہ گھاٹے کا سودا ثابت ہوتی ہے۔ جنگی جنون سے جرمنی، اٹلی اور جاپان کو کچھ نہ ملا، یہ ملک تباہ وبرباد ہوگئے۔
امریکا، روس اور برطانیہ سمیت جن ملکوں نے جارح فاشسٹ ملکوں کو شکست دی تھی، اُنھیں بھی ناقابل بیان نقصان اُٹھانا پڑا۔ ویتنام کی جنگ نے یہ ثابت کیا کہ دنیا کی بڑی سے بڑی فوجی طاقت بھی عوامی عزم پر کبھی غالب نہیں آسکتی۔ دوسری جنگ عظیم سے کئی گنا زیادہ بم شمالی ویتنام جیسے چھوٹے ملک پر گرائے گئے تھے لیکن یہ بم آزادی پسند عوام کی اُمنگوں کو قتل نہیں کر سکے۔ ماضی کے تجربے سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی بھی ملک پر اپنی بالادستی قائم نہیں کی جاسکتی۔ افغانستان میں جو کچھ ہوا، اِس میں بھی بہت سے سبق موجود ہیں۔
پہلا سبق یہ ہے کہ طاقت کے ذریعے عوام اور معاشرے پر اپنا من پسند نظریہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ انتہا پسند قوتوں کو جنم دینے اور اُنھیں مضبوط کرنے والے ایک روز خود ایسی قوتوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ویتنام اور افغانستان کے تجربے سے یہ سبق بھی ملتاہے کہ غیر معمولی جنگی اخراجات، بڑے سے بڑے ملک کی معیشتوں کو بحران میں مبتلا کردیتے ہیں جس کا نتیجہ سابق سوویت یونین کی شکست و ریخت جیسا بھی برآمد ہوسکتا ہے۔
افغانستان کے بارے میں کوئی بھی حکمت عملی وضع کرنے سے قبل ہمیں اِن حقائق کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے اور اِس مقولے پر عمل نہیں کرنا چاہیے کہ انسان نے تاریخ سے یہ سبق سیکھا ہے کہ اِس نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
(بشکریہ: ایکسپریس نیوز)

Check Also

Dealing with informality through taxation

Sorry you have no right to view this Article/Post! Please Login or Register to view …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: