Friday , May 20 2022
Home / Archive / جامعہ الازہر

جامعہ الازہر

جامعہ الازہر

اہم تاریخی پس منظر کی حامل

مصر کی الازہر یونیورسٹی اپنے علمی و ادبی معیار کی بدولت عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں شہرت رکھتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اِس یونیورسٹی کی بنیاد ایک مسجد پر رکھی گئی ہے۔ جب سسلی کی فوجوں کے کمانڈر نے خلیفہ المعاذ کے حکم پر مصر کو فتح کیا تو اُس نے 969ء میں قاہرہ کی بنیاد رکھی جس میں الازہرمسجد تعمیر کی گئی۔ مسجد کی تعمیر میں دو سال کا عرصہ لگا۔ اِس مسجد میں پہلی نماز 7رمضان المبارک 971ء کو پڑھائی گئی۔ اِس مسجد کو بعد میں یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا گیا جو بعد ازاں جامعہ الازہر کے نام سے مشہور ہوئی۔ جامعہ الازہر اِس وقت عالم اسلام کی سب سے قدیم یونیورسٹی ہے۔ تاریخ دان اِس کا نام الازہر رکھے جانے میں اختلاف کرتے ہیں۔ کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اِس کا نام الازہر اِس لیے رکھا گیا کیوں کہ جس وقت اِس شہر کی بنیاد رکھی گئی، تب اِس جگہ پر خوب صورت مکانات بنے ہوئے تھے جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ اِس کا نام حضرت فاطمۃ الزہرہؓکے خاندان کی مناسبت سے رکھا گیا۔ مسجد کی تعمیر کے ساڑھے تین سال بعد یہاں مختلف علوم کی باقاعدہ کلاسز شروع کی گئیں۔
خلیفہ المعاذ کے ہی دور میں975ء میں امام ابو حنیفہؒ کے بیٹے قاضی القضاۃ ابو الحسن علی النعمان الخیروائیؒ نے اپنے والد کی لکھی گئی کتاب ’’الاختصار‘‘ پڑھی جس سے سینکڑوں لوگوں نے استفادہ کیا۔ ابوالحسن پہلے شخص تھے جنھیں چیف جسٹس (قاضی القضاۃ) کے لقب سے نوازا گیا۔ جامعہ الازہر میں ہونے والے سیمینار مذہبی موضوعات پر ہوتے تھے تاہم اُن پر سیاسی رنگ نمایاں نظر آتا تھا۔ خلیفہ العزیز باللہ کے دور حکومت میں جامعہ الازہر میں تعلیمی اصلاحات کی گئیں۔ اِسی دور میں خلیفہ العزیز باللہ کے وزیر یعقوب ابن کلیس نے جامعہ الازہر میں شیعہ قانون کے متعلق اپنی کتاب’’الرسالہ العزیزیہ‘‘ پڑھ کر سنائی۔ یعقوب ابن کلیس نے جامعہ میں تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے 30قانون دانوں کو نوکری دی۔ جامعہ میں خواتین کی اخلاقی تربیت کے لیے بھی سیمینارکا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ کو دو سو سال تک عدالتی کارروائیوں اور ٹیکسوں کے نظام کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور اِس سلسلے میں جامعہ سے ہر قسم کی رہنمائی حاصل کی جاتی رہی۔ بغداد اور اندلس میں اسلامک کلچر کے مراکز کی تباہی تک جامعہ کو اسلامی دنیا کے تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل رہی۔ یہاں ہونے والے سیمینارز پہلے دن سے ہی خالصتاً تعلیمی و ادبی نوعیت کے تھے۔ اِن سیمینارز میں شرکت بالکل مفت تھی بلکہ بعض افراد کو وظائف بھی دیے جاتے۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے جامعہ الازہر کے باقاعدہ اساتذہ کے علاوہ مختلف علوم کے ماہرین کو بھی لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا۔ وزیٹنگ فیکلٹی کے ذریعے تعلیم دینے کا یہ نظام اتنا کامیاب ہوا کہ بعد میںمشرق و مغرب کے دیگر تعلیمی اداروں نے اِسے اپنا لیا۔ 648ھ میں مملوکوں کے دور اقتدار میں جامعہ الازہر نے بہت ترقی کی۔ اُنھوں نے جامعہ کی بہتری کے لیے بہت سے اقدامات کیے۔ وسط ایشیا پر مغلوں کے حملے اور اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے بعد علما اور دانش وروں پر زمین تنگ پڑ گئی۔ اِس دوران زیادہ تر دانش وروں نے جامعہ الازہر میں پناہ لی۔ اِن علما کے آنے سے جامعہ نے بہت زیادہ ترقی کی۔ 8ویں اور 9ویں صدی ہجری میں یہ یونیورسٹی اپنے علمی معیار کی وجہ سے عروج پر تھی۔ اِس نے سائنسی علوم کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جامعہ کے کچھ دانش وروں اور اساتذہ نے علم الادویات، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور تاریخ کی ترقی کے لیے بہت محنت کی۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں جامعہ الازہر کو ملنے والے عطیات کی وجہ سے یہ خود مختار ادارے کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ علما کو نئے نئے موضوعات پر تحقیق کرنے کے بھرپور مواقع میسر آئے۔ اِس طرح جامعہ اسلامی اور عربی علم کا مرکز بن گئی۔ عثمانی حکمرانوں نے کبھی اِس کے معاملات میں مداخلت نہ کی اور نہ ہی اِس کے بڑے عہدے ’’امام‘‘ پر اپنی مرضی کے آدمی لانے کی کوشش کی۔ اِس بڑے عہدے کو مصریوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا تاکہ کوئی باہر کا آدمی جامعہ پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ جولائی 1789ء میں جب نپولین بونا پارٹ نے مصر پر حملہ کیا تو وہ جامعہ الازہر کے تعلیمی معیار اور نظم و نسق سے بہت متاثر ہوا۔ نپولین نے اپنی ذاتی ڈائری میں جامعہ الازہر کے تعلیمی معیار کو پیرس کی سوربون یونیورسٹی کے معیار کے برابر قرار دیا اور وہاں کے اساتذہ اور طالب علموں کو عوام اور ملک کے لیے عظیم سرمایہ قرار دیا۔ نپولین نے مصر پر قبضہ کے دوران قاہرہ میں ’’دیوان‘‘ کے نام سے ایک مشاورتی کونسل بنائی جو حکومتی معاملات میں مشورے دیتی تھی۔ اِس کونسل میں 9علما شامل تھے جس کے چیئرمین شیخ عبداللہ الشرکاوی تھے جو الازہر یونیورسٹی کے بڑے امام تھے۔ دیگر9علما بھی جامعہ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نپولین کی نظر میں الازہر یونیورسٹی کے سکالرز کی کیا وقعت تھی۔ جب انقلاب فرانس برپا ہوا تو اِسی جامعہ میں فرانسیسیوں اور انقلابیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اِس کمیٹی کی صدارت شیخ محمد السادات نے کی۔ مذاکرات کی ناکامی پر انقلاب میں شدت آ گئی جس کے نتیجہ میں بڑے امام اور دیگر علما نے فیصلہ کیا کہ جامعہ کو نقصان سے بچانے کے لیے اِسے بند کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ چناں چہ تاریخ میں پہلی مرتبہ جامعہ بند کی گئی اور تقریباً تین سال تک یہاں کسی قسم کی تعلیمی سرگرمیاں نہیں ہوئیں۔ فرانسیسیوں کے جانے کے بعد تعلیم کا سلسلہ بحال ہو گیا۔ 1805ء میں مصر میں محمد علی پاشا کی حکومت قائم ہوئی تو اُس نے مصر کو جدید ریاست بنانے کا ارادہ کیا۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اُسے جامعہ الازہر پر انحصار کرنا پڑا۔ اُس نے جامعہ کے طلبا کو سکالرشپس پر پڑھنے کے لیے یورپی ممالک میں بھیجا۔ اِن طلبا نے جدید تعلیم حاصل کی اور واپس آکر ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اِن طلبا میں سعدزغلول پاشا (وزیراعظم) محمد عبدہٗ وغیرہ نمایاں ہیں۔ جامعہ الازہر پر ایک دور ایسا بھی آیا جب مسلمان اور عیسائی علما مل کر لوگوں سے خطاب کیا کرتے تھے۔ 19ویں صدی کے آخری نصف میں مصر میں اسلامی تحریک شروع ہوئی جس نے جامعہ الازہر کو کافی متاثر کیا۔ 1872ء میں جامعہ نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت ڈگریاں جاری کی جانے لگیں۔ 1930ء میں دوسرا قانون پاس کیا گیا جس میں الازہر یونیورسٹی کے مختلف کالجوں اور فیکلٹیز میں پڑھائے جانے والے مضامین کو دوبارہ منظم کیا گیا۔ جامعہ الازہر میں دنیا بھر کے مسلم ممالک سے طلبا داخلہ لے سکتے ہیں۔

Check Also

CSS Paper Geology 2022

CSS Paper Geology 2022

Leave a Reply

%d bloggers like this: