Monday , December 6 2021
Home / Archive / ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کی کمی کا مسئلہ

ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کی کمی کا مسئلہ

ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کی کمی کا مسئلہ

دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کو اپنی آبادی اور بچوں کی پیدائش میں جس قدرکمی کا سامنا ہے تاریخ میں اِس کی مثال نہیں ملتی۔ اب دنیا میں جنازے زیادہ اٹھیں گے اور بچوں کی سالگرہ کے مناظر شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملیں گے۔ بچوں سے خالی گھر دیکھنے والوں کے لیے اذیت ناک مناظر پیش کریں گے۔ اٹلی کے ہسپتالوں میں میٹرنٹی وارڈز پہلے ہی بند ہو رہے ہیں، شمال مشرقی چین میں شہر ویران نظر آتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی یونیورسٹیوں کو داخلے کے لیے طلبا نہیں مل رہے اور جرمنی میں ہزاروں عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں اور ان کی جگہ پارک بنا دیے گئے ہیں۔ آبادی ایک پہاڑی تودے کی طرح تیز رفتاری سے نیچے کی طر ف لڑھک رہی ہے۔ دنیامیں پیدائش کم اور اموات زیادہ ہو رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ ممالک خاص طور پر افریقہ کی آبادی میں اب اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے؛ تاہم شرح پیدائش میں کمی بھی واقع ہو رہی ہے۔ ڈیموگرافرز یعنی آبادی کے ماہرین اب یہ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ اِس صدی کے دوسرے نصف میں یا اِس سے بھی قبل پہلی مرتبہ دنیا کی آبادی میں کمی دیکھنے میں آئے گی۔ جب کرہ ارض پر آبادی کم ہو گی تو وسائل پر دبائو بھی کم ہوگا، ماحولیات پرتباہ کن اثرات میں کمی آئے گی اور خواتین کے گھریلو کام کاج کے بوجھ میں بھی کمی آئے گی مگر اسی مہینے چین اور امریکا کے مردم شماری کے محکموں کے اعلان کے مطابق، ان دونوں ممالک میں کئی عشروں بعد آبادی کی شرح افزائش میں کمی نظر آ رہی ہے اور یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اِس کا ازالہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔ لوگوں کی عمریں طویل ہو رہی ہیں اور بچوں کی پیدائش تیزی سے کم ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ورکرز کی تعداد کم اور ریٹائرڈ لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہاں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جس کا نظریہ ہو گا کہ ہمارے نوجوان معیشت کو چلائیں گے اور ان کی مدد سے بوڑھے اور ضعیف شہریوں کی دیکھ بھال کی جائے گی۔ اِس طرح شاید خاندان اور قوم کا تصور ہی تبدیل ہو جائے۔ذرا ان علاقوں کا تصور کریں جہاں تمام شہری 70 سال یا اِس سے زائد عمر کے ہوں گے۔ ان حکومتوں کا سوچیں جو تارکین وطن کے لیے اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی مائوں کے لیے بھاری بونس دینے کا اعلان کر رہی ہیں۔ ایسے ممالک کا تصور کریں جہاں گھروں میں صرف دادا، دادی اور نانا، نانی موجود ہوں اور وہاں بچوں کی پیدائش میں اضافے کے اشتہار چل رہے ہوں۔ ایک جرمن ڈیموگرافر فرینک سوالنزی، جو گزشتہ سال تک یو این او کے آبادی کے چیف اینالسٹ رہے ہیں، کہتے ہیں ’’ہمیں ایک انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اب دنیا بھر کے ممالک کو آبادی میں کمی کے رجحان کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا‘‘۔ آبادی میں کمی کے سنگین نتائج اور اِس پر ردعمل خاص طور پر مشرقی ایشیا اور یورپ میں ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ چین، جاپان، ہنگری اور سویڈن کی حکومتوں نے عمر رسیدہ افراد اور نوجوان ورکرز کی تعداد میں توازن قائم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان ممالک میں نوجوانوں کو پروان چڑھانے کے فوری فیصلوں کے مثبت اور منفی اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مثبت اِس لحاظ سے کہ خواتین کو ملازمت کے زیادہ مواقع ملے ہیں اور منفی اِس لحاظ سے کہ صنفی عدم مساوات اور مہنگے لوازمِ حیات کا سامنا کرنا پڑا۔
بیسویں صدی میں دنیا کو ایک بالکل ہی مختلف چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دنیا نے اپنی آبادی میں اِس قدر اضافہ دیکھا جس کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 1900ء میں دنیا کی کل آبادی ایک ارب ساٹھ کروڑ تھی مگر 2000ء میں بڑھ کر یہ چھ ارب تک جا پہنچی تھی۔ اِس کی بڑی وجہ انسانی کی متوقع عمرمیں اضافہ اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں کمی تھی۔ دنیا میں ایک تہائی آبادی والے ایسے ممالک بھی ہیں جہاں اضافے کی یہ شرح ابھی تک بر قرار ہے۔ اِس صدی کے آخر تک نائیجیریا آبادی میں اضافے میں چین کو مات دے سکتا ہے کیوں کہ صحرائے صحارا کے اردگرد کے ممالک اور جنوبی ایشیا میں کسی حد تک آ ج بھی خاندان چار یا پانچ بچوں پر مشتمل ہیں مگر اِس کے علاوہ دنیا میں ہر جگہ بلند شرح افزائش کا دور گزر چکا ہے۔ چوں کہ اب خواتین کو اعلیٰ تعلیم اور انسداد حمل کے زیادہ مواقع میسر ہو گئے ہیں اور بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی انزائٹی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اِس لیے زیادہ تر والدین بچوں کی پیدائش میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں اِس لیے دنیا میں کم تعداد میں بچے پیدا ہو رہے ہیں حتیٰ کہ بھارت اور میکسیکو جیسے ممالک، جہاں شرح افزائش کہیں زیادہ تھی، وہاں بھی بچوں کی پیدائش میں کمی آ گئی ہے جو فی خاندان 2.1 بچہ سالانہ ہے۔ اِس تبدیلی میں خواہ کئی عشرے لگ جائیں مگر جب یہ کمی آنا شروع ہو جائے تو (پیدائش کی طرح) یہ بھی تیزی سے بلندی کی طرف جاتی ہے۔ چوں کہ اب شرح پیدائش بہت کم ہو گئی ہے اِس لیے کم لڑکیاں پیدا ہو رہی ہیں اور ان لڑکیوں نے ہی آگے چل کر مزید بچے پیدا کرنا ہوتے ہیں۔ اگر اپنے والدین کی طرح وہ بھی کم بچے پیدا کرتی ہیں اور چھوٹے خاندان کو ترجیح دیتی ہیں اور ایسا درجنوں ممالک میں ہو بھی رہا ہے تو آبادی میں کمی اتنی ہی تیز رفتار ی سے ہوتی ہے جیسے کہ آپ کسی پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے ہوکر کوئی پتھر نیچے پھینک دیں۔ ایشیا میں آبادی پر نظر رکھنے والے اور ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سوشل سائنس اور پبلک پالیسی کے پروفیسر سٹوارٹ گریٹل بیسٹن کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک یاسیت پسندانہ میکنزم ہے۔ آپ اسے ڈیموگرافک مومینٹم بھی کہہ سکتے ہیں‘‘۔ امریکا، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے ممالک جہاں شر ح پیدائش 1.5 اور 2.00 کے درمیان رہتی ہے وہ اپنا آبادی میں کمی کا مسئلہ تارکین وطن کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایشیا کے کئی ممالک میں جہاں آبادی میں اضافہ ایک ٹائم بم کی شکل اختیار کر گیا تھا، اب وہاں یہ ایشوختم ہو چکا ہے۔
جنوبی کوریا میں شرح پیدائش اِس قدر کم ہو چکی ہے کہ 2019ء میں وہاں یہ 0.92 فیصد تک گر گئی یعنی ایک ترقی یافتہ ملک میں فی خاندان ایک بچے سے بھی کم ہو گئی۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں جنوبی کوریا میں سب سے کم بچے پیدا ہوئے۔ ایک طرف بچے کم پیدا ہورہے ہیں تو دوسری جانب صنعتیں بڑی تیز ی سے پھیل رہی ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد دیہات سے شہروں کی طر ف ہجرت کر گئی ہے۔ اب ان ممالک میں دو طرح کے سماجی ڈھانچے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
سیول جیسے میٹرو پولیٹن شہروں کی آبادی میں اضافہ جاری ہے؛ چناں چہ انفراسٹرکچر اور ہائوسنگ پر شدید دبائو ہے جب کہ قصبوں کے سکول بند پڑے ہیں اور پلے گرائونڈز جھاڑیوں سے اٹے ہیں کیوں کہ وہاں کھیلنے والے بچے ہی نہیں ہیں۔ ماں بننے والی خواتین کو اپنے اردگرد کوئی گائناکالوجسٹ یا بچوں کا ڈے کیئر سنٹر نہیں ملتا۔ سیول سے باہر اشرافیہ کی یونیورسٹیوں سے نچلے درجے کی کسی بھی یونیورسٹی کے لیے اپنے داخلے مکمل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جنوبی کوریا میں اٹھارہ سالہ نوجوانوں کی تعداد جو 1992ء میں 9لاکھ تھی آج محض پانچ لاکھ رہ گئی ہے۔ کئی سکولوں نے طلبا کو اپنی طر ف کھینچنے کے لیے وظائف حتیٰ کہ آئی فونز کا لالچ بھی دے رکھا ہے۔ شرح پیدائش بڑھانے کے لیے حکومت بچوں کے لیے بونس دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نوزائیدہ بچوں کے لیے تحائف، کپڑے اور کھلونے بھی لے کر جاتے ہیں۔ حکومت سینکڑوں کی تعداد میں کنڈر گارٹن اور ڈے کیئر سنٹر بنا رہی ہے۔ سیول کی ہر بس میں گلابی رنگ کی نشستیں حاملہ خواتین کے لیے مختص ہوتی ہیں۔ مگر اسی مہینے نائب وزیراعظم ہانگ نیم کی نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران بچوں کی شرح پیدائش میں اضافے کے لیے 178 بلین ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
ایک 38 سالہ گھریلو خاتون نے بتایا کہ ’’میرے دادا کے چھ اور میرے والدین کے پانچ بچے تھے کیوں کہ وہ نسل زیادہ بچوں پر یقین رکھتی تھی۔ میرا صرف ایک بچہ ہے۔ میں یا میری نسل سمجھتی ہے کہ ہم زیادہ بچے افورڈ نہیں کر سکتے‘‘۔ یہاں سے ہزاروں میل دور اٹلی میں بھی جذبات اِس سے مختلف نہیں ہیں۔ جنوبی اٹلی کے ایک قصبے کیپراکوٹا میں اٹھارہویں صدی کی ایک عمارت پر سرخ حروف میں لکھا ہے ’’ہوم آف سکول کنڈر گارٹن‘‘ مگر آج یہ عمارت نرسنگ ہوم کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ 93 سالہ کونسیٹا اینڈرا، جو اسی سکول میں پہلے طالبہ اور پھر ٹیچر رہ چکی ہیں، کہتی ہیں ’’یہاں بہت سی فیملیز اور بہت سے بچے ہوا کرتے تھے مگر اب یہاں کوئی نہیں ہے‘‘۔ کیپرا کوٹا کی آبادی ڈرامائی طور پر عمر رسیدہ اور 5ہزار سے کم ہو کر 800 ہو گئی ہے۔ ایک فٹ بال ٹورنامنٹ کے منتظمین کے لیے ایک ٹیم بنانا مشکل ہو گیا ہے۔ یہاں سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع قصبے ایگنون میں دس سال پہلے میٹرنٹی وارڈ کو بند کر دیا گیا تھا کیوں کہ یہاں سال میں 500 سے کم کیسز ہوتے تھے۔ اِس سال یہاں صرف 6 بچے پیدا ہوئے۔ نرس انریکا شولو کہتی ہے ’’کبھی یہاں نرسری میں بچوں کے رونے کی آوازیں آیا کرتی تھیں، اب یہاں خاموشی اور ویرانی ہے‘‘۔ اسی مہینے اٹلی میں شرح پیدائش کے بحران سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا ہے ’’ہمارا موسم سرما آبادی کے لحاظ سے مزید سرد اور تاریک ہو گیا ہے‘‘۔
عنقریب ہر ملک میں ایسے ہی استعارے استعمال ہوں گے۔ 2016ء میں ہیلانگ ژیانگ صوبے میں پنشن سسٹم میں رقم ختم ہو گئی تھی۔ ہیگانگ بھی اسی صوبے کا ایک ویران شہر ہے جس کی آبادی 2010ء کے مقابلے میں آج 10 فیصد کم ہو گئی ہے۔ بہت سے ممالک نے اِس کمی کی مزاحمت کرنے کے بجائے اسے ایک حقیقت تسلیم کر لیا ہے۔ جنوبی کوریا کی یونیورسٹیز نے ایک دوسرے میں ضم ہونا شروع کر دیا ہے۔ جاپان کے بلدیاتی اداروں نے بھی سکڑنا شروع کر دیا ہے۔ سویڈن میں سکولوں کے لیے مختص ہونے والے وسائل اب ایلڈر کیئر سنٹرز پر خرچ ہونے لگے ہیں۔ ہر جگہ عمر رسیدہ شہریوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ملازمت جاری رکھیں۔ جرمنی، جس نے پہلے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 67 سال کی تھی اِس سال اسے 69 سال کرنے پر غور کر رہا ہے۔ جرمنی دیگر ممالک سے کہیں آگے کی سوچ رہا ہے اور اِس نے شہروں کو چھوٹا کرنے کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔ 2002ء سے شروع ہو کر 3 لاکھ 30 ہزار گھروں کو مسمار کر کے ان کا ملبہ بھی اٹھا دیا گیا ہے۔ اگر کسی ملک کا اِس بحران سے نکلنے کا کوئی ارادہ ہو تو جرمنی نے بچوں کی پرورش اور والدین کو زچگی پر چھٹی دے کر بہتر نتائج حاصل کیے ہیں جہاں شرح پیدائش1.3 فیصد سے بڑھ کر 1.54 فیصد ہو چکی ہے۔ لپزگ، جو پہلے سکڑنا شروع ہو گیا تھا، کی آبادی اب بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ مسٹر سیوا کنزی، جو جرمنی کے انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن ریسرچ کے سینئر ریسرچ فیلو ہیں، کہتے ہیں ’’آبادی میں کمی کی طرح اِس میں اضافہ کرنا بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتا‘‘۔ ڈیموگرافرز کا کہنا ہے کہ آبادی میں کمی کو محض ایک خطرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ بہت سی خواتین کے کم بچے ہیں اور یہ اِس لیے کہ وہ ایسا ہی چاہتی ہیں۔ جب آبادی کم ہو گی تو معاوضے بڑھیں گے، معاشرے میں مساوات قائم ہو گی، کاربن کا اخراج کم ہو گا اور پیدا ہونے والے کم بچوں کا معیار زندگی بہت بہتر ہو جائے گا۔ مگر پروفیسر گیٹل بیسٹن کاکیسا نووا کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا ہے ’’قسمت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، ہم اپنی قسمت خود بناتے ہیں‘‘۔ مگر ہمیں درپیش چیلنجز آج بھی ہمارے سامنے بند گلی کی طرح کھڑے ہیں۔ جن ممالک کو بھی کم آبادی جیسے مسئلے کا سامنا ہے ان میں سے ابھی تک کوئی بھی اپنے ہاں افزائش نسل کو اِس سطح تک لے جانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کر سکا جس حد تک جرمنی اضافہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ سکڑتے ہوئے ممالک کے شہریوں کے معاوضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور نہ ہی اِس بات کی کوئی گارنٹی مل سکی ہے کہ کم آبادی ہونے کی صورت میں ماحولیات پر زیادہ دبائو نہیں پڑے گا۔ آبادی کے اکثر ماہرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ مستقبل کے مورخین کو شاید یہ وقت بھی ایک ایسے عبوری دور کی طرح محسوس ہو جب انسانوں نے اِس بات کا ادراک کر لیا تھا یا نہیں کیا تھا کہ ہم اِس کرۂ ارض کو کس طرح زیادہ مہربان اورمہمان نواز بنا سکتے ہیں جس سے اُنھیں اپنی فیملیز کو پروان چڑھانے کا موقع مل جائے۔ کئی ممالک میں ہونے والے سروے سے پتا چلتا ہے کہ لوگ زیادہ بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر اِس کے بعد اُنھیں بہت سی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
اینا پیرولینی اپنی کہانی سناتی ہیں کہ اِس نے ایک بہتر ملازمت کی اُمید پر شمالی اٹلی میں واقع اپنا گھر چھوڑا تھا۔ اب اِس کی عمر 37 سال ہو چکی ہے وہ میلانو میں اپنے دوست کے ساتھ رہتی ہے اور دونوں نے بچے پیدا کرنے کی اپنی خواہش کو فی الحال دبا رکھا ہے۔ اسے یہ خدشہ لاحق ہے کہ ا س کی 2 ہزار یورو کی ماہانہ تنخوا ایک فیملی کو پالنے کے لیے کافی نہیں اور اِس کے والدین ابھی تک وہیں رہتے ہیں جہاں اِس کی پرورش ہوئی تھی۔ اِس کا کہنا ہے کہ ’’یہاں کوئی نہیں ہے جو میری مدد کر سکے۔ میں جونہی بچہ پیدا کرنے کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرا سانس پھولنے لگتا ہے‘‘۔

Check Also

Dealing with informality through taxation

Sorry you have no right to view this Article/Post! Please Login or Register to view …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: