Sunday , May 22 2022
Home / Archive / بلوچستان میں امن کا قیام

بلوچستان میں امن کا قیام

بلوچستان میں امن کا قیام

حالیہ دنوں میں اعلیٰ حکومتی سطح پر بلوچستان کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ گوادر کے دوران اِس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ماضی کی وفاقی حکومتوں نے بلوچستان سے انصاف نہیں کیا اور بلوچستان کے سیاست دانوں نے بھی صوبے کے ساتھ زیادتیاں کیں، اِس خواہش کا برملا اظہار کیا کہ وہ بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی رنجشوں کو، جنھیں ہوا دینے میں بھارت کا بڑا کردار رہا ہے، دور کیا جا سکتا ہے۔ اِس مقصد کے لیے جناب وزیراعظم نے نواب اکبر بگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی کو اپنا معاون خصوصی برائے بلوچستان جب کہ اپنے ایک بااعتماد ساتھی ظہور آغا کو صوبے کا گورنر مقرر کیا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغان سرزمین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے اِس مداخلت کے ٹھوس ثبوت بین الاقوامی سطح پر پیش بھی کیے ہیں۔ بلوچستان میں بغاوت کی تحریکوں کو نہ صرف بھارت نے ہوا دی بلکہ پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔ اب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد کے منظرنامے میں پاکستان کو مزید سنگین چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ اِس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ اب جب کہ خطے میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے، حکومت نے بلوچستان میں ناراض لوگوں کو قومی دھارے میں لانے اور اُن سے مذاکرات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں سے بات کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’بلوچستان کے مزاحمت کرنے والوں سے بھی بات کرنے کا سوچ رہا ہوں، ہوسکتا ہے کہ ماضی کی رنجشیں ہوں، ہندوستان اِن کو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرے لیکن اب حالات وہ نہیں ہیں۔ بلوچستان کے ساتھ مرکز اور صوبے کے سیاست دانوں نے بھی انصاف نہیں کیا جو پیسا آتا تھا وہ ٹھیک سے خرچ نہیں کیا جس سے احساس محرومی پھیل گیا۔‘‘
اِس مقصد کے لیے وزیراعظم نے عوامی جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی کو بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی کے لیے اپنا معاون مقرر کیا ہے جب کہ اِس سے کچھ روز قبل ظہور آغا کو صوبے کا گورنر تعینات کیا تھا۔
رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان ہمیشہ سے ہی ہمارے دشمن کے نشانے پر رہا ہے اگرچہ بلوچستان کے عوام کو وفاق سے شکایات رہی ہیں، جو کسی حد تک جائز بھی ہیں کیوں کہ بلوچستان کو اِس کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق سے محروم رکھا لیکن اِس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے دشمن خاص طور پر بھارت نے بلوچستان کو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر نے کے لیے استعمال کیا ہے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بلوچ عوام کے دلوں میں وفاق کے خلاف نفرت پیدا کر نے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اِن کو ششوں کے نتیجے میں کچھ نوجوان گمراہ ہو کر بھارت کے ہاتھوں پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن بلوچستان کے عوام کی غالب اکثریت آج بھی محب وطن ہے اور اپنے وطن کے لیے ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔ سی پیک اور گوادر کی اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت کے سبب پاکستانی ریاست کے دشمنوں کے لیے بہرحال بلوچستان اپنے وسیع رقبے اور کھلی مغربی سرحدوں کے سبب ایک سوفٹ ٹارگٹ رہا ہے۔
بلوچستان کی سیاست کے 4بڑے نام ایسے ہیں جن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اِن میںبلوچ رہنما میر غوث بخش بزنجو، سردارعطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری اور نواب اکبر خان بگٹی شامل ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کا انحصار مکمل طور پر بیرونی طاقتوں کی حمایت پر ہے۔ اِنھیں مالی اور عسکری لحاظ سے پاکستان مخالف بیرونی قوتوں سے سرپرستی حاصل رہی ہے جن میں بھارت سرفہرست ہے اور کسی بھی طرح سے بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ناکام بنا نا چاہتا ہے۔ بھارت کی اِس سازش میں پاکستان مخالف دوسری قوتیں اور سی پیک مخالف قوتیں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر پاکستان کی موجودہ حکومت وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں بلوچستان کے ناراض نوجوانوں سے بات چیت کر کے اُنھیں منانے میں کامیاب ہو جا تی ہے اور بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی دور ہو جا تا ہے تو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ہو نے سے کوئی نہیںروک سکتا۔ 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کو پہلی بار صوبے کا درجہ ملنے پر حالات کو سدھارنے میں بڑی مدد لی جا سکتی تھی۔ اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ موقع ملا تھا کہ وہ مزاحمت کار بلوچ جنگ جوئوں کو اعتماد میں لے کر ایک ایسی فضا بحال کرتے جس سے علیحدگی پسندوں اور آزادی کا نعرہ لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی۔
اب جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے ناراض بلوچوں سے مذاکرات شروع کر نے کا اعلان کیا ہے، اُن کا کہنا ہے کہ اُن کی حکومت ناراض بلوچ قبائل سے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ صوبے میں مستقل امن و ترقی کے لیے اُن کی شکایات دور ہو سکیں۔ ساتھ ہی اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جن افراد کے تعلقات بھارت سے ہیں اور وہ صوبے میں بدامنی میں ملوث ہیں، اُن کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر صوبے کی ترقی پر توجہ دی جائے تو حکومت کو صوبے میں شورش کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔ وزیر اعظم کاکہنا تھا کہ اُن کا ہمیشہ سے ارادہ تھا کہ جب پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئے گی تو اُن کی حکومت بلوچستان پر توجہ دے گی۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ جب یہاں امن ہوگا اور یہاں کے لوگ سوچیں گے کہ یہ ہمارا بھی پاکستان ہے اور اِس کے لیے ہمیں بھی لڑنا مرنا چاہیے کیوں کہ یہ ہماری بنیادی ضروریات اور مشکلات کا بھی سوچتا ہے۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اُنھیں ماضی کے رنج ہوں اور دوسرے ممالک سے استعمال بھی ہوئے ہوں یا بھارت ان کو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرے لیکن اب صورت حال ویسی نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے لیے 7 کھرب31 ارب روپے کے 131 ترقیاتی منصوبوں کا ارادہ کیا ہے، جب کہ رواں سال کے لیے صوبائی حکومت کا ایک کھرب 80 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام ہے۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کریں گے کہ وہاں خانہ جنگی نہ ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک میں ترقیاتی کاموں میں کئی علاقے پیچھے رہ گئے اور اِس میں بلوچستان کو بھی ہم نے پیچھے چھوڑ دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کو اوپر لے کر آئیں۔ اُنھوں نے کہا کہ گوادر پاکستان کا فوکل پوائنٹ بننے جارہا ہے، یہاں بنیادی سہولیات نہیں تھیں، یہ مسئلہ اب حل کردیا گیاہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے تاہم بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ناراض بلوچوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ کلبھوشن کے بعد بھارت کا دہشت گردی کا دوسرا سب سے بڑا نیٹ ورک تھا جو پاکستان میں بے نقاب ہوا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ ہم نے بلوچستان میں بھی بھارت کے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بہت کامیابی سے توڑا ہے اور اِس میں ملوث عناصر کو پکڑ لیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئے گی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم نے اعلان کیاہے کہ بلوچستان کے وہ ناراض قوم پرست جن کا بھارت سے تعلق نہیں تھا اور جو سیاسی مسائل کی وجہ سے ناراض تھے، اُن کے ساتھ مذاکرات کے لیے باضابطہ طور پر کام شروع کردیا گیا ہے البتہ جو ناراض بلوچ بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے، اُن کے ساتھ کسی صورت مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سی پیک کے ثمرات کے لیے بلوچستان بہت اہمیت کا حامل ہے اور وزیراعظم کا دورہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سی پیک کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان کا معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا لیکن اِس کی وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی ایک بڑی آبادی کو طویل عرصے تک اتنی بڑی سہولت سے استفادہ نہ کرنے دیں لہٰذا وزیراعظم نے اِس حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے، اگر کوئی سکیورٹی کا مسئلہ بنتا ہے تو صورت حال کو وزیر اعظم کے علم میں لا کر عمل کیا جائے گا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ’دہشت گردی کا بھارتی نیٹ ورک‘ کافی حد تک توڑ دیا گیا ہے اور اب حکومت بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ بات چیت کا ایجنڈا طے کرے گی۔
بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کے لیے ضروری ہے کہ اُن اسباب پر نظر ڈالی جائے جس کے سبب بلوچستان میںمحرومیوں کی سوچ پروان چڑھی ہے اگر اِن اسباب کو ختم کیا جاسکے تو بلوچستان کی محرومیوں کا بھی خاتمہ ہو گا اور ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے گا۔ حالیہ مزاحمتی تحریک جس کا آغاز اگست 2006ء میں نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت سے شروع ہوا جس کے بعد بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ری پبلیکن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور لشکر بلوچستان جیسی تنظیموں کو بہرحال اُبھرنے کا موقع ملا۔ اِن 4تنظیموں میں 3کے رہنما یعنی نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی، نواب خیر بخش مری کے بیٹے ہربیار مری اور سردار اختر مینگل کے بھائی جاوید مینگل برسوں سے پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ اِس کے علاوہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق رہنما ڈاکٹر اللہ بخش نذربھی ایک تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دوران فوجی ایکشن نہ ہوا ہوتا تو شاید بلوچستان کا مسئلہ اِس سنگین نہج پر نہ آتا۔ جنرل پرویز مشرف یہ حقیقت نہ جان سکے کہ مری، مینگل اور بگٹی اور بزنجو کی حامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حقیقی نمائندے اگر اسلام آباد اور بلوچستان کی پارلیمانی سیاست سے باہر رہے تو پہلے سے سماجی اور معاشی طور پر محرومیوں کے شکار بلوچوں کے غیض و غضب میں اضافہ ہوگا۔ بلاشبہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے نمائندے کے طور پر جب چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین سید نے نواب اکبر خان بگٹی سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تو اسے نتیجہ خیز بنایا جاسکتا تھا۔ 2013ء کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی منتخب حکومت نے بلوچستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کمانڈ کے ساتھ کلیدی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نیشنل پارٹی کے قائد میر حاصل خان بزنجو کی حکومت کے ڈھائی سال بجا طور پر بلوچستان کی کرپشن اور حبس زدہ صوبے میں خوش گوار ہوا کا جھونکا تھے۔
حکومت کی طرف سے ناراض بلوچوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا اعلان اِس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف اِس حوالے سے سنجیدہ ہے بلکہ وہ بلوچستان کے احساس محرومی کو ختم کر نے کے لیے عملی طور پر اقدامات اُٹھا نا چاہتی ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا بھارتی نیٹ ورک کافی حد تک توڑ دیا گیا ہے اور اب حکومت بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ بات چیت کا ایجنڈا طے کرے گی لیکن حکومت کی طرف سے دو ٹوک انداز میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ جو بلوچ بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے، ان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی صوبے کے لوگ جتنی بھی مشکلات و مصائب سے دو چار کیوں نہ ہوں، اِس کا مطلب ہتھیار اُٹھا کر ریاست کو چیلنج کرنا نہیں ہے۔ بلوچستان میں محرومیوں کے نام پر علیحدگی پسند گروپ وجود میں آئے۔ اُن کے پاس بھاری اسلحہ و بارود بھی ہے، ناموں سے بھی اُن کے کردار اور عزائم کی بو آتی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی، وغیرہ، اِن گروپوں کی قیادت ملک سے باہر پاکستان دشمن قوتوں کے وسائل پر پل رہی ہے۔ محرومی و پس ماندگی کا شکوہ کرنے والا ہر بلوچ ہتھیار بند نہیں ہے لیکن مذکورہ تنظیموں کے شدت پسندوں کے بہکاوے میں آنے والے کچھ لوگ ضرور ہو سکتے ہیں۔ اِن کے ساتھ بات چیت میں تاخیر اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ اُن کے لیے اسی صورت گنجائش نکل سکتی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وقت اور حالات فریقین کے لیے موزوں ہیں۔شرط یہی ہے کہ اعتماد کی فضا کو سب سے پہلے بحال کیا جائے اور تلخ باتوں کو برداشت کرتے ہوئے آگے کی جانب بڑھا جائے اور ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کے اِس عمل کو مؤثر بنانے کے لیے صوبے کی مزید قبائلی و سیاسی بااثر شخصیات کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور اُنھیں اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے اختیارات بھی دیے جائیں تو یقیناً اِن مذاکرات میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔

Check Also

Sociology 21-05-22

Sociology 21-05-22

Leave a Reply

%d bloggers like this: