Monday , October 3 2022
Home / Archive / قانون کیا ہے؟

قانون کیا ہے؟

Listen to this article

قانون کیا ہے؟

قانون کو انگریزی میں Law کہتے ہیں، یہ اُن اُصولوں اور ضابطوں کا مجموعہ ہے، جنھیں ریاست کی طرف سے تسلیم کرلیا گیا ہو اور جنھیں انصاف قائم رکھنے کے لیے ریاست کی طرف سے رائج کیا گیا ہو۔

قانون کی اپنی درجہ بندی کے لحاظ سے مختلف اقسام ہیں۔
ملکی قانون، یہ قانون ریاست کی علاقائی حدود کے اندر ریاست کے اقتدار اعلیٰ کا مظہر ہوتے ہیں۔ اِس کی دو اقسام ہیں؛ اول دستوری قانون، اِس بنیادی قانون کو کہا جاتا ہے جو ریاست کی تنظیم، حکومت کے اختیارات اور ریاست کے اقتدار اعلیٰ کے استعمال پر افراد کے حقوق کا تعین کرتا ہے۔ یہ قانون مملکت کے نظریات و تصورات کی بھی وضاحت کرتا ہے۔

دوم، عوامی قانون، یعنی پبلک لا جس کا اطلاق ایسے معاملات پر ہوتا ہے جو عام لوگوں اور حکومت کے باہمی تعلق سے ہوں، مثلاً ٹیکسوں کی ادائیگی سے متعلق قوانین، نجی قانون (پرسنل لا) ایسے قوانین جن کا تعلق شہریوں کے ذاتی معاملات مثلاً جائداد، وراثت، کاروبار، شادی بیاہ اور طلاق وغیرہ سے ہو۔ اِس قانون کی بھی دو اقسام ہیں۔ اول دیوانی قانون (Civil Law) جس کا تعلق ایسے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتا ہے جو مال، املاک، وصیت ناموں، جائداد کی تقسیم سے متعلق ہوں۔ دوم فوجداری قانون (کرمنل لا) یہ قانون جرائم و سزاؤں سے متعلق ہے یعنی قانون کی یہ قسم جرائم کی نوعیت اور سزا سے بحث کرتی ہے۔
انتظامی قانون (ایڈمنسٹریشن لا) حکومت اور اِس کے اداروں کے دائرہ عمل سے تعلق رکھتا ہے یعنی انتظامی احکامات اور اختیارات اور فرائض کا تعین کرتا ہے۔
فوجی قانون (ملٹری لا) وہ قانون جو فوج کی قانونی برانچ کے ماہرین تشکیل دیتے ہیں اور فوجی انتظامیہ نافذ کرتی ہے۔

مارشل لا، جب ملک میں نظم و نسق کا نظام درہم برہم ہو جائے حکومت اور شہری احکام امن برقرار رکھنے اور قانون لاگو کرنے میں ناکام ہو جائیں تو اِس قانون کو نافذ کرکے اِس کے حکام کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ نظم و نسق کو قائم کرنے کے لیے سرسری طریقوں سے کام لے سکتے ہیں یہ نظام عارضی ہوتا ہے۔ ان احکامات کی خلاف ورزی پر فوجی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی قانون (انٹرنیشنل لا) ایسے قوانین جن کے تحت مختلف ممالک کے باہمی تنازعات، سفارت کاری، جنگ کے ضابطوں اور دیگر عالمی جھگڑوں کو طے کیا جاتا ہے۔ اِس قانون کو عالمی ضابطہ اخلاق کہنا بہتر ہے کیوں کہ اِس میں سزا کا کوئی واضح تصور نہیں۔

آرڈیننس یعنی حکم نامے، ایسے قوانین کو کہا جاتا ہے جو ملک کا انتظامی سربراہ وقتاً فوقتاً آئین کی رو سے اپنے خصوصی اختیارات کی بنا پر نافذ کرتا ہے۔ یہ قانون انتظامی سہولت کے لیے مخصوص مدت کے لیے نافذ کیا جاتا ہے اور مخصوص مدت گزر جانے کے بعد منسوخ ہو جاتا ہے۔

بعض اوقات عدلیہ بھی قانون سازی کا کام کرتی ہے اگر کسی خاص معاملے میں قانون خاموش ہے یا مبہم ہو تو ایسی صورت میں جج صاحبان قانون کی تشریح کرکے اپنی بصیرت کے فیصلے دیتے ہیں۔ یہ فیصلہ ماتحت عدالتوں کے لیے قانونی درجہ رکھتا ہے اسے عدلیہ کا بنا ہوا قانون کا نام دیا جاتا ہے۔
ایسے قوانین جن کی بنیاد رسم و رواج اور روایات پر ہوتی ہیں عدالتیں اُنھیں تسلیم کرتی ہیں ایسے قوانین کو انگریزی میں ’’کامن لا‘ ‘ کہا جاتا ہے۔

ایسے قوانین جن کا تعلق معیشت و تجارت سے ہو ایسے قوانین کو تجارتی قوانین کا نام دیا جاتا ہے۔
بعض افراد قانون اور اخلاق کو ہم معنی تصور کرتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ قوانین وہ اُصول اور ضوابط ہوتے ہیں جنھیں حکومت وضع کرتی ہے۔ اُن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حکومت مختلف سزائیں دیتی ہے جب کہ اخلاقی قوانین کا تعلق اُن اُصولوں سے ہوتا ہے جو انسانی ضمیر اور روحانی قدروں کے قریب ہوتے ہیں جن کا مقصد انسان کے کردار کو بہتر بنانا ہے۔ مثلاً حسد کرنا، احسان فراموشی، اخلاقی جرائم ہیں لوگ اِس طرز عمل کو ناپسند کرتے ہیں لیکن قانون کی نگاہ میں یہ جرم اُس وقت تصور کیا جائے گا جس سے دوسروں کو براہ راست نقصان پہنچے۔

قانون کی درجہ بندی کے لحاظ سے قانون کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں۔
قانون کی ایک اور قسم ہے جسے درسی کتب میں علیحدہ بیان کیا گیا ہے، وہ ہے اسلامی قانون۔ دنیاوی قانون کی بنیاد عقلاً یا رہنمائے قوم کے اذہان کی تخلیق ہوتا ہے اِس کے برعکس اسلامی قانون کی بنیاد الہام اور وحی خداوندی پر ہے اسلام میں لفظ قانون کا استعمال بہت کم ہوا ہے اِس کے بجائے فقہ اسلام نے لفظ شریعت استعمال کیا ہے۔ عرف عام میں اسے اسلامی قانون کہتے ہیں۔ قرآن و سنت اسلامی قانون کے بنیادی مآخذ ہیں۔ اجتہاد، اجماع، قیاس، استحسان، مصالح مرسلہ، استدلال اور اسلامی فقہ کو ثانوی مآخذ شمار کیا جاتا ہے۔

دنیاوی قانون کے سب سے اہم مآخذ رسم و رواج ہیں۔ معاشرے میں انسان کے جس طرز عمل نے مقبولیت حاصل کی ہوتی ہے، وہ رسم و رواج کے زمرے میں آتا ہے۔ مذہب قانون کا دوسرا اہم مآخذ ہے، قبائلی دور سے لے کر آج کے جمہوری دور تک میں مذہب کو قانون سازی میں اہم حیثیت حاصل رہی ہے۔ دنیا میں سیکولر ریاستیں بھی ہیں لیکن وہاں بھی کوئی قانون مذہب کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔ دنیاوی قانون کا تیسرا مآخذ عدالتی فیصلے ہیں یہ فیصلے بڑے مستند اور قابل جج صاحبان کے ذریعے ہوتے ہیں جن کے قانونی تجربے کے لوگ قائل ہوتے ہیں۔

ان فیصلوں کی حیثیت قانون کے برابر ہوتی ہے۔ ماہرین قانون کی علمی تشریحات بھی قانون سازی کے میدان میں اہم حیثیت حاصل رہی ہے بلیک سٹون، سٹوری اور کینٹ مغربی دنیا کے نامور ماہرین قانون گزرے ہیں جب کہ اسلامی دنیا میں امام ابو حنیفہ، ؒ امام مالکؒ، امام حنبلؒ، امام شافعیؒ، امام ابو یوسفؒ، امام جعفر صادقؒ اور دیگر فقہا گزرے ہیں جن کی رائے سے قانون سازی کے وقت استفادہ کیا جاتا ہے۔

بعض اوقات عدالتوں کے پاس ایسے مقدمات آ جاتے ہیں جن پر ملکی قانون بالکل خاموش ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں جج صاحبان اپنی عقل، بصیرت، فہم اور تجربے کی بنیاد پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں یہ بھی قانون کا اہم مآخذ ہے جسے Equity کہا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں قانون سازی کا سب سے اہم مآخذ مقننہ ہے۔ قدیم زمانے میں بادشاہ قانون بناتا تھا اب عوام کے منتخب نمائندے مقننہ میں بیٹھ کر حالات کے تقاضوں کے مطابق قانون بناتے ہیں۔ اِس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دور حاضر میں قانون سازی کا سب سے اہم مآخذ مقننہ کی قانون سازی ہے۔

Check Also

Lord Marquess of Hastings (Governor General of India AD 1813 -1823) 02-10-2022

Listen to this article Lord Marquess of Hastings (Governor General of India AD 1813 -1823) …

Leave a Reply

%d bloggers like this: