Tuesday , September 27 2022
Home / Archive / افغانستان ایک تجارتی ہب

افغانستان ایک تجارتی ہب

Listen to this article

افغانستان ایک تجارتی ہب

تاریخ کے تمام ادوار میں افغانستان مغرب سے مشرق کی طرف آنے والے اور جانے والے قافلوں جو مشرق وسطیٰ اور ہندوستان کے درمیان تجارت کرتے تھے کا ایک اہم سرائے رہا ہے۔اسے وسط ایشیاکا دل کہا جاتا تھا اور شاہراہ ریشم کےرستے میں اہم ترین پڑائو تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سولہویں صدی تک افغانستان ایک خوشحال علاقہ رہا ہے ۔ اب تمام بڑے ممالک اور اہم معاشی طاقتیں افغانستان کی اسی شان کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہیں جو کبھی تھی اور اسے پھر سے تجارت کا مرکز بنانا چاہتی ہیں۔

وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کی تجارت
اگر حال کی بات کریں تو یہ صرف ایک سرائے نہیں رہایہ ایشیا کے رستوں کا سنگم بن چکا ہے۔ افغانستان جغرافیائی طور پر دنیا کے چار گنجان آباد خطوں کے سنگم پر واقع ہے: ان سے مراد جنوبی ایشیا، وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی ایشیا ہیں۔ خاص طور پر وسط ایشیا کو جنوبی ایشیا سے صرف افغانستان ہی جوڑتا ہے اور اس سے تجارت کے وسیع مواقع میسر آرہے ہیں اور مزید امکانات واضح ہیں۔ افغانستان دونوں خطوں کے درمیان مختصر ترین رستہ ہے اور اس طرح سے دونوں میں ہونے والی تجارت کا افغانستان خوب فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

اس رستے سے جنوبی اور وسط ایشا کی تجارت سے اور اگر باقی دوخطوں جن کا ذکر ہوا کو بھی شامل کرلیں افغانستان کے اندر امن اور استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ کیوںکہ تجارت کے شروع ہونے کی صورت میں اس تجارت کو تحفظ دینے کے لیے ضروری ہوگا کہ افغانستان کے اندر امن ہو اور اس کے لیے ظاہر ہے یہ تمام ممالک ایک لائحہ عمل ضرور طے کریں گے۔

وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا اس لیے زیادہ اہم ہیں کہ وسط ایشیا کے ممالک گیس کی دولت سے مالا مال ہیں۔ جنوبی ایشیا کے ممالک خاص طور پر انڈیا اور پاکستان دونوں کو توانائی کی قلت کا سامنا ہے اور انھیں گیس کی اشد ضرورت ہے۔ نیز پاکستان اور انڈیا دونوں چیزوں کی کھپت کے اعتبار سے بڑی منڈیاں ہیں۔ وسط ایشیا کے ممالک یہاں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ وسط ایشیا کے لیے سب سے اہم ترجیح یہاں گرم پانی کا سمند ر ہے اور اگر وہ گوادر کی بندرگاہ کو استعمال کرسکے تو اس کے بہت سے تجارتی دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے۔

گریٹ گیم سے حال تک کا سفر
یہ سلسلہ پہلے اس لیے شروع نہیں ہوسکا کیوں کہ افغانستان گزشتہ دوصدیوں کے عرصے میں گریٹ گیم کا حصہ رہا ہے جس کا مقصد روس کو جنوبی ایشیا اور اصل میں گرم پانیوں سے دُور رکھنا تھا۔ خاص طور پر سرد جنگ میں اور اس کے بعد اب تک بھی افغانستان جنگ وجدل کا مرکز رہا اور ایسی صورت میں یہاں کسی قسم کی تجارت کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔

اب صورت حال تیزی سے بدلنی شروع ہوئی ہے۔ روس ایک دفعہ یہاں سے ہزیمت اُٹھا چکا اور دوبارہ کبھی جنگ کی غلطی نہیں کرے گا بلکہ وہ اُسے تجارت کو بڑھانے کی نظر سے ہی دیکھے گا۔ امریکا شکست خوردگی کا شکار ہوچکا اور کم از کم افغانستان سے اپنی بساط لپیٹ چکا ہے۔ اگر وہ یہاں کسی جنگی منصوبے کا حصہ بنے گا بھی تو پاکستان کے ذریعے ہی بن سکتا ہے۔ یعنی براہ راست امریکا اب افغانستان میں نہیں آئے گا۔ یعنی افغانستان مستقبل میں کسی جنگی ہب کی شکل اختیار کرتا نظر نہیں آرہا۔ البتہ طالبان ایک ایسا عنصر ہیں جن کا ذہن پڑھنا ابھی تک ممکن نہیں۔ ایک طرف وہ عالمی برادری کاحصہ بنے کی خواہش کا اظہار بھی کررہے ہیں لیکن جن گروہوں نے بیس سال امریکا کو لڑ کر شکست دی وہ شرعی قانون کے حوالے سے کسی قسم کے سمجھوتے کو خارج از امکان قراردے رہے ہیں۔ ظاہر ہے جدید دنیا کے قانون بغیر وسیع پیمانے پر تجارت کو قائم کرنا ممکن نہ ہوگا۔

تاپی (TAPI): جنوبی ایشیا کے لیے وسط ایشیا کاتحفہ
اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت ترکمانستان کی گیس کا افغانستان سے گز رکر پاکستان اور انڈیا تک آنے کا منصوبہ ہے۔ اس مناسبت سے اسے تاپی( ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا) گیس پائپ لائن کہا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ 10ارب ڈالر کی لاگت سے 2015ء میں طے پایاتھا جب کہ اس پر کام 2018ء میں شروع ہوا اور دوسال کے عرصے میں مکمل ہوگیا لیکن یہ ابھی تک فعال نہیں ہوسکی۔ فعال ہونے کی صورت میں یہ واقعتاً جنوبی ایشیا کے لیے وسط ایشیا کا ایک بیش قیمت تحفہ ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے دو ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور انڈیا حاصل کریں گے۔

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تووہ اس پائپ لائن کی بدولت 400ملین ڈالر سالانہ کماسکے گا۔ علاوہ ازیںایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت کی صورت میں افغانستان کی تجارت 160فیصد جب کہ خطے کی تجارت میں 111فیصد اضافہ متوقع ہے۔

کاسا(CASA): بجلی کی سپلائی
اس کے علاوہ وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کا ایک اور پلان کاسا (سنٹرل ایشیا سائوتھ ایشیا)ہے جو بجلی کی سپلائی کے حوالے سے ہے۔ یہ لائن بھی افغانستان سے گزر کر پاکستان اور انڈیا تک آئے گی۔ یہ تاجکستان اور کرغزستان سے جنوبی ایشیا کو بجلی فراہم کرے گی۔ اس سے بھی افغانستان کی تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

پاکستان سے افغانستان کی طرف سڑکوں کا نیٹ ورک
کچھ عرصہ پہلے تک افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کے لیے دو شاہراہیں استعمال ہوتی تھیں۔ پہلی کراچی، کوئٹہ، قلعہ عبداﷲ اور چمن سے افغانستان (قندھار) اور دوسری کراچی، پشاور، لنڈی کوتل اور طور خم سے افغانستان ۔ کیوں کہ اس طرف کوئی تجارتی راہداری کا وجود نہ تھا اس لیے ایک لمبے عرصے تک انھی شاہراہوں کو استعمال کیا جاتا رہا۔ امریکا کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کیوں کہ پاکستان فرنٹ لائن اتحادی تھا اور امریکا کی ساری کمک پاکستان کے راستے ہی افغانستان پہنچی تھی اس لیے یہاں نئی سڑکوں کی ضرورت پیش آئی اور امریکا کے لمبے قیام کے باعث مشرف دور کے آخر اور پیپلزپارٹی دور کے آغاز میں یہاں سڑکوں کا جال بننا شروع ہوگیا۔ گو ان سڑکوں کا اولین مقصد تو امریکا کی جنگ میں اُس کی مدد کرنا تھا لیکن امریکا کو افغانستان میں قائم کردہ حکومت کو جواز دینے کے لیے اُسے عالمی صف میں بھی لانا تھا اس لیے یہاں عالمی تجارت کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا جس میں انڈیا پیش پیش تھا اور امریکی دور میں اس نے یہاں بیش بہا سرمایہ کاری کی۔ اور اب جب کہ امریکا یہاں سے جاچکا ہے توان شاہراہوں کو مزید بڑے پیمانے پر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

شاخ نمبر1:سنٹرل ٹریڈ کاریڈور
جنوبی وزیرستان کے راستے، کراچی سے ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، انگوراڈا اور افغانستان

شاخ نمبر2 :برمل، گردیز، کابل تک
شمالی وزیرستان کے راستے، کراچی سے بنوں، میر علی، میرانشاہ، غلام خان اور افغانستان (تنی، گردیز، کابل) مذکورہ شاہراہ کی تعمیر سے نہ صرف کراچی اور کابل کے درمیان فاصلہ کم ہو گیا ہے بلکہ محسود اور وزیر قبائل کو اپنے اپنے علاقے میں ترقی کے لیے آزاد تجارتی راستہ بھی مل گیا ہے۔ مزیدبرآں مستقبل میںیہ شاہراہ وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے علاوہ یورپ تک زمینی رابطے قائم کر کے علاقے میں ترقی، دوستی اور خیرسگالی کی نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔

ایک نئی تجویز کردہ شاہراہ
موجودہ حالات اور بہتر مستقبل کے پیشِ نظر ایک اور شاہراہ جسے ہم Opportunity Corridor بھی کہہ سکتے ہیں، کی تعمیر بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس شاہراہ کی شاخیں اس طرح تعمیر ہو سکتی ہیں۔

شاخ نمبر1 (کرم ایجنسی) کوہاٹ، ٹل، اڑولی، علی منگل اور افغانستان (پیوار پاس، کوالانگر، کابل) پہلے سے موجود شاہراہ کو بہتر کرنے اور اڑولی سے مغرب کی طرف افغان بارڈر تک نئی سڑک کی تعمیر کی ضرورت ہے۔
شاخ نمبر 2 (خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی) پشاور، باڑہ، سلیمان خیل، بھاگ، سدہ، پارہ چنار، علی منگل اور افغانستان۔ (پیوارپاس، کولانگر، کابل) اس شاخ کے لیے صرف سلیمان خیل سے براستہ بھاگ، اڑولی تک 25سے 30کلومیٹر اضافی سڑک تعمیر کرنا پڑے گی اور موجودہ سڑک کو بہتر بنانا ہو گا۔
(سڑکوں کی معلومات بریگیڈئر ایس کے شاہ کے مضمون سے اخذ کردہ ہے۔)

Check Also

MPT One Paper 25-09-2022

Listen to this article MPT One Paper 25-09-2022 Jahangir’s World Times E-mail: jwturdubazar@gmail.com Ph: 0302 …

Leave a Reply

%d bloggers like this: