Monday , October 3 2022
Home / Archive / ایران،ترکی اور روس کی قربتیں

ایران،ترکی اور روس کی قربتیں

Listen to this article

ایران،ترکی اور روس کی قربتیں

نائن الیون کے بعد یوکرین جنگ کو تاریخ کا ایک اور موڑقرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ اس کے بعد دنیا کی سیاست میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ امریکا جنوبی ایشیااور مشرق وسطیٰ سے اپنی بساط لپیٹنے کے بعد ایک دفعہ دوبارہ اسے بچھانے کی کوشش کررہا ہے۔ عرب ممالک اپنی پرانی روش کو چھوڑ کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں، اسرائیل بھی اپنی تنہائی کو ختم کرکے اب سعودی عرب تک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو تیار ہے۔ سعودی عرب اپنی روایتی چادر سے جان چھڑانے کے لیے ہاتھ پائوں ماررہا ہے اور شہزادہ محمد بن سلیمان اس کے لیے پوری طرح عزم کا اظہار کررہے ہیں۔ یورپ میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔ امریکا اور روس کی مخاصمت کا خمیازہ یورپ کو بھی بھگتنا پڑرہا ہے کیوں کہ اب وہ روس کی گیس سے محروم ہوتا جارہاہے۔ نیٹوکے ممالک اب امریکا سے جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔ برطانیہ کے نکل جانے کے بعد یورپی یونین میں مزید بےچینی نظر آرہی ہے۔

اِسی ماحول میں ایک تین ملکی اتحاد قائم ہونے جارہا ہے جس میں روس، ایران اور ترکی شامل ہیں۔ ایران اس سے قبل ہی روس کا حمایتی ہے لیکن ترکی کا شامل ہونا توقعات سے ہٹ کر ہے کیوں کہ ترکی نیٹو میں شامل ہے۔ اس سے نیٹو میں ہونے والی شکست وریخت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کیوں کہ ترکی کو بڑی کوشش کے بعد نیٹو تک رسائی حاصل ہوئی تھی اور اب روس کی طرف جھکائو سے صاف ظاہر ہے کہ وہ امریکا کے اس اتحاد کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا۔

بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کا ردعمل
اس ملاقات کو اس دورے کا ردعمل بھی قراردیا جارہا ہے جو حال ہی میں امریکی صدر جوبائیڈن نے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے کیا ہے۔یہ دونوں دورے یعنی جوبائیڈن کا سعودی عرب کا دورہ اورپیوٹن کا تہران کا دورہ خطے میں ایک نئی دوڑ کے شروع ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کو باور کرانے میں زور صرف کررہی ہیں کہ پرانی وفاداریوں کو پھر سے زندہ کرنے کا وقت آچکا ہے۔ فطری طور پر سعودی عرب امریکا اور ایران روس کا ساتھ دے رہا ہے، البتہ ترکی اس میں ایک نیا اضافہ ہے اور یہ ملاقات اور اس میں ہونے والا معاہدہ اس حوالے سے اہم ہیں کہ کیا ترکی اپنی وفاداری تبدیل کرکے نیٹو سے نکل جائے گایا انڈیا کی طرح دوطرف تعلقات کو قائم رکھے گا۔ مشرق وسطیٰ کے امریکی دورے میں ایک اور چیز اُبھر کر سامنے آئی کہ اب سعودی عرب تیل کی ترسیل اورپیداوار کے لیے امریکا کی ڈکٹیشن کے بجائے اوپیک کے اجلاس کا حوالہ دے رہا ہے اور امریکا کو جواب اوپیک کے اجلاس کے بعد دیا جائے گا کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کررہا ہے یا نہیں اور روس اوپیک کا ایک اہم رُکن ہے۔ اس طرح سے یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ اب سعودی عرب روس کی طرف بھی واضح جھکائو رکھتا ہے اور یہ امریکا ے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے باہم حریف ممالک روس کے پیچھے اکٹھے کھڑے ہوسکیں گے یا نہیں۔ اس وقت ہمیں امریکا کے دو وفادار یعنی سعودی عرب اور ترکی روس کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اِس دورے کی اہمیت اس سے بھی عیاں ہے کہ یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد روس کے صدر پیوٹن کا یہ دوسرا غیر ملکی دورہ ہے جو 19 جولائی 2022ء کو تہران میں ایک سہ ملکی اجلاس کی صورت میں سامنے آیا۔ اس میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، ترکی کے صدر طیب ایردوان اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے شام کی صورت حا ل پر تبادلۂ خیالات کیا۔اسی طرح یوکرینی حملے کے بعد ترک صدر کی روسی صدر کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہے۔ علاوہ ازیں روسی صدر پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی تہران میں ملاقات کی۔ ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ صدر پیوٹن کی سربراہی میں روس نے اپنی آزادی برقرار رکھی ہوئی ہے، ایران اور روس کا طویل مدتی تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔خامنہ ای نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ کسی طرح دنیا کو امریکی ڈالر سے جان چھڑکر اپنی اپنی کرنسی میں تجارت کرنا چاہیے۔

شام کا مسئلہ
اس ملاقات کا بنیادی مقصد شام کی صورت حال ہے اور تینوں ممالک شام میں کسی طرح امن قائم کرنے کے لیے اکٹھے ہورہے ہیں۔ یہ ملاقات شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرانے کے لیے ’’دوستانہ امن عمل‘‘ کا حصہ ہے۔

تینوں ملک شام میں ایک مثلث بنا رہے ہیں جس میں ترکی مخالف گروپ میں ہے جب کہ ایران روس کے ساتھ ہے۔ ایران کی ہمدردیاں شام کی بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ ہیں اور روس بھی اُسی کی پشت پناہی کررہا ہے جب کہ ترکی سنی ملک ہونے کی وجہ سے ایک تو شام کے پناہ گزینوں کا بار اُٹھائے ہوئے ہے اور دوسری طرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لے شام میں کارروائی کرنے پر بھی مجبورہے اور اسی لیے شام میں اُن گروہوں کی مدد کر رہا ہے جنھیں بشارالاسد کی حکومت باغی قرار دیتی ہے۔ علاوہ ازیں نیٹو کارُکن ہونے کی وجہ سے وہ امریکا کے حوالے سے روس کے خلاف ہے اور ہر طرح سے اُسے ہزیمت پہنچانے کی کوشش میں ہے۔ لیکن اب حالات کے بدلائو پر ترکی کا رویہ بھی بدل رہا ہے اور اپنے اندرونی حالات کی وجہ سے اب وہ اپنی خارجہ پالیسی پر بھی نظر ثانی کررہا ہے۔علاوہ ازیں کرد علیحدگی پسند بھی ترکی کاایک بہت بڑ امسئلہ ہیں اور وہ شام کی صورت حال میں بہت زیادہ متحرک ہوگئے ہیں۔ اصل میں ترکی ان کردعسکریت پسندوں کے لیے سب سے زیادہ پریشان ہے۔

ترکی کو اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے آئے روز جنگی صورت حال کو دیکھنا پڑتا ہے اور ماضی قریب میں وہ ایک نیا محاذ کھولنے کی طرف جارہا تھا اور ایران نے اُسے اس سلسلے میں خبردار بھی کیا تھا کہ اس سے صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل ترکی نے کئی آپریشن کیے ہیں جن میں کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ داعش والے اور بشارالاسد کی افواج بھی نشانہ بنتی رہی ہیں۔ اس طرح ترکی پوری طرح سے روسی بلاک کے خلاف سرگرم عمل ہے۔

روسی تجزیہ کار ولادیمیر سوٹنیکوف کا کہنا ہے، ’’ترکی شام میں ایک خصوصی آپریشن کرنا چاہتا ہے جب کہ یوکرین میں روس کا خصوصی آپریشن جاری ہے۔‘‘

گندم کی سپلائی
یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والا ایک بہت بڑا مسئلہ گندم کی ترسیل ہے۔ روس دنیا میں گندم برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔ اسی طرح یوکرین بھی بڑے برآمد کنندگان میں آتا ہے۔ یوکرین کی جنگ میں جہاں یوکرین کی ناکا بندی ہوگئی ہے وہیں روس پر بھی امریکی پابندیوں کی وجہ سے اناج کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ترکی سے روسی صدر کی ملاقات کا ایک پس منظر گندم کی ترسیل کو بحال کرنا ہے۔ ترکی اس سلسلے میں نیٹو اور روس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے اور کوشش کررہا ہےکہ کسی طرح گندم کی یہ ترسیل بحال ہوجائے ورنہ پوری دنیا اس بحران کی شدت سے دوچار ہوگی۔ دوسری طرف یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسپ بوریل نے خبردار کیا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرینی بندرگاہوں کی ناکابندی سے فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار لاکھوں افراد کو اناج کی سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اُنھوں نے اس معاملے کو’بہت سے انسانوں کی زندگی اور موت‘کا مسئلہ قرار دیا ہے۔
ترکی کو اس ثالثی میں کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے اور وہ گندم کی محدود ترسیل کو جاری رکھنے میں ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔

اِس معاہدے سے اوڈیسا، چرنومورسک اور پِوڈینیی کی بندرگاہیں گندم کی ترسیل کرنے کے لیے استعمال ہو سکیں گی۔یہ معاہدہ فی الحال 120پر مشتمل ہے لیکن اُمید ہے اس سلسلے میں مزید پیش رفت ہوگی اور ترک صدر کی حالیہ ملاقات ا س میں ہوسکتا ہے مزید بہتری لاسکے۔

روس اور ایران پر پابندیاں
اس وقت دنیا میں سب سے بڑے گیس کے ذخائر روس کے پاس اور اس کے بعد ایران کے پاس ہیں لیکن دونوں پر امریکی اور یورپی پابندیوں کی وجہ سے ان ذخائر سے باقی دنیا کو فائدہ نہیں ہورہا۔ لیکن اب ایران اپنے آپ کو اس طرح سے امریکی پابندیوں میں جکڑا ہوا خیال نہیں کرتا جیسا کہ وہ پہلے کرتا تھا۔ اس کی ایک بڑی مثال اُن کیمروں کے ہٹانے کی ہے جو امریکا نے 2015ء کے جوہری معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی جگہ پر نصب کیے تھے۔ امریکی صدر کے حالیہ دورے میں جو سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کا کیاگیا جوبائیڈن نے خاص طور پر ایران کا ذکر کرکے کہا کہ ایسا نہیں کہ امریکا خطے میں نہیں ہے تو وہ ایران کو اپنی من مانیاں کرنے دے گا بلکہ وہ خطے کی نقل و حرکت پر نظرجمائے ہوئے ہیں۔ ایران نے اسے امریکا کی ’’ایران فوبیا’’ مہم قرارد یا ہے اور اس الزام کو بھی رد کیا ہے کہ ایران اپنے ڈرون یوکرین کی جنگ میں روس کو دے گا۔

روس ایران تیل معاہدہ
روس اور ایران کے درمیان ایک اور پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان 40بلین ڈالر کا معاہدہ ہے جو ایران کی نیشنل ایرانی آئل کمپنی (این آئی او سی) نے روس کی کمپنی گیس پروم کے درمیان ہوا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق روس ایران کی نارتھ پارس گیس فیلڈز اور چھ دیگر آئل فیلڈز کی ترقی میں ایرانی نیشنل کمپنی کو مدد فراہم کرے گی۔ اس میں مائع گیس یعنی ایل این جی اور اُس کا انفراسٹرکچر بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ اس سے تہران کا گیس درآمد کرنے میں مدد ملے گی۔

نیا بینکنگ نظام
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا بیان اوپر نقل کیا گیا جس میں اُنھوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اپنی اپنی کرنسی میں تجارت ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں حالیہ ملاقات میں ایک اور پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ایک نیا بینکنگ نظام تشکیل دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے جس کا مقصد ڈالر سے ہٹ کرتجارت ہے۔ یعنی دنیا اب روس کے ساتھ ملک کر ڈالر کے بغیر لین دین کرسکے گی۔ امریکا نے روس کو یورپ کے سوفٹ نظام سے بے دخل کردیا ہے جو کہ امریکا کی روس پر ایک بہت بڑی معاشی پابندی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں اب روس ا س کوشش میں ہے کہ کسی طرح ڈالر کے متوازی ایک مارکیٹ قائم کی جائے۔ اس سلسلے میں وہ چین سے بھی رابطے میں ہے اور پاکستان کے وزیراعظم کے فروری 2022ء کے دورے میں اس پر بات ہوئی تھی۔

روس کی سپلائی لائن میں تبدیلی
روس جو کہ یورپ کو گیس اور دیگر چیزیں فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا اب اپنا تجارتی رستہ تبدیل کررہا ہے۔ اس سے قبل چیزیں روس کے دارالحکومت ماسکو سے چلتی تھیں اور سینٹ پیٹرزبرگ پہنچتی تھیں۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ یورپ کی طرف مال کی ترسیل تدریجاً کم ہورہی ہے اور اب یہی مال وسط ایشیائی ریاستوں قازقستان اور ترکمانستان سے ہوکر ایران پہنچ رہے ہیں اور وہاں سے انڈیا جارہے ہیں۔ گو اس کے لیے اُنھیں چارہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑ رہا ہے لیکن یہ اس امر کا عندیہ ہے کہ روس اب اپنے لیے ایک نئی دنیا آباد کررہا ہے اور باقی ممالک بھی اس سلسلے میں اُس سے تعاون کا سوچ رہے ہیں اور اُن میں ترکی ایک اہم ملک ہے۔

ایران کا برکس میں شمولیت کا عزم
اس روٹ کو مزید بہتر کرنے کے لیے ایران اب برکس میں شمولیت کا سوچ رہا ہے۔ روس اس سے مغربی دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کے پاس متبادل ذرائع موجود ہیں جس کے ذریعے وہ اپنا تیل بھی بیچ سکتا ہے اور اور اپنی گندم کی ترسیل بھی بہتر بنا سکتا ہے۔ ایران کے برکس میں شامل ہوجانے کے بعد انڈیا اور روس مزید مؤثر طریقے سے ایران کے ساتھ جڑ جائیں گے۔ جرمن اخبار ‘’دی سائٹ‘ کے مطابق روسی صدر اپنے دورہ تہران کو ’ایران اور ترکی کے دل جیتنے‘ کے لیے استعمال کریں گے۔ روس کی مغرب سے دُوری کے بعد سے کم از کم تہران اور ماسکو کے درمیان فاصلے مزید کم ہو گئے ہیں۔

Check Also

Sociology. 30-09-2022

Listen to this article Sociology. 30-09-2022 Jahangir’s World Times E-mail: jwturdubazar@gmail.com Ph: 0302 555 68 …

Leave a Reply

%d bloggers like this: