Sunday , October 2 2022
Home / Archive / نیلے بحرالکاہل کے شراکت دار

نیلے بحرالکاہل کے شراکت دار

Listen to this article

نیلے بحرالکاہل کے شراکت دار

نئی سرد جنگ

امریکا اپنی بقا کےلیے ہاتھ پائوں ماررہا ہے اور بیک وقت بے شمار منصوبوں اور معاہدات کا جاری کرنا اس بات کا غماز ہے کہ کوئی عمل اسے اعتماد نہیں دے رہا۔
24جون کو امریکا نے ایک اور اتحاد کا اعلان کیا ہے جس کا نام پارٹنرز ان ذی بلیو پیسفک (PBP)ہے۔ اس میں امریکا کے ساتھ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور یوکے شامل ہیں۔ اس سے قبل پیسفک کے دو اتحاد موجود ہیں ایک PACERاور دوسرا پیسفک آئی لینڈ فورم لیکن اس میں امریکا شامل نہیں ہے اور یہ صرف پیسفک کےممالک پر مشتمل ہے۔ پہلے امریکا نے ایشیا پیسفک (APAC) قائم کیا جو چائنا کے جزائر سلیمان کے ساتھ معاہدے کا ردعمل تھا اور اب PBP اپنا جلوہ دکھا رہاہے۔
امریکا نے یہ واضح کیا ہے کہ پیسفک اس کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے ۔ امریکا کا ایک طرف کا پورابارڈر پیسفک میں کھلتا ہےنیز مزید بڑے سات ممالک جو دنیا میں ہر حوالے سے اہم ہیں پیسفک خطے میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوتین ماہ کے عرصے میں امریکا یہاں اتحاد پر اتحاد بناتا چلا جارہا ہے۔
مقاصد
ایک مشترکہ اعلامیے میں پانچوں ممالک نے اس کے مقاصد کو واضح کیا۔ پیسفک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے لیے بہت اہم ہے اور وہ کسی طرح بھی چین کے اثر میں نہیں دینا چاہتے۔ اعلامیے میں اس کے درج ذیل مقاصد گنوائے گئے:
1۔ پیسفک کی کارکردگی
سب سے پہلا مقصد پیسفک کی کارکردگی کو بڑھانا ہے اور اس کے لیے ابھی یورپی یونین سے بھی رابطہ کرنا ہے۔پیسفک آئی لینڈ فورم یورپی یونین کے ساتھ مل کر چلا جائے گا اور اس سے 2050ء کے وژن کو سامنے رکھا جائے گا۔
2۔ پیسفک کے خطے کی پہچان : پیسفک براعظم
پیسفک کو باقی دنیا سے ایک الگ پہچان دی جائے گی۔ یعنی اس خطے کے اصل مالک اس کے ممالک ہوں گے نہ کہ باہر کی طاقتیں۔ اس کے لیے پیسفک براعظم کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔
3۔ پیسفک کا دوسری دنیا سے رابطہ
پیسفک کو محور بناتے ہوئے اس کے دوسری دنیا کے ساتھ تجارتی و دیگر رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔ لیکن دیگر ممالک کا ایسا کو ئی بھی رابطہ یا معاہدہ خطے کے ممالک کی شرائط پر ہوگااور باہر کے ممالک کو وہاں کی خودمختاری کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہر مرحلے پر پیسفک کےممالک ہی رہنمائی کریں گے کہ کیاکرنا ہے۔
یہ اصل میں چین کے کامن ڈویلپمنٹ وژن کا جواب ہے جو اُس نے پیسفک کے ممالک کے ساتھ مئی میں طے کیاتھا۔ اس میں بھی اسی طرح کے نکات بیان کیے گئے ہیں کہ تمام ممالک برابر ہیں اور سب کی خودمختاری کا تحفظ کیا جائے گا۔
پیسفک آئی لینڈ فورم کی اہمیت
پیسفک آئی لینڈ فورم کا حالیہ اجلاس فجی میں 11سے 14جولائی تک منعقد ہوا۔ یہ اس کا 51واں اجلاس تھا گویا اس کو پچاس سال پورے ہوئے اور یہ اس کی گولڈن جوبلی بھی تھی۔اس اجلاس میں ممبر ممالک نے اس امر کا تہیہ کیا کہ وہ پیسفک ممالک کو خودمختار بنائیں گے اورباہر کی دنیا کو اس پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔
دوسری طرف چین اور امریکا دونوں کی نظریںبھی اس اجلاس پر لگی ہوئی تھیں۔ خاص طور پر امریکا پارٹنرز ان دی بلیو پیسفک کے حوالے سے اس میں دلچسپی لے رہا تھا۔چین اور امریکا دونوں کا منصوبہ تھا کہ اس اجلاس میں کسی طرح سے وہ فورم کے ممالک کے ساتھ بات چیت کریں لیکن فورم کے ممالک نے اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے ا س اجازت نہیں دی۔ لیکن شاید اس سے کوئی زیادہ فرق نہ پڑے اور فورم کے اجلاس کے بعد امریکا اور چین ایک دفعہ پھر یہ کوشش کریں گے کہ فورم کے ممالک کو اپنی جانب جھکائو رکھنے پر مجبور کریں۔
ایک بات تو اس میں واضح ہے کہ پیسفک ممالک میں آسٹریلیا سب سے نمایا ں اور اسی طرح نیوزی لینڈ بھی۔ دونوں یوکے کی ڈومینین ہیں اوردونوں کا امریکا سے اچھا تعلق ہے۔ جب تک آسٹریلیا امریکا کی ایما پر چلتا رہے گا پیسفک میں امریکا کا اثرورُسوخ رہے گا۔ اسی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈدونوں چین کے بھی مخالف ہیںاور خطے میں چین کی پیش قدمی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے بازی فی الحال تو امریکا کے حق میں جارہی ہے اور آئی لینڈ فورم کا اجلاس بھی اس حوالے سے کم ہی اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ جب تک آسٹریلیا یہ واضح اور دوٹوک الفاظ میں نہیں کہتا کہ خطے کے ممالک ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں اُس وقت تک آئی لینڈ فورم خودمختار حیثیت میں نظر نہیں آتا۔ علاوہ ازیں آئی لینڈ فورم کے دیگر ممالک بھی یوکے کے ڈومینین ہیں ۔ یعنی اُن پر زیادہ اثر و رُسوخ امریکا اور برطانیہ کا ہی ہے۔
لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ پیسفک آئی لینڈ فورم کا ایک اہم ملک جزائر سلیمان بھی ہر معاہدے کا رُکن ہے۔ وہ چین کے حالیہ معاہدے میں جس میں چین نے کئی جزائر کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی ہے کا اہم رُکن ہے۔ اس طرح سے چین بھی پیسفک میں برابر کی سطح پر اپنی اہمیت جتا رہا ہے۔

انڈیا اس کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟
انڈیا اس سے قبل کواڈ اور آئی پیف یعنی اکنامک فریم ورک میں بھی امریکا کے ساتھ ہے تو اب پارٹنرز ان دی بلیو پیسفک کی طرف بھی نظریں لگائے ہوئے ہے۔ انڈیا کا آسٹریلیا کے ساتھ بھی حال ہی میں آزاد تجار ت کا معاہدہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ وہ فلپائن کے ساتھ بھی میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے منسلک ہے۔

Check Also

Sociology. 30-09-2022

Listen to this article Sociology. 30-09-2022 Jahangir’s World Times E-mail: jwturdubazar@gmail.com Ph: 0302 555 68 …

Leave a Reply

%d bloggers like this: